کشمیر ڈائری: بچوں کی تعلیم کا معاملہ بھی سیاست کی زد پر

Posted on October 27, 2016

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری احتجاج کی لہر، تشدد اور کرفیو کا کشمیریوں پر کیا اثر پڑا ہے؟ بی بی سی اردو نے سرینگر کی رہائشی ایک خاتون سے رابطہ کیا جن کے تجربات و تاثرات کی ساتویں کڑی یہاں پیش کی جا رہی ہے۔ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ جزوی طور پر ختم ہوا ہے۔ لینڈ لائن اور موبائل فون کی سہولت تو بحال کر دی گئی ہے لیکن موبائل انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے جس کی وجہ سے یہ تحریریں آپ تک بلاتعطل پہنچانے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

کشمیر میں انسان سانس بھی لے تو اسے سیاسی رنگ دے دیا جاتا ہے۔ ہم سانس لے رہے ہیں اس لیے حالات ٹھیک ہیں۔گھروں سے باہر سودا سلف لینے نکلے ہیں اس لیے کشمیر میں آزادی کا جوش ختم ہوگیا ہے۔ہمارے بچوں کی تعلیم کا معاملہ بھی سیاست کی زد پر آ گیا ہے۔ سرکار نے اعلان کیا ہے کہ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات نومبر میں اپنے مقررہ وقت پر لیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ تقریباً گذشتہ چار ماہ سے سکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہے ہیں اور تعلیمی سال کا نصف حصہ کرفیو اور ہڑتالوں کی نذر ہوگیا ہے۔

کئی سکولوں کے حکام کے مطابق جولائی تک کلاسوں کا 30 سے 40 فیصد نصاب بھی ختم نہیں ہو پایا تھا پھر نومبر میں امتحان لینے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا مگر سرکار کے لیے حالات کو معمول کے مطابق دکھانے کے لیے یہ ایک ہتھیار بن گیا ہے۔

اسے بچوں کی بہبود سے کوئی غرض نہیں اور نہ ہی اس بات کی فکر ہے کہ موجودہ حالات میں بچوں کے حق میں کون سا فیصلہ زیادہ موزوں ہے۔

جن بچوں نے پچھلے چار ماہ سے صرف خون خرابہ دیکھا ہے ان کی نفسیاتی حالت کی سرکار کو کوئی فکر نہیں ہے۔ جو بچے گولیوں اور چھرّوں سے زخمی ہسپتالوں میں پڑے ہیں ان کے بارے میں اس نے کچھ سوچا ہے؟

جو بچے جیلوں میں بند ہیں ان کے بارے میں تو سرکار نے کہا ہے کہ ان کا امتحان جیل میں ہی لیا جائے گا۔ جس بچے کو اس کی ماں امتحان کی صبح گہری نیند سے اٹھا کر کڑک چائے کی پیالی تھماتی تھی، اس بچے کو کیا اب جیلر صبح سویرے جگائے گا؟ وہی جیلر جس نے کچھ دن پہلے پوچھ گچھ کے دوران اس کی بھرپور پٹائی کی تھیوہ بچے جن کے گھروں کی کھڑکیوں اور شیشوں کو حفاظتی دستوں نے توڑا، ان کے جاڑے کی ٹھنڈی ہوا میں جمے ہاتھ کیا امتحان میں کچھ لکھ پائیں گے؟

جس بچے نے ہندوستانی فوجیوں کو اپنے نہتے باپ پر گولی چلاتے دیکھا یا اپنی کھڑی فصل کو آگ لگاتے ہوئے دیکھا وہ بچہ معاشرتی علوم کے امتحان میں ہندوستانی جمہوریت کے بارے میں رٹے رٹائے جملے لکھ پائے گا؟ اور اگر لکھ بھی پایا تو ایسے امتحان کا کیا مقصد؟ بچے نہ جھوٹ لکھنے کا ہنر سیکھ لیا۔ کیا تعلیم کا یہی مقصد ہے؟

ہمارے بچوں کو پچھلے چار ماہ میں یہ تعلیم ملی ہے کہ ان کی زمین پر ہندوستان نے قبضہ کیا ہوا ہے اور ان کے حکمران طاقت کے بھوکے ہیں۔ انھوں نے یہ سیکھا ہے کہ کشمیر میں سر اٹھا کر چلنے کی سزا موت ہے اور ہماری علاقائی حکومت نے ایک مصنوعی طاقت کے عوض کشمیری عوام اور کشمیری بچوں کے مستقبل کو بیچ دیا ہے۔

کشمیر کی تاریخ میں پہلے کبھی کشمیری بچے اس درجے کی بربریت کا شکار نہیں ہوئے تھے جس درجہ اس مرتبہ ہوئے۔ اپنے ساتھیوں کی چھرّوں سے چھلنی جسم اور آنکھیں دیکھنے کے باوجود زندگی کی امید رکھنا، اس سے بڑا امتحان ایک بچے کے لیے اور کیا ہو سکتا ہے۔

Videos Going Viral

Breaking News : Shahbaz Sharif
Panama Ka Faisla Agar Nawaz Sh
Fahashi Ke Adey Per Larkoon Ke
Pakistani Larki Ka Indian Joun
1500 Rs Do Aur Larki Le Jao
What Killers Shot On Qismat Ba
2 Women Physically Fight With
Army and ISI May Arrest Big Fi
Aishwarya Rai Bachchan’s Sui
Sartaj Aziz Insulted In India: