اس دیس کی ھر تان ھے دیپیک

Posted on August 12, 2016








پاکستانی معاشرہ انحطاط کا شکار اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ھے۔ جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی، اقربا پروری، گالی گلوچ، دوسروں کی حق تلفی عام ھے ۔ اچھائی اور برائی کا تصور ختم ھو چکا ھے۔ دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آ جاتا ھے لیکن اپنی آنکھ کا شھتیر بھی نظر نہیں آتا ۔ کرپشن کا تصور صرف مالی کرپشن تک محدود ھے۔ جنسی بےراہروی عام ھے۔ اور میڈیا پر عریانی اور فحاشی معمول کی بات ھے۔

ملازمت پیشہ لوگ دفتری اوقات میں چائے پینے، اخبار پڑھنے، فون پر اپنے گھر والوں اور دوستوں سے گپ بازی کرنے، فیس بک پر اپنا سٹیٹس اپڈیٹ کرنے، سرکاری گاڑیوں کے ذاتی استعمال، رشتے داروں اور دوستوں کی سفارش کرنےاور رشوت خوری کو کرپشن ھی نہیں سمجھتے ۔

ڈاکٹرز کا مقدس پیشہ بھی پاکستان میں انتھا کی بددیانتی کا شکار ھے۔ پیسا کمانے کیلئے لوگوں کے جھوٹے اور بلاوجہ آپریشن کرنے، عورتوں کے ولادت کے وقت نارمل زچگی کو بھی فیس کی لالچ میں آپریشن کے ذریعے کرنا عام ھے۔

انجینئر بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں ھر کام میں کمیشن اور رشوت کو اپنا حق سمجھتے ھیں ۔

ریڑھی والا کم تولنے، گلاسڑا پھل دھوکا دھی سے بیچنے، سڑک پر اور فٹ پاتھ پر قبضہ کرنے کو جائز سمجھتا ھے۔ دودھ فروش دودھ میں ملاوٹ کو اپنا حق جانتا ھے۔ کریانہ فروش اشیا خوردونوش میں ملاوٹ کو کرپشن نہیں سمجھتا ۔کم تولنا اور گٹیھا مال فروخت کرنا جائز اور اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ روسرے کاروباری حضرات ناجائز منافع خوری کو جائز سمجھتے ھیں اور دلیل یہ دیتے ھیں کہ اسلام میں منافع کی کوئی حد مقرر نہیں ھے۔

سیاستدان دوسروں پر تنقید اور الزام تراشی کرتے ھوے اپنے گریبان میں نہیں جانکھتے۔ اپنی اولاد اگر باھر کے ملک میں ھو تو جائز اگر دوسرے کی ھو تو ملک دشمنی، اپنے آف شور اکاؤنٹ جائز اور دوسروں کے ناجائز، اپنی حرام کی اولاد ھو تو کوئی بات نہیں اللہ دوسروں کے عیب چھپانے کا حکم دیتا ھے اور دوسروں کو مولانا ڈیزل کہنا ۔ لوگوں کے خیرات اور زکواۃ کے پیسے آف شور کمپنیوں میں لگا کر برباد کرنا جائز اور اگر کوئی اپنی حلال کی کمائی لگاے تو وہ کرپٹ، خود یہودی کی الیکشن کمپین کا معاملہ ھو، انڈین اداکاروں سے جائز یا ناجائز تعلقات ھوں، یا انڈیا جاکر مودی سے درخواست کر کے ملاقات کرنا ھو، سب جائز ۔اور اگر کوئی دوسرا مودی سے یا اپنے ذاتی دوست سے ملے تو ملک دشمن۔ لوگوں کے خیرات کے پیسے سے اسپتال اور تعلیمی ادارے بنا کر ان کو اپنا کارنامہ بتانا اور اس پر سیاست کرنے کی مکروہ حرکت بھی جائز ۔ اپنا باپ سرکاری ملازمت سے کرپشن پر نکالا جاے اور دوسروں کو کرپشن پر بھاشن دینا۔ خود پیسے کے لئے قومی ٹیم چھوڑ کر کیری پیکر کی ٹیم میں کھیلنا اور دوسروں کو حب الوطنی کے طعنے دینا۔ اگر اپنے باپ اور ماں کے سرے محل، دبئی میں محل ھوں، سوئس بینک اکاؤنٹ، آف شور کمپنیاں ھوں، اربوں کی کمیشن کھائ ھو تو جائز دوسروں کا جائز کاروبار بھی ناجائز ۔

پاکستانی معاشرہ ناقابل اصلاح ھے کیونکہ جس قوم میں غلط اور صحیح کی تمیز ختم ھو جائے اور منافقت عام ھو جائے اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی

loading...