Nawaz Hakoomat ke Iqtasadi Kamalat

Posted on September 14, 2016

نواز حکومت کے اقتصادی کمالات
شیراز خاکوانی (Twitter: sherazkhakwani)

2013
میں جب ن لیگ کی حکومت آئی تو تھوڑے ہی عرصے میں لوگوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس دفعہ میاں صاحب کا دل حکومت کرنے میں نہیں لگ رہا۔ ایک تو ان کی صحت ٹھیک نہیں۔ پچھلی دفعہ جب ان کو دل کا مسئلہ ہوااورلندن میں ان کا آپریشن ہوا تو دوران آپریشن ان کو کوئی مسئلہ ہوا اور وہ مرتے مرتے بچے۔ دماغ کو خون کی سپلائی بھی کچھ دیر بند رہی۔ اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہے کہ پاکستان جیسے ملک کی مشکل ترین حکومت چلا سکتے۔ پھر کچھ عرصہ پہلے ایک اور مبینہ آپریشن ہوا جس کو متنازعہ بنانے میں انہوں نے اور ان کی اولاد نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس حکومت کے شروع میں ہی ہم نے دیکھا کہ میاں صاحب کا کسی طرح بس نہیں چل رہاتھا کہ کسی طرح پاکستانی دارلحکومت لندن منتقل ہو جائے تاکہ انہیں اس ملک کی شکل نہ دیکھنی پڑے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنی بیٹی کو گروم کرنا بھی شروع کیا تاکہ اس ٹائوں ٹائوں کرتی قوم کی زنجیر اپنی بیٹی کو پکڑوا کے خود گوشہ نشین ہو جائیں۔ برا ہو پانامہ لیکس کا کہ اس نے اس دودھ میں مینگنیاں ڈال دیں۔
خیر، اب چونکہ خود تو حکومت چل نہیںرہی تھی اس لئے مار کھانے کی ذمہ داری انہوں نے فوج پر ڈال دی کہ جا کے وزیرستان میں مرو، کراچی کو بھی ٹھیک کرو، بلوچستان کو بھی دیکھ لو اور اس کے بعد انڈیا، امریکہ، سعودی عرب، افغانستان کو دیکھنا نہ بھولنا۔ باقی بچی معاشی ذمہ داری تو اس کے لئے ان کی نظرِکرم اپنے قریبی عزیز اور ماہرِمنی لانڈرنگ، ماہرِ چرب زبانی اور ماہرِ دروغ گوئی جناب اسحق ڈار پر پڑی۔ ان کی خوبی یہ ہے کی اگر آپ کو آگ لگی ہو تو وہ ثابت کر دیں گے کہ آپ اس وقت سائبیریا میں کھڑے ہیں اور یہ جو تکلیف آپ کو ہو رہی ہے یہ سخت سردی کی وجہ سے ہے۔ جون میں جو آخری بجٹ آیا اس پر تقریباََ ہر ذی شعور نے اعتراض کیا کہ حضور جو اعدادوشمار آپ دے رہے ہیں وہ کسی طور ممکن نہیں۔ جس ملک کی معیشت نصف سے زیادہ زراعت پر منحصر ہو اور اسی زراعت میں گروتھ نیگیٹو ہوتو کسی صورت وہ جی ڈی پی حاصل نہیں ہو سکتی جو آپ فرما رہے ہیں لیکن جب بندہ ڈھیٹ ہو جائے تو کوئی کیا کرے۔ عمومی طور پر ن لیگ کی عادت ہے کہ آتے ہی اہم مقامات پر اپنے پالتو بندے لگاتے ہیں تاکہ کبھی اگر غلطی سے کوئی عدالت پوچھ لے تو کم از کم کاغذی کاروائی پوری ہو۔ اسی فلسفے کے تحت اسٹیٹ بنک، عدلیہ، الیکشن کمیشن، پیمرا، نیب، ایس ای سی پی غرض ہر جگہ اپنے پالتو بھر دیتے ہیں۔ اس لئے ان کے پیش کئے گئے غلط اعدادوشمار کو کوئی چیلنج نہیں کرتا۔
ہر کچھ عرصے بعد ایک عالمی ادارہ پاکستان کی معاشی ترقی کے گن گانے لگ جاتا ہے جسے یہ حکومت خوب کیش کرتی ہے۔ لیکن ہر کچھ عرصے بعد ایک چھوٹی سی خبر لگتی جو اس ساری معاشی ترقی کا پول کھول دیتی ہے ۔ مثلاََ اگر عالمی اداروں کو لگ رہا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کی جنت بن چکا ہے تو ملک میں بیرونی سرمایہ کاری پاکستان کی تاریخ کی کم ترین سرمایہ کاری کیوں ہے؟ زراعت میں گروتھ نیگیٹو کیوں ہے؟ تجارتی خسارہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ کیوں ہے؟ بیروزگاری تاریخی سطح پر کیوں ہے؟ ملکی قرضہ تاریخی سطح پر کیوں ہے؟ پہلے کہتے رہے کہ ہم یہ قرضہ پیپلزپارٹی کے دورکے قرضے کا سود اتارنے کے لئے لے رہے ہیں۔ لیکن جتنا قرضہ انہوں نے لے لیا ہے وہ تو پیپلز پارٹی کے دور کے پورے قرضے سے بھی زیادہ ہے۔
یہ وہ چیز ہے جو مجھے پریشان کرتی ہے کہ یہ حکومت بغیر روک ٹوک کے اربوں ڈالر قرضہ لے رہی ہے جس پر نہ تو پارلیمنٹ اور نہ کوئی دوسرا ادارہ ان سے پوچھ رہا ہے۔ یہ وہ طائرِ لاہوتی والی گورنمنٹ ہے جس نے اپنا وعدہ پورا کیا کہ ہم اقتدار میں آکے کشکول توڑ دیں گے۔ یہ الگ بات کہ کشکول توڑ کے انہوں نے دیگ اٹھا لی کیونکہ کشکول میں اتنے اربوں ڈالر آ نہیں سکتے تھے۔ یہ وہ حکومت ہے جو اسٹیل مل ، پی آئی اے اور درجنوں دوسرے ادارے بند کر رہی ہے یا پرائیویٹائز کررہی ہے کیونکہ وہ قومی خزانے پر بوجھ ہیں لیکن ساتھ ہی صرف دو شہروں کے لئے دو بس سروسز اور ایک ٹرین چلانے کے لئے اس قوم کو 24 ارب سے زیادہ سبسڈی دینی پڑے گی۔ ان بسوں اور ٹرینوں کو بنانے پر جو خرچہ آیا ہے وہ بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اب کوئی ان سے یہ پوچھے کہ جو خرچہ چائنا، انڈیا، ترکی اور امریکہ میں اسی طرح کے پراجیکٹ بنانے پر نہیں آیا وہ پاکستان میں کیسے آگیا؟ یہاں آپ مزدوروں کو سونے میں مزدوری دیتے ہیں؟ یا یہاں کی زمینیں امریکہ سے زیادہ مہنگی ہیں؟ اس کے علاوہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ایسے پراجیکٹس سے باقی صوبے اور باقی ملک میں کتنی نفرت پھیلتی ہے جہاں لوگوں کے معصوم بچے بغیر علاج کے مر جاتے ہیں اور جو بچ جاتے ہیں وہ بغیر روزگار کے بے کسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ ایسے لوگ جب ایک طرف چمکتی دمکتی گاڑیاں دیکھتے ہیں اور دوسری طرف اپنے پانی کے گلاس کو دیکھتے ہیں جس پانی کو جانور بھی نہ پئیں تو دل و دماغ میں نفرت کا جو لاوا پکتا ہے اس کا انہیں اندازہ نہیں۔
ہاں ترقی بھی ہو رہی ہے۔ ایک سڑک بنتی ہے پھر دوبارہ بنتی ہے پھر سہ بارہ بنتی ہے۔ بجلی کے منصوبے لگائے جا رہے ہیں لیکن سسٹم میں اتنی بجلی برداشت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ جتنی بجلی اس وقت بن سکتی ہے اگر سسٹم وہی اٹھا لے تو لوڈشیڈنگ ختم ہو سکتی ہے۔ لیکن ظاہر ہے نئے منصوبے لگیں گے تو نئے کھانچے بھی لگیں گے۔ ایک منصوبہ ساہیوال کی بہترین زرعی زمینوں پر بھی لگایا گیا ہے جو کوئلے سے چلے گا۔ اب ایک طرف تو اعلیٰ زرعی زمین ضائع ہوئی ، دوسرا جب کوئلہ جلے گا تو سارا علاقہ بیمار ہو گا، تیسرا کوئلہ پاکستان میں ہے نہیں (تھر کا کوئلہ معیاری نہیں اور اس کام کے لئے استعمال نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی ابھی اس کے نکلنے کا کوئی امکان نہیں) اس لئے باہر سے آئے گا اور کراچی سے چل کر ساہیوال پہنچے گا۔ راستے میں سارے پاکستان کو بھی خراب کرتا آئے گا۔ اور اس کے لئے ایک علیحدہ ٹرین لائن کی بھی ضرورت ہو گی۔ اس سے اتنی مہنگی بجلی بنے گی کہ کوئی اسے افورڈ نہیں کر سکے گا۔ یہ ایک اور نندی پور بننے جا رہا ہے۔ یہ اس حکومت کی امتیازی خصوصیت ہے کہ یہ دنیا کا سب سے مہنگا منصوبہ لگاتے ہیں جس سے کم سے کم لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے اور وہ منصوبہ تا عمر نقصان کرتا رہتا ہے۔ موٹر وے، میٹرو، اورنج ٹرین اور بجلی کے سب منصوبے نا صرف دنیا میں مہنگے ترین ہیں بلکہ اگر انہیں ہر سال اربوں کی سبسڈی نہ دی جائے تو ان میں سے ایک منصوبہ بھی نہ چل سکے۔ اور یہیںمیں ان کی ذہانت کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ یہ حکومت ایک منصوبہ شروع کرتی ہے، اس میں دبا کے کمیشن اور کک بیکس لیتی ہے، اس منصوبے کا سارا کریڈٹ لیتی ہے اور اربوں روپے کے اشتہار اخباروں اور ٹی وی چینلز کو بانٹتی ہے اور اس طرح میڈیا کو اپنے زیرِاثر کرتی ہے۔ منصوبے کو جتنی سبسڈی چاہیے ہوتی ہے وہ کوئی حکومت افورڈ نہیں کر سکتی۔ اس لئے جب کوئی نئی حکومت آکے وہ منصوبہ بند کرے گی یا مہنگا کرے گی تو بدنامی کمائے گی۔ اس طرح کی چالاکیاں کر کے یہ اپنا بھلا تو کر لیتے ہیں لیکن ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔
اور اب کچھ خیالاتِ منتشرہ۔
۔ شریف فیملی ایک عجیب فیملی ہے ۔ جب پوچھا جائے کہ یہ اربوں کے فلیٹ اور جائدادیں کہاں سے آئیں تو ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ آدمؑ سے لے کر آج تک ہم سے زیادہ امیر تو کوئی نہیںاور جب پوچھا جائے کہ پھر انکم ٹیکس تو آپ 500 اور 1000 روپے ہی دیتے رہے ہیں تو پھر کوئی جواب نہیں۔
ْ ْ۔ اس وقت جمہوریت کی بد ترین شکل چل رہی ہے۔ اس سے تو بہتر ہے کہ کہہ دیا جائے آج سے شاہ نواز بن شریف کی بادشاہت ہے اور ولی عہد شہزادی مریم بنتِ نواز ہیں۔ اس طرح نواز شریف کی جان فوج اور پارلیمنٹ سے چھوٹ جائے گی اور پھر شائد وہ قوم کو کچھ دینے کا سوچیں۔
۔ اس حکومت میں دو جن ہیں، نواز اور شہباز۔ اور دو ہی توتے، اسحاق ڈار اور رانا ثنااللہ۔ اگر جنوں کو مارنا ہے تو ان کے توتوں کی گردنیں مروڑیں۔
Twitter: sherazkhakwani

Videos Going Viral

Maulana Tariq Jameel Junaid Ja
Police Took big Action Against
Eight To Nine Passengers Jumpe
Australia XI All Out For Just
MQM Workers Ki Jhanda Lagane K
Usman Dar Offered Imran Khan h
Junaid Jamshed Nawaz Sharif Au
Shahid Masood Reveals What Pml
Junaid Jamshed’s Last Vo
Maulana Tariq Jameel Reveals W