پانامہ لیکس ۔ کچھ سوالات

Posted on December 4, 2016



پانامہ لیکس ۔ کچھ سوالات

شیراز خاکوانی (Twitter: sherazkhakwani)

جیسے جیسے پانامہ لیکس کا کیس آگے بڑھ رہا ہے میرے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا ہر فیصلہ باقی عدالتوں کے لئے نظیر ہوتا ہے، اگر چہ کہ اکثر ہماری سپریم کورٹ بندہ دیکھ کی ہی فیصلہ کرتی ہے اور جس بنیاد پر ایک پارٹی کے خلاف فیصلہ دیا جاتا ہے اسی بنیاد پر دوسری پارٹی کے خلاف بالکل الٹ فیصلہ دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے شریف کورٹس اور لاڑکانہ کی وزیرِاعظم کے لئے ایک انصاف اور لاہور کے وزیرِاعظم کے لئے دوسرے انصاف کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ اسی سپریم کورٹ نے معمولی معمولی باتوں اور معمولی معمولی رقوم پر اب تک تقریباََ ایک درجن ممبرانِ قومی اور صوبائی اسمبلی کو فارغ کیا ہے لیکن نواز شریف کیس میں جہاں اتنے بڑے بڑے تضادات ہیں اور اربوں نہیں کھربوں کا معاملہ ہے وہاں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا۔ خیر میرے پوچھنے کا مقصد تو یہ ہے کہ کل کو اگر میں بھی کوئی کرپشن یا لوٹ مار کروں تو کورٹ میرے بھی وہی بہانے تسلیم کرے گی جو شریف برادران آج کل کر رہے ہیں۔
۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اگر میں لوٹ مار سے دولت کمائوں اور اپنی اولاد کے نام منتقل کر دوں اور اولاد کو باہر سیٹل کرادوں اور پھر ان سے لے کے کھاتا رہوں تو یہ غیر قانونی تو نہیں ہو گا؟ اگر نواز شریف کے بچے بیس بائیس سال کی عمر میں بغیر کسی ابتدائی رقم اور بغیر کوئی چیز رہن رکھوائے ارب پتی بن سکتے ہیں تو ہمارے بچے کیوں نہیں بن سکتے؟
۔ اگر باہر سے کوئی خط آئے تو کیا خط لکھنے والے کا شہزادہ ہونا ضروری ہے یا کوئی بھی خط لکھ کے کہہ سکتا ہے کہ اس بندے کے پاس جو رقم ہے وہ میری دی ہوئی ہے؟ اگر قطری شہزادے کا خط بغیر اسے بلائے اور بغیر منی ٹریل کے قبول کیا جاتا ہے تو پھر تو مزے ہی آگئے ۔ کل کو جو بھی پکڑا جائے گا وہ کسی قطری، اماراتی، عربی، امریکی کا خط لے کے آجائے گا اور صاف بچ جائے گا۔ اصولاً تو قانون اندھا ہوتا ہے اسے شہزادے اور عام آدمی میں فرق کرنا تو نہیں چاہیئے ۔

۔ اگر اخبارات کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑوں سے زیادہ نہیں تو کانا دجال چوہدری صاحب نے جو غدر مچایا ہوا تھا وہ کیا تھا؟ اس کے نیچے تو یہی جج صاحبان تھے جو آج کل بھی سپریم کورٹ میں ہیں۔ کیا انہیں کہنا نہیں چاہیئے تھا کہ حضور ان خبروں کی کوئی حیثیت نہیں اور صرف ان خبروں پہ آپکو حکومت کو تنگ نہیں کرنا چاہیئے؟ کیا سپریم کورٹ بھی ایک فوجی ادارہ ہے کہ جس میں چیف نے جو حکم کر دیا وہ حرفِ آخر ہو گیا؟ حالانکہ نوازشریف کے کیس میں ان خبروں کی اہمیت اس لئے ہے کیونکہ اخبارات نے یہ خبریں نوے کی دہائی میں دی تھیں جبکہ شریف فیملی یہ کلیم کرتی ہے کہ ہم نے یہ فلیٹ ۲۰۰۶ میں خریدے۔ تو کیا ان اخبار والوں پر وحی اتری تھی کہ آج سے کئی سال بعد یہ فلیٹ شریف فیملی خریدے گی اس لئے یہ خبریں آج ہی دے دو؟ ساری مہذب دنیا میں خبر لگنے کے بعد ایک ہلچل مچ جاتی ہے، ادارے حرکت میں آجاتے ہیں، لوگ استعفے دے دیتے ہیں۔ لیکن کیا زبردست ملک ہے پاکستان کہ جب تک عمران خان نے گردن پر انگوٹھانہیں رکھا تب تک ملک کا ایک بھی ادارہ حرکت میں نہیں آیا۔ ۔ ایک اور سوال یہ کہ کیا قانون ملک کے سربراہ پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے جس طرح عام آدمی پر؟ یہ سوال میں ایک الٹ انداز سے پوچھ رہا ہوں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا ملکی سربراہ کے معاملات زیادہ شفاف نہیں ہونے چاہئیں؟ وہی ملکی سربراہ جب جب اکنامک ریفارمز ایکٹ بناتا ہے اور پھر سب سے زیادہ فائدہ بھی خود ہی اٹھاتا ہے تو کیا یہ مفادات کا ٹکرائو نہیں؟ کلنٹن کیس کی ہی مثال لیجئے۔ کیا امریکی منہ کالا نہیں کرواتے یا جھوٹ نہیں بولتے کہ کلنٹن بیچارے کو اتنی مصیبت میں ڈالا؟ وہاں بھی یہی کہا گیا کہ سربراہ مملکت پر قانون پر کی عملداری اور اخلاق کی پابندی زیادہ سختی سے لاگو ہوتی ہے۔

۔ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ لندن فلیٹس ناجائز ذرائع سے بنائے گئے تو کیا یہ فلیٹس عمران خان کو مل جائیں گے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر ہر جج اور ہر اینکر ہر بار عمران خان سے یہ کیوں کہتا ہے کہ ثبوت لے کے آئیں۔ جب ایک دفعہ یہ طے ہوگیا کہ یہ صرف دو پارٹیوں کا معاملہ نہیں اس لئے کیس ایڈورسوریل نہیں بلکہ انکوئزیٹوریل ہے تو پھر ہر روز ایک ہی بات سننے کو کیوں ملتی ہے؟ اس کے علاوہ اب تک کورٹ نے یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ساری منی ٹریل عدالت میں جمع کروائی جائے جو کہ اس سارے کیس کی بنیاد ہے؟ ابھی تک سب بچوں کو بلا کر ان کے سامنے ان کے انٹرویو کیوں نہیں چلائے گئے تاکہ یا تو وہ ان کی وضاحت کریں یا پھر اپنی ہی کی گئی باتوں کو جھٹلائیں؟ ابھی تک تو عدالت نے پورا پورا موقع دیا ہے کہ جھوٹے خط لکھوائیں، جعلی دستخطوں سے نئی نئی دستاویزات بنوائیں اور اپنے مطلب کی آئینی ترامیم پاس کروائیں۔
۔ اور آخری سوال یہ کہ کیا وزیرِاعظم کی بات کی کوئی اہمیت بھی ہے؟ اگر ملک کا وزیرِاعظم اسمبلی میں کھڑے ہو کر کوئی بات کرتا ہے تو کیا یہ بات اہم نہیں کہ وہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ؟ جب وزیرِاعظم نے یہ کہا کہ ہم نے دبئی کی اسٹیل مل بیچ کے جدہ کی اسٹیل مل لگائی اور جدہ کی اسٹیل مل بیچ کر لندن کے فلیٹس لئے تو اس دوران ان کو بھول گیا تھا کہ درمیان میں کہیں قطر بھی آتا ہے؟ قطری کا خط پڑھیں تو لگتا ہے کہ ان کی اگلی پچھلی دس پشتیں جو کھا رہی ہیں وہ تو ملا ہی قطر سے ہے تو ان کو دبئی ، جدہ ، لندن یاد رہے لیکن جس جگہ سے وہ پیسہ آیا وہ جگہ یاد نہیں رہی؟ غلط بیانی اور کسے کہتے ہیں؟

اس کیس میں اگر سپریم کورٹ نے کسی ٹیکنکل بنیاد پر فیصلہ دیا اور شریف برادران کو کلین چٹ دی تو عدلیہ کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی ۔ اگر لوگ مارشل لاء کے ڈنڈے سوٹے کھا کے بھی باہر نکلتے ہیں تو یقینا توہینِ عدالت کا کالا قانون اور چینلز کو بند کرنے جیسے گھٹیا ہتھکنڈے بھی زیادہ دیر تک لوگوں کی زبانیں بند نہیں کر سکیں گے۔