امریکہ میں ”حلقہ کھولو “ سیاست

Posted on November 30, 2016

امریکہ میں ”حلقہ کھولو “ سیاست

آزادی صحافت
محسن ظہیر ۔۔۔(نیویارک)

امریکہ میں ”حلقہ کھولو “ سیاست

امریکہ کے صدارتی الیکشن 2016کے فاتح ڈونلڈ ٹرمپ (ریپبلکن پارٹی ) کو (آخری گنتی تک )کل 62,379,366ووٹ ملے جبکہ ہیلری کلنٹن (ڈیموکریٹ پارٹی) کوکل64,469,963ووٹ ملے ۔اگرچہ اس الیکشن میں ہیلری کلنٹن کو اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں بائیس لاکھ سے زائد ووٹ ملے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب قرار پائے کیونکہ یہاں صدر کا انتخاب جنرل الیکشن میں ملنے والے ووٹس(جن کو پاپولر ووٹس بھی کہا جاتا ہے ) کی بنیاد پر نہیں بلکہ الیکٹورل کالج کے ووٹس (جن کا تعین ہر ریاست کی بنیاد پر الگ الگ کیا جاتا ہے )کی تناسب پر کیا جاتا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کو ہیلری کلنٹن کے 232کے مقابلے میں الیکٹورل کالج کے کل 306ووٹ ملے جن کی بنیاد پر امریکہ کے 45ویں صدر منتخب ہوئے ۔

امریکہ میں بنیادی طور پر دو جماعتی سسٹم ہے ۔بالعموم دنیا ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دو اہم امریکی سیاسی جماعتوں کو جانتی ہے لیکن یہاں لبرٹیرئین پارٹی اور گرین پارٹی بھی اپنا وجود رکھتی ہیں ۔انتخابی سیاست میں انہیں قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوتی ، اس لئے لوگوں میں ان کے بارے میں آگاہی بھی کم ہے

ان دو جماعتوں جن کے امیدواروں کو تھرڈ پارٹی امیدوار بھی کہا جاتا ہے ، میں سے گرین پارٹی کا آجکل امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں چرچا ہو رہا ہے ۔وجہ یہ ہے کہ گرین پارٹی نے 8نومبر2016کو ہونیوالے صدارتی الیکشن کو چیلنج کر دیا ہے ۔ اس پارٹی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی پچاس میں سے تین اہم ریاستیں وسکانسن، پنسلوینیا اور مشی گن ،جہاں صدارتی امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا، میں ووٹوں کی دوبارہ ہونی چاہئیے ۔

پاکستان میں ”حلقہ کھولو “ سیاست کے بانی عمران خان کو قرار دیا جاتا ہے ۔امریکہ میں اس سیاست کے حالیہ محر ک سابقہ امریکی نائب صدر و سابق ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار الگور ہیں ۔ انہیں 2000کے صدارتی الیکشن میں اپنے ریپبلکن حریف جارج بش سے صرف537ووٹوں سے شکست ہوئی ۔ رات تک الگو جیت گئے تھے ، لوگ جب صبح اٹھے تو جارج بش فاتح قرار دے دئیے گئے تھے جس پر الگور سمیت کروڑوں امریکی حیران ہوئے ۔الگور نے فلوریڈا میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی (جسے پاکستانی سیاست میں فلوریڈا کا حلقہ کھولنے کا مطالبہ کہا جا سکتا ہے ) کا مطالبہ کیا۔معاملہ عدالت میں گیا ، بعد ازاں تین ہفتے کی قانونی و عدالتی معاملات کے بعد جارج بش کی کامیابی کو برقرار رکھا۔

الگور کے بعد گرین پارٹی کی الیکشن 2016کی صدارتی امیدوار جل ایلن سٹائین نے ”حلقہ کھولو “ سیاست کو آگے بڑھایا۔حالیہ صدارتی الیکشن میں گرین پارٹی نے جل سٹائین کو کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا۔وہ2012کے صدارتی الیکشن میں بھی امیدوار نامزر ہوئی تھیں اور 2002اور2010میں میسا چیوسٹ ریاست سے گورنر کے الیکشن میں بھی طبع آزمائی کر چکی ہیں ۔بنیادی طور پر شکاگو سے تعلق رکھنے والی جل سٹائین کے والدین رشین یہودی تھے ۔ اگلے روز انہوں نے الیکشن کے بعد ووٹوں کی گنتی کی دوبارہ ڈیڈ لائین ختم ہونے سے پہلے بور ڈ آف الیکشن میںپٹیشن دائر کر دی ۔

امریکی ریاست وسکانسن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو 1,409,467جبکہ ہیلری کلنٹن کو 1,382,210ووٹ ملے ۔ یوں وہ اس ریاست میں 27,258کی برتری سے کامیاب ہوئے تاہم گرین پارٹی کی صدارتی امیدوار جل سٹائین کو 30,980ووٹ ملے۔
گرین پارٹی کا مطالبہ ہے کہ وسکانس کے علاوہ مشی گن اور پنسلوینیا میں بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے ۔
پنسلوینیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کو 2,912,941جبکہ ہیلری کلنٹن کو 2,844,705ووٹ ملے ۔ یوں یہ ریاست بھی مسٹر ٹرمپ نے تقریبا ایک فیصد ووٹوں (68,236)کی برتری سے جیتی۔ پنسلوینیا میں جل سٹائین کو کل 48,912اور لبرٹیرئین پارٹی کے صدارتی امیدوار گیری جانسن کو 142,653ووٹ ملے ۔
مشی گن میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن میں کانٹے دار مقابلہ ہوا۔ ٹرمپ کو 2,279,805جبکہ ہیلری کلنٹن کو 2,268,193ووٹ ملے ۔ یوں اس ریاست سے ٹرمپ11,612ووٹوں کی برتری سے فاتح قرار پائے لیکن اسی حلقے (مشی گن سٹیٹ ) میں گرین پارٹی کی جل سٹائین کو 50,700اور لبرٹیرئین پارٹی کے گیری جانسن کو 173,057ووٹ ملے ۔دیگر تھرڈ پارٹی امیدواران 19,162لے گئے ۔
الیکٹورل کالج میں وسکانسن کے 10، پنسلوینیا کے 20اور مشی گن سٹیٹ کے 16ووٹ ہیں ۔ اگر الیکشن کمیشن ان تینوں ریاستوں کے انتخابی نتائج کو ہیلری کلنٹن کے حق میں قرار دے دیتا ہے تو ہیلری کلنٹن کو کل46الیکٹورل کالج ووٹ زیادہ مل جائیں گے۔
گرین پارٹی کو چند ہفتے قبل پہلی شہرت اس وقت ملی کہ جب اس نے تین ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کا مطالبہ کیا اور دوسری بار اب وہ خبروں کی زینت اس وقت بن رہی ہے کہ جب ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے ان کی ”حلقہ کھولو“ سیاست کی تائید کر دی گئی ہے ۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے قانونی مشیرمارک ایلیاس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ ڈیموکریٹک پارٹی کو حالیہ الیکشن میں ووٹنگ سسٹم میں ہیکنگ کے کوئی شواہد موصول نہیں ہوئے اور نہ ہی پارٹی ایسی کسی تحقیق کا مطالبہ کررہی ہے تاہم پارٹی سمجھتی ہے کہ انتخابی عمل میں شامل ہر فریق کو حق حاصل ہے کہ وہ الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے کےلئے اپنی ہر ممکن تسلی کرے ۔
منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حلقہ کھولو سیاسی پیش رفت پر حسب توقع لیکن برخلاف ان کے ماضی کے موقف ،ردعمل سخت آیا۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران متعدد بار انتخابی نظام کو چیلنج کیا اور ایک مباحثے کے دوران تو انہوں نے یہاں تک کہا کہ وہ اگر ہار گئے تو انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے باالفاظ دیگر انہوں نے بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران حلقہ کھولو سیاست کا عندئیہ دیا تھا ۔الیکشن جیتنے کے بعد وہ شروع میں تو انہوں نے ”رات گئی، بات گئی“ والی سیاست کی لیکن اب وہ بھی الٹا کہہ رہے ہیں کہ ہاں الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ مقبول ووٹوں میں بھی ہیلری کلنٹن کے مقابلہ میں برتری حاصل کرتے ۔
حالیہ امریکی الیکشن میں ممکنہ دھاندلی اس وقت موضوع گفتگو بنی کہ جب الیکشن سے کچھ مہینے قبل ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی (ڈی این سی ) کی ای میلز اکاو¿نٹس کو ہیکرز نے ہیک کیا ۔ہیکنگ کے اس انکشاف کے بعد سیاست میں انتخابی نظام کی سیاست پر شورو غوغا ہوا ، انگلیاں اٹھائی گئیں لیکن (اوبامہ )انتظامیہ خاموش رہی ۔تاہم الیکشن سے ٹھیک ایک ماہ قبل واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے باقاعدہ طور پر رشین ہیکرز پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ انتخابی نظام میں مداخلت کررہے ہیں اور ان ہیکرز کے لئے ایسا رشین گورنمنٹ کی مدد اور منظوری کے بغیر ممکن نہیں ۔امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری جے جانسن کی جانب سے مقامی اور ریاستی سطح پر الیکشن کمیشن کے حکام سے کہا گیا کہ وہ کسی بھی قسم کی سائبر گڑبڑ کے حوالے سے چوکنا رہیں اور مدد کی صورت میں فوری فیڈرل گورنمنٹ سے رابطہ کریں ۔
8اور9نومبر کی درمیانی رات ہیلری کلنٹن کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو کی جانیوالی فون کال اور الیکشن میں اپنی شکست کے اعترا ف کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی کی سیاست کا باب بند ہو گیا ہے تاہم گرین پارٹی کی جل سٹائین کی جانب سے تین حلقے کھولنے کے مطالبے اور ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے اس اقدام کی تائید سے لگتا ہے کہ دھاندلی کی سیاست کا باب ابھی بند نہیں ہوا!!!

امریکہ میں ”حلقہ کھولو “ سیاست

Videos Going Viral

What was the Condition of Bush
Justice (r) Nasira Is Insultin
What is the Condition of Junai
Maulana Tariq Jamil Arrived at
Check Simplicity Of Imran Khan
Live With Dr Shahid Masood –
Is Case Ka Faisla 2 Din Mein S
Sialkot Mian Pilot Jahaz Chor
Haroon Rasheed’s Analysi
People Came Out Against Qatari