امریکہ میں سونامی آگئی

Posted on November 22, 2016

محسن ظہیر….امریکہ سے
سونامی سمند ر کے سینکڑوں، ہزاروں فٹ نیچے سطح پر آنے والے زلزلے کو کہتے ہیں۔یہ زلزلہ جب آتا ہے تو سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔اپنے راستے میں حائل تمام رکاوٹوں کو توڑ ڈالتا ہے۔دنیا کے بیشتر لوگ زلزلے کے لفظ اور اس کے معنی سے تو بخوبی واقف ہیں لیکن سونامی کے بارے میں عام آدمی کو بھی اس وقت پتہ چلا ہے کہ جب چند سال قبل ایشیائی ممالک اس کی زد میں آئے اور اس کی تباہ کاریوں کے اثرات سے ابھی بھی باہر آنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان سونامی سے محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ وطن عزیز اور دنیا کو اس آفت سے ہمیشہ محفوظ رکھے لیکن پاکستان کے عوام تحریک انصاف اور عمران خان کے جلسوں میں (سیاسی )سونامی کی اصطلاح بار بار استعمال ہونے کی وجہ سے اس سے بخوبی آگا ہ ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ محکمہ موسمیات سمیت متعلقہ ادارے چند گھنٹے پہلے سونامی کی آمد کی پیشگوئی کر سکتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ سونامی کے آنے سے پہلے بچت کا بندوبست کر لیا جائے۔امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سونامی کی آمد کے واضح اشارے ایک ڈیڑھ سال سے ملنا شروع ہو گئے تھے۔بالخصوص اس وقت کہ جب انہو ں نے 2015ءمیں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کا عندیہ دیا۔ جن لوگوں نے انہیں سنجیدہ نہیں لیا، ان کا مزاج مسٹر ٹرمپ نے اس وقت ٹھکانے لگا دیا کہ جب وہ باقاعدہ امیدوار بن کر ریپبلکن پرائمری الیکشن کی دوڑ میں کود پڑے۔سینیٹر ٹیڈ کروز (ٹیکساس)، سینیٹر مارکو روبیو (فلوریڈا)، گورنر جان کیسک (اوہائیو)،جیب بش (فلوریڈا) سمیت پارٹی کے بڑوں کو ان کی سونامی بہا لے گئی اور ریپبلکن پارٹی کے ارکان نے فیصلہ دیا کہ صدارتی الیکشن میں ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں کونسلر کی سطح کے چھوٹے پبلک آفس کو بھی کوئی تجربہ نہیں، وہ ان کا صدارتی امیدوار اور امریکہ کا آئندہ صدر ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے پرائمری الیکشن میں جس طرح اپنی پارٹی کے صدارتی امیدوار حریفوں کو چاروں شانے چت کیا اور اہم قومی و بین الاقوامی امور پر سخت، غیر روایتی موقف اختیار کیا تو پارٹی سٹیبلشمنٹ سمیت سینئر قائدین پارٹی میں ایک دوسرے سے یہ سوال کرنا شروع ہو گئے کہ ”آیا تم ریپبلکن پارٹی کے ساتھ ہو یا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ؟“
امریکی سیاست میں زور بالآخر عوام کا چلتا ہے لہٰذا ریپبلکن پارٹی (پرائمری)الیکشن میںٹرمپ سونامی سب بند توڑ کر صدارتی پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔اس سونامی نے پارٹی کے جماعتی ساحلوں کو عبور کرکے وائٹ ہاو¿س کا رخ کر لیا تھا، سونامی کی آمد کی پیشگوئی کے تمام اشارے دے دئیے تھے لیکن کوئی ماننے کو تیار نہ تھا کہ یہ سونامی کبھی 1600پنسلوینیا ایونیو، واشنگٹن ڈی سی (یہ وائٹ ہاو¿س کا پتہ ہے) سے ٹکرائی گی۔ کوئی یقین بھی کیسے کرتا؟ ریپبلکن پارٹی کے بیشتر قائدین نے پرائمری الیکشن جیتنے کے باوجود مسٹر ٹرمپ کی تائید سے انکار کر دیا۔ پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر جان میک کین اور سابق صدر جارج بش سینئر سمیت متعدد نے صدارتی الیکشن میں اپنا ووٹ نہ دینے کا اعلا ن کیا۔
اور کوئی یقین کیسے کرتا کہ جب امریکہ میں تمام اہم نشریاتی ادارے اور سروے کمپنیوں کے پولز اور پولز کے پول بھی یہی ظاہر کررہے تھے کہ ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار دوڑ میں آگے ہیںاور آخری وقت تک آگے رہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی امیدوار بننے کے فیصلے سے لیکر پارٹی الیکشن جیتنے تک اور پارٹی الیکشن سے جنرل الیکشن جو کہ 8نومبر2016ءکو ہوئے کے انعقاد تک، بے یقینی کی مذکورہ صورتحال جوں کی توں برقرار رہی۔ اس تمام عرصے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے مخالفین حتیٰ کہ بعض غیر جانبدار حلقوں کی جانب سے جو انتہائی اہم ایشوز پر متنازعہ موقف اختیا رکئے، ان کی ایک چھوٹی سے فہرست کچھ یوں ہے کہ :
میں (ڈونلڈ ٹرمپ )صدر بننے کے بعد میکسیکو کے بارڈر پر دیوار بناو¿ں گا جس کی قیمت میکسیکو برداشت کرے گا۔مسلم ممالک سے امیگرنٹ اور نان امیگرنٹس کی آمد کے سلسلے کو روک دوں گا۔نیٹو ممالک کے ساتھ معاملات پر از سر نو بات چیت کریں گے اور انہیں کہیں گے کہ وہ امریکہ کو ان کی سیکورٹی کرنے کے اخراجات ادا کریں بصورت دیگر اپنی سیکورٹی خود کریں۔امریکی کمپنیاں جو کہ بڑی تعداد میں امریکی روزگار کے مواقع بیرون ملک لے گئی ہیں،کو یہ روزگار امریکہ واپس لانے پر مجبور کروں گا۔امریکہ میں موجود غیر قانونی تارکین وطن (جن کی تعداد گیارہ ملین بنتی ہے) کو ڈیپورٹ کر دوںگا۔ اگر میں صدر بن گیا تو ہیلری کلنٹن، ای میل سرور کیس میں جیل میں ہوں گی۔ داعش کا قلع قمع کرنے کے سلسلے میں ہر ممکن اقدام اٹھاو¿ںگا۔صدر اوبامہ کا ہیلتھ انشورنس پلان جس کے تحت امریکہ میں 40ملین میں سے 20ملین ایسے افراد جن کے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں تھی، کو انشورنس ملی، اس قانون کو ختم کردوں گا وغیرہ وغیرہ ۔
اس فہرست کے علاوہ انہوں نے اپنی ناقد و حریف خواتین اور میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا۔سپینش کمیونٹی جو کہ امریکی آبادی کا ایک واضح تناسب ہے،کے میکسیکو سے آنے والے سپینش سپیکنگ کمیونٹی ارکان کے بارے میں متنازعہ باتیں کیں،ایک معذور صحافی پر پریس کانفرنس میں طنز کیا، پاکستانی نژاد امریکی خضر خان جن کے امریکی فوجی بیٹے کیپٹن ہمایوں خان کی عراق میں ہلاکت کے بعد، انہیں گولڈ سٹار والدین کا درجہ حاصل تھا، کا احترام نہ کیا، جیسی باتوں کی ایک الگ اور طویل فہرست ہے کہ جسے مسٹر ٹرمپ کے ناقدین ان کی شخصیت کے گرد تنازعات کا ایک حصار قرار دیتے ہیں۔
مذکورہ فہرستوں میں درج درجنوں نکات بھی ٹرمپ سونامی اور اس کے ممکنہ اثرات کے واضح اشارے تھے لیکن سامنے آتی ہوئی سونامی کو دیکھنے کے باوجود کوئی یقین یا پیشگوئی کرنے کو تیار نہیں تھا کہ یہ سونامی آرہی ہے۔لیکن امریکہ میں ایک طبقہ جن کی اکثریت سفید فام امریکی ہیں، کو یقین تھا کہ یہ سونامی آکر رہے گی۔جن باتوں کو ٹرمپ کے ناقدین متنازعہ ترین قرار دیتے تھے اور یہی وہ باتیں تھی کہ جنہوں نے انہیں ٹرمپ کا پیروکار بنا دیا تھا۔امریکی سیاست کے سمندر کی زیر سطح پیدا ہونے والے اس عوامی ارتعاش کی لہروں کو ماسوائے ڈونلڈ ٹرمپ کے کسی نے جانا اور نہ محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب 8نومبر2016ءکو صدارتی الیکشن ہوئے تو نتائج ایک سیاسی سونامی کی شکل میں برآمد ہوئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45ویں صدر منتخب ہو گئے۔وہ 20جنوری 2017ءکو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔سونامی کی لپیٹ میں آنے والے کہہ رہے ہیں کہ 20جنوری 2017ءکے بعد ”اب تیرا کیا بنے گا کالیا۔

Videos Going Viral