کشمیریوں کا غصہ دب گیا، ٹھنڈا نہیں ہوا

Posted on December 4, 2016



کشمیر میں ہندمخالف مزاحمت کا تازہ مرحلہ27 سال مکمل کرچکا ہے۔ اس پورے عرصے میں کبھی بھی پانچ ماہ تک ہڑتال یا تین ماہ تک مسلسل کرفیو نافذ نہیں رہا۔

یہ پہلا موقعہ ہےانسانی حقوق کے نہایت سرگرم کارکن خرم پرویز کو بھی 76 روز تک جیل میں قید کیا گیا اور تاریخی جامع مسجد پانچ ماہ تک مقفل رہی۔ انٹرنیٹ اور فون رابطوں پر بھی قدغن لگائی گئی۔

جمعہ کو پانچ ماہ کی نظربندی کے بعد پہلی مرتبہ میرواعظ عمرفاروق نے جامع مسجد میں جعمہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔ خرم پرویز عدالتی حکم پر رہا کئے گئے ہیں۔ فون رابطے اور انٹرنیٹ کی سہولات بھی بحال کی گئی ہیں۔
مظاہرین کے خلاف وسیع پیمانہ کے کریک ڈاون کی وجہ سے اب پتھراؤ یا مظاہروں کے بہت کم واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اور علیحدگی پسندوں کی طرف سے ہڑتال کا جو کیلنڈر جاری کیا جاتا ہے، اس پر صرف معروف بازاروں اور قصبوں میں عمل کیا جاتا ہے۔

حکمراں طبقہ تو اس صورتحال کو علیحدگی پسندی کے نظریہ کی شکست سے تعبیر کررہا ہے۔ لیکن علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ مقامی حکمرانوں نے حکومت ہند کی ایما پر کشمیر میں ظلم و جبر کا جو بازار گرم رکھا ہے، اس کا ردعمل ضرور ہوگا۔

جولائی میں مسلح رہنما برہان وانی کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد برپا ہوئی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے جو وسیع آپریشن ستمبر میں شروع کیا گیا تھا اُسی کے نتیجہ میں مظاہروں، تصادموں اور ہلاکتوں کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ لیکن کسی سیاسی رعایت کے بغیر احتجاجی تحریک کے ماند پڑنے سے عوامی حلقوں میں بے چینی اور بے اطمینانی پیدا ہوگئی ہے۔ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ماہر الطاف بشیر کہتے ہیں ’کشمیریوں کا غصہ دب گیا ہے، ٹھنڈا نہیں ہوا۔ حکومت ہند نے ہر بار یہاں علامتی امن کے لئے کام کیا۔ اگر پارلیمنٹ سے لے کر بھارت کی این جی اوز تک سب کہتے ہیں کہ کشمیریوں کی سیاسی خواہشات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے تو حکومت کیوں سیاست کے بجائے طاقت کا استعمال کررہی ہے۔‘

حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کو عوامی اعتماد اس لیے حاصل ہے کیونکہ وہ غالب سیاسی خواہشات کی بات کرتے ہیں۔ لیکن پانچ ماہ کے دوران تقریباً سو افراد کی ہلاکت، پندرہ ہزار زخمی لوگوں کی ٹھنڈی آہیں اور گرفتار کیے گئے سینکڑوں نوجوانوں کے والدین کی سسکیاں حریت کانفرنس کے لئے ایک سیاسی چیلنج بن کر ابھری ہیںکالم نویس اعجاز ایوب کہتے ہیں ’یہ اتفاق ہے یا کچھ اور، اُڑی حملے کے بعد عالمی فوکس ایل او سی پر چلا گیا ہے۔ دنیا کو فکر ہے کہیں بھارت اور پاکستان جنگ نہ کربیٹھیں۔ پانچ ماہ تک یہاں جو قتل و غارت ہوئی اس پر نہ کسی سے کوئی سوال پوچھا جارہا ہے، نہ متاثرین کے لئے کوئی ہمدردی کے دو بول بول رہا ہے۔ یہ صورتحال لوگوں میں تھکاوٹ اور شکست کا احساس تو پیدا کررہی ہے، لیکن نوجوان طبقہ اپنے غصے کو نئے انداز سے ظاہر کرنے پر مجبور بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بات بھارت کو سمجھ کیوں نہیں آتی؟