شور مچے چور

Posted on August 11, 2016








آج کل وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب کے بیان پر بڑا شور ھے۔ آپ ھی بتائیں کہ جس معاشرے میں کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ ھوتی ھو۔ دکاندار کم تولتے ھوں۔ سرکاری ملازم دفتری اوقات میں کام کی بجائے اپنا وقت اخبار پڑھنے اور چائے نوش کرنے میں صرف کر یں۔ سرکاری گاڑیوں میں اپنے بچوں کو سیریں کروایں۔ طاھر الفسادی جیسے خود ساختہ شیخ الاسلام دین فروشی کر یں۔ ڈاکٹرز پیسے کے لیے مریضوں کے بلاوجہ آپریشن کر دیں۔ حاملہ خواتین کے پیسے کے لالچ میں نارمل ڈلیوری کی بجائے آپریشن ھوں۔ ادویات جعلی ملیں ۔ کسانوں کو جعلی کھادیں اور زرعی ادویات فروخت کی جایں۔ معاشرے کے نکارا ترین لوگ استاد اور امام مسجد ھوں۔ انجینئر رشوت کھا کر ناقص تعمیرات کی اجازت دیں۔ تاجر ٹیکس چوری کریں اور حکومتوں کو ھڑتالوں سے بلیک میل کریں ۔ عوام ایک دوسرے کو مذہبی بنیادوں پر کافر سمجھے اور نسلی تعصب کا شکار ھو۔ اس قوم کو آپ کرپٹ نہیں تو اور کیا کہئیے گا۔ پاکستانی معاشرہ ایک تعفن زدہ معاشرہ ھے۔ ھر طرف نفسانفسی اور لوٹ مار مچی ھوئ ھے۔ جو جتنا کرپٹ ھے وہ اتنا گلا پھاڑ کر کرپشن کے خلاف شور مچا رہا ھے تاکہ اس کی طرف سے دھین ھٹ جائے ۔ پیسے کی ھوس نے حلال اور حرام کی تمیز ختم کر دی ھے۔ کرپٹ اور لا دین میڈیا نے رھی سہی کسر بھی پوری کر دی ھے اور تمام دینی اور اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ پاکستانی ٹی وی چینلز پر جو پروگرام آتے ھیں ان کو کوئی شریف آدمی اپنی بیٹی یا بہن کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا ۔ زناکاری اور شراب نوشی کثرت سے ھو رھی ھے۔ اب اگر احسن اقبال صاحب نے سچ بول دیا ھے تو اس پر شور کیوں برپا ھے۔ کسی نے صحیح کہا ھے کہ سچ بول کے بنبھڑ مچ دا اے۔

loading...