مودی اسرائیلی فوج سے متاثر کیوں؟

Posted on October 19, 2016

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہماچل پردیش میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’آج کل پورے ملک میں ہماری فوج کی صلاحیتوں پر بات ہو رہی ہے۔ پہلے کبھی اسرائیل نے ایسا کیا، سنتے تھے، لیکن دیش نے دیکھا کہ انڈیا کی فوج بھی کسی سے کم نہیں ہے۔‘

انڈین وزیر اعظم مودی نے گذشتہ دنوں پاکستان کے پاس کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کے ذریعے کیے جانے والے ‘سرجیکل سٹرائیکس’ کا براہ راست ذکر تو نہیں کیا لیکن یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کا اشارہ اسی طرف تھا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے کس طرح کے حملے کیے ہیں اور ان حملوں کو کب اور کس طرح انجام دیا۔ یہاں ان واقعات پر ایک نظر ڈالی گئي ہے جن کے سبب اسرائیلی فوج کا ذکر کیا گياہے۔
: 16 مئی، 2014: اسرائیلی فوج نے غزہ کے ساحل پر میزائل سے سٹرائیک کیا تھا، جس میں چار بچوں کی موت ہوئی تھی۔ اس حملے میں نو سال کے محمد رامیز بکر، 10-10 سال کے احد عاطف بکر اور ذکریا احد بکر کے ساتھ 11 سال کے اسماعیل محمد بکر کی موت ہوگئی تھی۔

حملے کی مذمت: اس حملے کی دنیا بھر میں مذمت ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ نے اس حملے کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کہا تھا۔

اسرائیل کا موقف: اس عالمی مذمت کا اسرائیلی فوج پر اتنا دباؤ پڑا کہ انھیں اس کی تحقیقات کرانی پڑئیں۔ تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا کہ فوج نے ساحل پر حماس کے جنگجو کی سرگرمی کا اندازہ لگایا تھا اور فوج نے اس غلطی کے لیے افسوس کا اظہار کیا کیا تھا
: 14 سے 21 نومبر 2012: اسرائیلی فوج نے نومبر سنہ 2012 کے تیسرے ہفتے میں ہونے والے حملے کو ‘آپریشن پلر’ کا نام دیا گیا تھا۔ اس حملے میں غزہ پر کئی فضائی حملے کیے گئے تھے۔ اس حملے میں حماس کے ملٹری ونگ کے کمانڈر بھی مارے گئے تھے۔ ان حملوں میں غزہ کے اس وقت کے وزیر اعظم کے دفتر سمیت دوسرے بنیادی ڈھانچوں کو بہت نقصان پہنچا تھا۔

حملے کی مذمت: اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ‘بیت شلوم’ کے مطابق ان حملوں میں 167 فلسطینیوں کی موت ہوئی تھی، جس میں 87 عام شہری تھے۔ ان حملوں میں اسرائیل کے دو فوجی اور چار شہریوں کی موت ہوئی تھی۔

اسرائیل کا موقف: اس حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان مارک راگیو نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا تھا ان سرجیکل حملوں کو زیادہ سے زیادہ انسانی ہمدری کی بنیادوں پر رکھنے کی کوشش کی گئی اور یہ حملے جنوبی اسرائیل میں حماس کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے جواب میں تھے۔: 27 دسمبر -18 جنوری، 2009: دسمبر، 2008 کے آخری ہفتے میں اسرائیلی فوجیوں نے زمینی راستے سے غزہ میں داخل ہو کر آپریشن ‘کاسٹ لیڈ’ کو انجام دیا تھا۔ اس حملے میں انسانی حقوق کی تنظیم بتسلیم کے مطابق 1391 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ ان میں تقریباً 759 عام شہری، 344 بچے اور 110 خواتین شامل تھیں۔

اس کارروائی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے مسلسل طبی خدمات میں مخل ہوتے رہے جس کے سبب عام شہریوں کی جانیں گئیں۔ اسرائیلی فوج پر اس مہم میں سفید فوسفورس اور ٹینکوں میں استعمال ہونے والے گولوں کے استعمال کے الزام لگے تھے اور تنقید بھی ہوئي تھی۔۔

Videos Going Viral

Dr Shahid Masood Gets Emotiona
Tahir Ul Qadri Excellent Reply
Tahir Ul Qadri Media Talk Afte
Jamatay Islami Nay Pti Ko Nuq
Haroon Rasheed Response Over B
Breaking News : Aamir Khan Ne
This Cute Little Girl Criticiz
Saddam Hussein is talking abou
Fight In Rahat Fateh Ali Khan
Rehman Bhola Ki Biwi Ne Khamos