’کشمیر میں کرفیو تو 70 برس سے جاری ہے‘

Posted on September 27, 2016

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری احتجاج کی لہر، تشدد اور کرفیو کا کشمیریوں پر کیا اثر پڑا ہے؟ بی بی سی اردو نے سرینگر کی رہائشی ایک خاتون سے رابطہ کیا جن کے تجربات و تاثرات کی دوسری کڑی یہاں پیش کی جا رہی ہے۔ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ کی وجہ سے یہ تحریریں آپ تک بلاتعطل پہنچانے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتیلب نے شاید یہ شعر ہمارے لیے لکھا تھا۔ جب ہمارا فون اور انٹرنیٹ بند کر دیے جاتے ہیں تو ہمارا یہی حال ہوتا ہے۔ کرفیو تو چلتا ہی ہے۔ ایسے مواقع پر نہ تو آپ کسی دوست یا رشتہ دار سے ملنے جا سکتے ہیں اور نہ ہی ان سے بات کر سکتے ہیں۔
پھر ایسے دنوں میں ہم کیا کرتے ہیں؟ ہ سب ہمارے لیے کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ ہم ظلم اور محکومیت کے سائے تلے جینا جانتے ہیں۔ ہمیں اپنے بھوکوں کو کھانا کھلانا آتا ہے۔ ہم اپنے زخمیوں کے جسموں اور دلوں پر مرہم لگانا جانتے ہیں، ہمارے بازو اپنے جوان بچوں کی لاشیں اٹھانا جانتے ہیں۔
یہ سب ہم نے پچھلے 70 سال کی آگ سے گزر کر سیکھا ہے مگر ہم نہیں چاہتے کہ کسی اور کو یہ سیکھنا پڑھے۔
ہم پروپیگنڈا کو بھی پہچانتے ہیں۔ جب کرفیو اٹھتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ حالات بحالی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ کچھ دن خاموشی رہے تو کہتے ہیں کہ کشمیر میں حالات اب معمول پر ہیں۔
کیا اس کا مطلب ہے کہ ہمیں پرامن جلوس نکالنے کی آزادی ہے؟کیا ہم لوگ تعلیمی اداروں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا کر آزادی کے نعرے لگا سکتے ہیں؟ کیا ہم سڑکوں پر رات بھر آزادی کے گانوں پر رقص کر سکتے ہیں؟ کیا ہم کھلے عام انڈین کو ایک قابض حکومت کہہ کر اس کی فوج کی واپسی کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟
کیا ہم آزادی کے ریفرینڈم میں اب ووٹ ڈال سکتے ہیں؟ کیا ہمارے مصور اب ہمارے مارے گئے بچوں کی یاد میں یادگاریں بنا سکتے ہیں؟ کیا ہمارے محققین کشمیر کی جدوجہدِ آزادی پر مقالے لکھ سکتے ہیں؟ کیا ہمارے وکیل حقوقِ انسانی کی پامالی کرنے والوں کے خلاف عدالت میں مقدمے دائر کر سکتے ہیں؟
اصلیت تو یہ ہے کہ ایسا کچھ کرنے نہیں دیا جائے گا۔ کرفیو اٹھانے کا مطلب ہے کہ ہم گھروں سے باہر جا کر سودا سلف لا سکتے ہیں، دوستوں اور رشتہ داروں سے مل سکتے ہیں، شادیوں اور جنازوں میں شرکت کر سکتے ہیں، روزمرہ کے کام، جو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں، کر سکتے ہیں۔ کشمیر میں حالات کے معمول پر آنے کا مطلب بس یہی ہے۔
اصل کرفیو تو 70 برس سے جاری ہے اور اسی کرفیو کی وجہ سے انڈیا کو اب کشمیر میں بار بار یہ دوسرا کرفیو لگانا پڑ رہا ہے۔
غالب نے 1857 کے غدر کے دوران کرفیو کا بالکل صحیح ترجمہ کیا تھا۔ انھوں نے اسے’جرنیلی بندوبست‘ کہا تھا۔ یہاں پانچ سے سات لاکھ انڈین فوجیوں کی موجودگی جرنیلی بندوبست ہی تو ہے۔
کیا ستم ظریفی ہے کہ انڈیا جو 1857 میں اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا اب خود کسی اور پر جرنیلی بندوبست کر کے ان کی آزادی چھین رہا ہے۔

ایسے دنوں میں جو آپ کے قریب ہیں وہ اور قریب آ جاتے ہیں۔ ہمسایوں سے نیا رشتہ جڑ جاتا ہے۔ اہلِخانہ دوست بن جاتے ہیں، انقلاب کی باتیں ہوتی ہیں اور مزاحمت کے تذکرے۔

Videos Going Viral

Muniba Mazari And Hamza Ali Ab
Murad Saeed Bashing Daniyal Az
Raheel Sharif Ne Bara Ailaan K
Junaid Saleem And Azizi Making
Resign and Get Lost Dr Shahid
Exclusive Audio Of Nawaz Shari
Imran Khan Making Fun Of Inamu
What This Young Girl Did When
What Sheikh Rasheed Is Doing I
Live With Dr Shahid Masood –