حوصلہ کرو پاکستان،تمہیں رلانے والوں کو چن چن کر ماریں گے

Posted on August 9, 2016

لاہور(ویب ڈیسک) یہ تصویر کل سول ہسپتال کوئٹہ میں خود کش دھماکہ کے بعد کی ہے جس میں ہلاک ہونیوالوں کا ایک رشتہ دار شدت جذبات سے دھاڑیں مار کر رو رہا تھا تو پاک فوج کے اہلکار اسکے پاس پہنچے اور اسے گلے لگا کر تسلی دی ، پورے پاکستان میں اس تصویر کو بے شمار افراد نے ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کیا اور پورے ملک میں اس کا بہت اچھا تاثر گیا ۔ اس کا جو عمومی مطلب لیا گیا اور جو صرف تصویر دیکھنے پر ہی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ہم تمہیں رلانے والوں کو چن چن کر ختم کریں گے۔ دہشت گردوں اور شرپسندوں نے پاکستانی عوام کو زخم پہنچانے اور رلانے میں اگرچہ کوئی کس نہیں چھوڑی اور پچھلے صرف 16 سال میں ہزاروں بے گناہ اور معصوم شہری مرد خواتین کمسن بچے اور سیکورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے ہیں پاکستانی معاشرے کا کوئی طبقہ اس ضمن میں محفوظ نہیں رہا، فوج پولیس رینجرز اساتذہ وکلاء نرسیں ڈاکٹرز طلباء علماء حضرات سماجی کارکن اقلیتی پاکستانی عام شہری ہر کوئی اس کی لپیٹ میں آیا ہے۔ کل کوئٹہ میں ہونیوالا سانحہ اس لحاظ سے بہت افسوسناک ہے کہ 35 وکلاء حضرات اپنی زندگیوں سے محروم ہو گئے۔ اس حملہ کی پلاننگ اس قدر ٹھوس تھی کہ جس نے سیکورٹی فورسز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہر طبقہ کے لوگوں کو اس الجھن میں ڈال دیا ہے کہ دہشت گرد اور پاکستان کے دشمن زیادہ سے زیادہ گہری چوٹ لگانے کے لیے کیسی کیسی چالیں چلتے ہیں ۔ سول ہسپتال کوئٹہ میں خود کش دھماکہ سے کچھ دیر قبل ایک نامور وکیل اور صدر بلوچستان بار کونسل بلال انور کاسی پر انہی دہشت گردوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں وہ شدید زخمی یا ہلاک ہو گئے انہیں جب سول ہسپتال کوئٹہ لایا گیا تو یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی اور بڑی تعداد میں وکلاء انکی لاش وصول کرنے اور یک جہتی کے طور پر یا اظہار ہمدردی کے لیے سول ہسپتال پہنچ گئے ۔ ہر طبقہ کے بڑے اور سرکردہ لوگ بھی یہ خبر سن کر ہسپتال پہنچے ۔ چنانچہ اس موقع پر دہشت گردوں نے اپنے منصوبہ کا دوسرا قدم اٹھایا اور انکے خود کش بمبار نے 10 کلو وزنی بارودی مواد کے ساتھ سول ہسپتال میں انتہائی رس والی جگہ پر پہنچ کر دھماکہ کیا یہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ لوگ اڑ اڑ کر دیواروں سے ٹکرائے اور دیواروں کے ساتھ ڈھیر ہوتے گئے ۔ اس سانحہ میں جان بحق ہونیوالوں میں بلوچستان بار کے دو سابقہ صدور ، ایک موجودہ جج صاحب ، ایک موجودہ سینیٹر کے صاحبزادے ، سابق گورنر بلوچستان کے نواسے ، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور انکے بھائی کے ساتھ ساتھ درجنوں وکلاء حضرات شہید ہو گئے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے جن میں سے بیشتر کی حالت نازک ہے۔

Source:- http://hassannisar.pk/pakistan_28415.html

Videos Going Viral

Tahir Ul Qadri Media Talk Afte
Jamatay Islami Nay Pti Ko Nuq
Haroon Rasheed Response Over B
Breaking News : Aamir Khan Ne
This Cute Little Girl Criticiz
Saddam Hussein is talking abou
Fight In Rahat Fateh Ali Khan
Rehman Bhola Ki Biwi Ne Khamos
Is Saddam Hussain Still Alive?
Fayaz ul Hassan Chohan Made Ev