کشمیر کی ہڑتال

Posted on November 9, 2016

گذشتہ چار ماہ سے جاری ہند مخالف احتجاجی تحریک کے دوران سرکاری فورسز کی طرف سے ظلم و زیادتیوں کے نئے ریکارڑ رقم ہوئے۔ 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، 15000 زخمی ہیں، 7000 کو گرفتار کیا گیا جبکہ ہزاروں نوجوان گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہوگئےہیں۔ زخمیوں میں 1500 ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں جن کے چہروں پر چھّرے لگے ہیں اور ان میں سے 600 کی آنکھیں متاثر ہیں۔

رات کے دوران بستیوں کے کریک ڈاون کا سلسلہ جاری ہے اور علیحدگی پسندوں کو گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔ تاریخی جامعہ مسجد مقفل ہے اور وہاں 120روز سے اذان نہیں دی جا سکی ۔ ظلم و زیادتیوں کی یہ داستان کس پس منظر میں رقم ہوئی؟

گذشتہ موسم گرما میں آٹھ جولائی کی شام جنوبی کشمیر کے کوکر ناگ علاقے میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ مقبول مسلح رہنما برہان وانی کو دو ساتھیوں سمیت ساڑھے تین منٹ کے آپریشن میں ہلاک کیا گیا۔ برہان پہلے مسلح رہنما ہیں جو نقاب پوش نہیں تھے اور اپنے اصلی نام کے ساتھ سوشل میڈیا پر متعارف ہوئے۔

فوجی وردی میں ملبوس 21 سالہ برہان وانی کشمیر میں نحیف ہی سہی مگر ایک نئی مسلح مزاحمت کی تازہ علامت کے طور پر اُبھرے تھے۔ ان کی ہلاکت کی خبر جنگل کی آگ کی طرف پھیل گئی اور جنوبی کشمیر کے تقریباً تمام اضلاع سے لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں شرکت کے لیے برہان کے آبائی قصبہ ترال کی طرف چل پڑے۔یہ پہلا موقعہ نہیں تھا کہ لوگ کسی مسلح شدت پسند کے جنازے میں جوق در جوق جارہے تھے۔ اس سے قبل پاکستانی شدت پسند ابو قاسم کے جنازے میں پولیس ریکارڈ کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی اور اس دوران لشکر طیبہ کے حق میں اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی ہوئی۔ اسی روایت کے تحت لوگوں کا ایک سمندر برہان کے جنازے کی طرف لپک پڑا، لیکن فورسز نے ہر گلی محلہ اور ہر بستی سے نکلنے والے لوگوں پر گولیوں اور چھرّوں کی بارش کردی۔

برہان وانی کی تعزیت کے لیے چار روز تک لوگوں نے ترال جانے کی کوشش کی لیکن فورسز نے مسلسل طاقت کا استعمال کرکے ان کی کوششوں کو ناکام کردیا جس کے نتیجہ میں صرف چار روز کے دوران 44 افراد مارے گئے اور دو ہزار زخمی ہوگئے۔ جنازے میں شرکت پر پابندی کی اس سرکاری پالیسی کے خلاف وادی بھر میں احتجاج بھڑک اُٹھا اور پھر لگاتار چار ماہ تک مظاہروں اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا۔

اس ساری صورتحال کے درمیان سید علی گیلانی، یاسین ملک اور میرواعظ عمر فاروق نے طویل عرصے سے جاری اختلافات کو پس پشت ڈال کر ’متحدہ مزاحمتی قیادت‘ کا قیام عمل میں لایا اور اس قیادت نے احتجاجی مظاہروں کے ہفت وار کیلنڈر جاری کرنا شروع کیے۔ ہڑتال تو جاری رہی، تاہم مظاہروں اور مارچ کرنے کے پروگرام میں ردوبدل ہوتی رہی۔ ظاہر ہے حکومت نے کسی بھی مارچ کی اجازت نہیں دی اور ہر بار حریت کے کیلنڈر کو سخت ترین کرفیو، ناکہ بندی اور گرفتاریوں سے ناکام بنایا گیااس دوران کئی سماجی حلقوں نے حریت کانفرنس کے وژن پر تنقید کی۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ بہت اُونچے مقصد کے لیے نہایت قلیل المدتی یا شارٹ ٹرم طریقہ کار اپنایا گیا جس کی وجہ سے حکومت ہند نہیں بلکہ خود کشمیری عوام متاثر ہوئے۔ تاہم مظاہرین کے خلاف پولیس کی طرف سے جارحانہ آپریشن اور اس کے باعث ہونے والے جانی نقصان کی وجہ سے حُریت کی حکمت عملی پر ہونے والی یہ تنقید پس منظر میں چلی گئی۔

حُریت کانفرنس نے لوگوں سے کہا ہے کہ یہ ’کرو یا مرو‘ کی صورت حال ہے اور اسی انقلاب کی وجہ سے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ملے گا۔ حریت کا خیال تھا کہ اس تحریک سے ’عالمی ضمیر جاگ جائے گا‘ اور اقوام متحدہ پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ سنہ 1947 سے لیکر سنہ 1950 تک منظور کی گئی 18 قراردادوں پر عمل کرکے ایک کروڑ 30 لاکھ کشمیریوں کے لیے رائے شماری کا اعلان کرے گا۔ پاکستان نے بھی اپنی طرف سے عالمی سطح پر سفارتی مہم شروع کر دی اور بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے۔

لیکن چار ماہ گزر جانے کے بعد ’عالمی ضمیر‘ ہی جاگا نہ اقوام متحدہ نے رائے شماری کا اعلان کیا۔ اب تو سرحدوں پر پاکستان اور بھارت فوجیں جنگی تیاری میں مصروف ہیں اور سرحدی آبادیاں خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ حکومت ہند اگر علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا ہی اعلان کرتی تو حریت کانفرنس اپنے گرینڈ ایجنڈا پر نظر ثانی کرسکتی تھی، لیکن مودی سرکار نے تہیہ کررکھا ہے کہ ’قوم دشمن قوتوں کو کوئی سیاسی رعایت نہیں دی جائے گی۔‘ حکومت تو اب کشمیر کو سیاسی تنازع بھی نہیں بلکہ امن و قانون کا مسئلہ سمجھتی ہے، جسے پولیس اور فوج کی مدد سے حل کیا جائے گا۔ ۔

Videos Going Viral

Neelum Munir Got Shocked When
See What Najam Sethi’s D
Shocking News :- Actress’s B
Momina Mustehsan & Arshad
Aftab Iqbal Praises Naeem Bukh
What Rauf Klasra Reveals About
Hilarious moment Councilman fo
Breaking News : Shahbaz Sharif
Panama Ka Faisla Agar Nawaz Sh
Fahashi Ke Adey Per Larkoon Ke