اسلام اور پاکستان دشمن

Posted on August 10, 2016








یہ وقت اسلام اور پاکستان دشمنوں کو اچھی طرح سے پہچاننے کا ہے۔
محمود اچکزئی اور مولانا شیرانی کوئٹہ حملے میں انڈین اینٹلی جنس ایجنسی راء کا نام لینے پر تڑپ اٹھے ہیں۔ دونوں نے جواباً پاکستانی اینٹلی جنس ایجنسیوں پر خوب تنقید کی۔
مولانا شیرانی نے کہا ہے کہ ” بلوچستان میں کوئی راء اور موساد نہیں ”
” اندرونی طاقتیں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں ” ۔۔ یعنی پاک فوج
اور ” یہ گڈ طالبان کون ہیں ؟ ” یعنی افغان طالبان کے خلاف امریکن اور انڈین پالیسی کی تائید کی۔
محمود اچکزئی نے بھی انڈین ایجنسی کا نام لینے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ” راء پر الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا ” اور حملے کی ذمہ داری پاکستانی اینٹلی جنس ایجنسیوں پر ڈالی ہے کہ یہ انکی ناکامی ہے۔
تاہم محمود اچکزئی اور مولانا شیرانی نے اپنے ” مشترکہ داماد” اورانڈین ایجنسی راء کے حاضر سروس افسر کل بھوشن یادیو کی بلوچستان میں موجودگی پر کوئی روشنی نہیں ڈالی کہ وہ وہاں کیا کر رہا تھا۔
دونوں صاحبان کو شائد یہ بھی علم نہیں تھا کہ انڈین ایجنسی راء کا نام ان کے اتحادی اورمسلم لیگ ن کے وزیراعلی ثناءاللہ ظہری اور صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے لیا ہے اور یہ دعوی بھی کیا ہے کہ ان کے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
محمود اچکزئی نے چودھری نثار پر بھی غصہ اتارا ( غالباً سارک کانفرنس میں انکی کشمیر کے حق میں تقریر پر) اور کہا کہ وہ کہاں ہیں ؟ ویسے جب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چودھری نثار نے سارک کانفرس میں ” لکھی ہوئی ” تقریر چھوڑ کر وہ تقریر کی جو پاکستانی قوم کی دل کی آواز تھی تب سے وہ غائب ہی ہیں۔ پتہ نہیں کس کو ناراض کر گئے ہیں! 🙂
اور آخر میں جو لوگ اسکو اینٹلی جنس کی ناکامی کہہ رہے ہیں انکی مثال ایسے ہے جیسے ایک شخص مسلسل آپ اور آپکے ساتھیوں پر تیر برسا رہا ہو اور آپ اسکو ڈھال سے روک رہے ہوں۔ پھر ان میں سے کوئی تیر آپکی ڈھال سے بچ کر کسی ساتھی کو لگ جائے تو وہ جواباً آپکو خنجر مار کر کہے کہ ” تیر کیوں نہیں روکا ” ۔۔۔ لیکن نہ وہ تیر مارنے والے کو روکے نہ آپکو اجازت دے کہ اسکو جواباً تیر مارو۔۔۔ !
فلحال ہم اپنی پاک افواج اور ایجنسیوں کے ساتھ یہی کر رہے ہیں!
جہاں تک حملے کی بات ہے تو بنیادی طورپر کوئٹہ حملے کے تین بڑے مقاصد نظر آرہے ہیں۔
پہلا کشمیر میں ہونے والے ظلم سے توجہ ہٹانا۔
دوسرا سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچانا تاکہ چین کو باور کرایا جا سکے کہ بلوچستان غیر محفوظ ہے۔
تیسرا ملک بھر میں کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف ایک ” عوامی احتساب ” کی فضا بنی ہوئی تھی اسکو سبوتاژ کرنا۔
اس حملے کے مقاصد کو ناکام کرنے کے لیے آسان ترین طریقہ یہی ہے کہ کشمیر ایشو کو مزید طاقت سے اٹھایا جائے ہر فورم پہ۔
سی پیک پر کام کو ہر صورت جاری رکھا جائے۔
اور کرپٹ سیاستدانوں کے احتساب کے لیے قوم متحد ہوجائے۔
تحریر شاہدخان

loading...