Aanjhani Jayalalitha Ki Zindagi Ke Utaar Charhao

Posted on December 7, 2016



Dated: December 07, 2016
Aanjhani Jayalalitha Ki Zindagi Ke Utaar Charhao
By: Syed Anwer Mahmood
آنجہانی جے للیتا کی زندگی کے اتار چڑھاؤ
تحریر: سید انور محمود

اگست 1947میں بھارت کی آزادی کے بعد سابق برطانوی صوبہ مدراس پریذیڈنسی کا نام مدراس ریاست رکھا گیا۔ 1969 میں مدراس ریاست کا نام سرکاری طور پر بدل کرتمل ناڈو رکھا گیا۔ تمل ناڈو یعنی تمل لوگوں کی زمین۔ تمل ناڈو بھارت کی 28 ریاستوں میں سے ایک ریاست ہے جو آبادی کے لحاظ سے بھارت کی چھٹی بڑی ریاست ہےاوراس کا دارالحکومت چینائی ملک کا چوتھا بڑا شہر ہے، جبکہ اب چینائی دنیا کا 34واں بڑا شہر بھی ہے۔تمل ناڈو کےدارالحکومت چینائی کا پرانا نام مدراس تھا، اسی کے نام سے ریاست کو بھی جانا جاتا تھا۔ریاست تمل ناڈو کی سیاست کا مزاج کچھ عجیب سا ہے، وہاں یا تو‘‘آل انڈیا انا ڈی ایم کے’’ کی حکومت بنتی ہے جس کی قیادت سابق فلمی اداکارہ جے رام جے للیتا کرتیں تھیں یا پھراس کی حریف‘‘ڈی ایم کے’’ اقتدار میں آتی ہے، جس کی قیادت ام کروناکرن کے ہاتھوں میں ہے جو خود ایک سابق فلمی اداکارہ ہیں۔ ابتدا میں کانگریس بھی ایک بڑی پارٹی ہوا کرتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ ریاست میں ایک چھوٹی پارٹی بن کرمحدود ہوگئی۔ گذشتہ 32 سال سے ریاست میں دو جماعتیں ‘‘آل انڈیا انا ڈی ایم کے’’ یا ’’ڈی ایم کے‘‘ باری باری سےاقتدار میں آتی رہی ہیں۔

سولہ مئی 2016 کوریاست تمل ناڈو کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیتنے والی ریاست کی وزیراعلیٰ جے للیتا پیر پانچ دسمبر2016 کی رات انتقال کرگیں۔ جے للیتا اپنی ریاست کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں بھی مقبول تھیں۔68سالہ جے للیتا کئی ماہ سے صحت کے مسائل سے دوچار تھیں، جے للیتا 22 ستمبر 2016سے ہسپتال میں زیر علاج تھیں اور چند ہی روز قبل انھوں نے بطور وزیر اعلیٰ اپنی ذمہ داریاں نائب وزیر اعلیٰ کو سونپی تھیں۔سابق فلمی اداکارہ جے للیتا چار مرتبہ تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ بنیں، ان کے حامی انھیں ‘اماں’ کہہ کر پکارتے ہیں۔ سیاست میں نام کمانے سے پہلے جے للیتا نے فلمی دنیا میں پہچان بنائی۔ جے للیتا کلاسیکی موسیقی، مغربی کلاسیکی پیانو اور کلاسیکی رقص میں بھی مہارت رکھتی تھیں۔بھارتی ریاست تمل ناڈو کی’ اماں‘ کہلائی جانے والی جے للیتا کی سیاسی زندگی بھی فلمی تھی۔نوجوانی میں ’امو‘کے نام سے مشہور جے للیتا کی والدہ بھی اداکارہ تھیں۔ تیرہ برس کی عمر میں جے للیتا پہلی بار بڑے پردے پر نظر آئیں۔1965 میں تمل سنیما کی افسانوی شخصیت ایم جی رام چندرن کی ہیروئن بنیں۔جے للیتا نے ایک سو چالیس فلموں میں کام کیاجن میں سے ایک سو بیس سپرہٹ تھیں ۔ وہ 1968 میں بھارتی فلم ’عزت‘ میں بالی وڈ ایکشن ہیرو دھرمیندر کی بھی ہیروین بنیں۔

تمل ہیرو ایم جی رام چندرن نے 1972میں ‘‘آل انڈیا انا ڈی ایم کے’’ پارٹی کی بنیاد رکھی۔مخالفین کی انتخابی مہم ناکام بنانےکے لئے کسی کرشماتی شخصیت کی ضرورت پڑی تو اس تمل ہیرو نے اپنی ہیروئن جے للیتا کا ہی انتخاب کیا۔ 1987 میں رام چندرن کے انتقال کے تقریباً تین سال بعد پارٹی اور حکومت کی ذمہ داری جے للیتا کے ہاتھوں میں آگئی۔ وہ دیہی علاقوں کےغریبوں کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئیں۔ جے للیتا 1989 میں ریاست تمل ناڈو کی پہلی خاتون قائد حزب اختلاف منتخب ہوئیں۔1991 میں پہلی بار ریاست کی خاتون اور کم عمر وزیر اعلی بنیں اور چار مرتبہ اس عہدے پر فائز رہیں۔1991 میں جے للیتا کے تمام اثاثوں کی مالیت تین کروڑ روپے تھی اور انہوں نے وزیر اعلی کے طور پر ماہانہ صرف ایک روپیہ ٹوکن تنخواہ لی تھی۔ وزیر اعلی بننے کے بعد ان کے پاس کئی بینک کھاتوں میں کروڑوں روپے کے علاوہ مختلف ناموں کی کمپنیاں، 30 کلو سونا ، ایک تفریحی مقام کے پاس ایک ہزار ایکڑ زمین، بارہ ہزار ساڑھیاں اورہزاروں جوڑی جوتے پائے گئے تھے۔ میڈیا نے ان کی شاہانہ زندگی کو نشانہ بنایا۔ اپنے بیٹے کی شادی پر روپیہ پانی کی طرح بہانے پر ان کے خلاف کرپشن کے الزامات لگے۔ ان پر ماضی میں اپنے حریفوں پر تشدد کروانے سے لیکر ٹیکس کے پیسے سے اپنے رشتہ داروں کی شاہانہ شادیاں کروانے کے الزامات لگ چکے ہیں۔

جے للیلتا کو 2014 میں غیرقانونی طور پر جائیداد بنانے کے الزام میں چارسال کی سزا ہوئی لیکن اگلے ہی برس انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انتخابات کے دنوں میں لوگوں کو مختلف تحائف جیسے الیکٹرانک بلینڈر، بکریاں، سونا وغیرہ تقسیم کرتی تھیں۔ان کا شمار ملک کی سب سے رنگا رنگ سیاسی شخصیات میں کیا جاتا تھا۔ ان کے چاہنے والے انہیں ایک دیوی کی طرح پوجتے تھے اور وہ ایک لمبے عرصے سے تمل ناڈو کی سیاست پر چھائی ہوئی تھیں۔ جے للیتا کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذاتی مقبولیت میں اضافہ کرتی رہی ہیں اور تب سے ان کے شاہانہ طرزِ زندگی کے قصے انڈیا میں بہت مقبول ہیں۔ان کے کئی چاہنے والے اُن سے اپنی وفاداری کے دعوے عجیب طرح کی کارروائیوں کے ذریعے کرتے تھے جیسا کہ گرم انگاروں پر چل کر یا اپنے خون کے ساتھ ان کی تصویر بنا کر۔کئی مواقع پر ان کے وزراء ان کے قدموں میں سجدہ کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ان کی آل انڈیا انا ڈی ایم کے پارٹی صرف انھی کے نام پر چلتی تھی۔ جے للیلتا کے مخالفین ان کے خلاف مظاہرے کرتے رہے ہیں اور ان پر متعدد الزامات لگاتے رہے ہیں۔ بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے جب ستمبر 2014 میں انھیں وزیر اعلی کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تو ان کے جانشین پنیرسیلوم نے وزیر اعلی کا عہدہ تو عارضی طور پرسنبھالا لیکن ان کی کرسی پر بیٹھنے سے انکار کردیا تھا۔ مستعفی ہونے کے بعد انہیں تین ہفتے جیل میں گزارنا پڑے تھے۔ اس کیس میں ہائی کورٹ نے انہیں بری کردیا تھا لیکن انھیں بدعنوانی کے کئی دیگر الزامات کا سامنا تھا۔ اس سے پہلے 1996 میں بھی انہوں نے کچھ وقت جیل میں گزارا تھا۔

جے للیتا کی سب سے مقبول سکیم شاید ‘اما کچن’ تھی جہاں غریبوں کو دو تین روپے میں کھانا دیا جاتا ہے۔ تمل میں ‘اما’ اماں کو کہتے ہیں، اور انھیں ان کے چاہنے والے یہی کہہ کر پکارتے ہیں۔تمل ناڈو کا شمار ملک کی صف اول کی ریاستوں میں کیا جاتا ہے، وہاں غریبوں کے لیے بڑے پیمانے پر فلاحی سکیمیں چلائی جاتی ہیں اور تجزیہ نگاروں کے مطابق ریاست کو ترقی کی راہ پر لانے میں جیاللتا نے اہم کردار ادا کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست تمل ناڈو اس وقت دو لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی مقروض ہے۔ جے للیتا کو اس الزام کا بھی سامنا تھا کہ وہ پرتعیش زندگی گزارتی تھیں۔ 2009 میں انہوں نے قومی سیاست میں زیادہ سرگرم رول ادا کرنے کی کوشش کی تھی اور ان کا نام ممکنہ وزیراعظم کے طور پر بھی لیا گیا تھا لیکن انہوں نےخود کبھی اس خواہش کی تصدیق نہیں کی۔جے للیتا کی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آئے۔ کبھی جیل تو کبھی شاندار انتحابی کامیابیاں، انہیں شاید ایک ایسے حکمران کے طور پر یاد کیا جائے گا جس کی سیاسی زندگی بھی فلمی تھی۔ماضی کی فلمی ہیروئین جے لیلتا اپنی سیاسی زندگی کے دوران بدعنوانی کے الزامات کا دفاع کرنے کے لیے زیادہ تر عدالتوں کے چکر لگاتی رہی ہیں۔ بدعنوانی کے جرم میں قید اور جرمانے کا سامنا کرنے والی جیارام جےللیتا بھارت کے ان مشہور مگر متنازع سیاستدانوں میں سے ہیں جن کی سیاسی زندگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔