ہورڈنگ بورڈ صرف کراچی سے ہی کیوں لاہںور اسلام آباد و دیگر شہروں سے بھی ہٹائیے جائیں۔

Posted on August 6, 2016

ہورڈنگ بورڈ صرف کراچی سے ہی کیوں لاہںور اسلام آباد و دیگر شہروں سے بھی ہٹائیے جائیں۔
تحریر۔ حبیب جان۔ لندن
_____________________________________________________________________
کہتے ہیں دکھتا ہے تو بکتا ہے۔ یہ باتیں آج کی کمرشل دنیا میں ہر چیز کو بیچنے کیلئے کہی جاتی ہیں۔ زمانہ قدیم ہی سے اشیاء صرف کو بیچنے کیلئے مختلف انداز اپنائے گئے۔ مزید بحث و مباحثہ میں جائے بغیر ہم یہاں اپنے مائی باپ شہر کراچی جو تمام دُکھ درد سہنے کے باوجود ڈھائی کڑوڑ انسانوں کو لئے روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ جہاں آج بھی کوئی انسان بغیر کچھ کھائے پئے نہیں سوتا۔
یہ بات مسلمہ ہے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ ریاست تمام افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے قاصر ہںوتی ہے اسی سبب ریاستی ادارے نجی اداروں کی سرپرستی کرتے ہںوئے مالکان کو نت نئی مراعات دیکر مُلک سے بیروزگاری ختم کرنے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ اب اسے بدقسمتی کہہ لیجئے کہ ہمارے یہاں تقریباً سیاسی عدم استحکام کی بدولت وطن عزیز میں کوئی مربوط پالیسیاں اب تک نہیں بن سکی۔ آج بھی صحت و صفائی سے لیکر مینوفیکچرنگ تک کے معاملات عارضی منصوبہ بندی کے تحت ہی چلائے جارہے ہیں۔
بات کافی دور نکل جائےگی لہذا موضوع کی طرف آتے ہیں یعنی حالیہ سپریم کورٹ کے احکامات کراچی میں ہںورڈنگ بورڈ کو فورا تمام جگہوں بشمول نجی عمارتوں سے ہٹا دیا جائے۔ مختصر یہ کہ بڑی لے دے کے بلآخر شہر کراچی کو ہںورڈنگ سے پاک کردیا گیا۔
اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف یعنی آخر ان ہںورڈنگ بورڈز کو ہٹانے کی نوبت کیوں آئی اعلی عدالتوں کو اس معاملات میں کیوں مداخلت کرنی پڑی اور جج صاحبان نے صرف کراچی کے ہی ہںورڈنگ بورڈ کو ہٹانے کے احکامات جاری فرمائے لاہںور اسلام آباد پشاور کوئٹہ یا فیصل آباد میں کیوں اس طرح کی کاروائی عمل میں نہیں لآئی گئی۔ بات سیدھی سی تھی انسانوں کے سمندر میں ان ہںورڈنگ بورڈ سے کچھ انسانی جانیں دوران طوفانی ہںواؤں کے سبب ضائع ہںوگئی تھی کیونکہ شہر بھی عروس البلاد اور اوپر سے میڈیا سٹی لہذا ہر بات کو بڑی اہمیت حاصل ہںوتی ہے سوائے کراچی کی 30 سالہ قتل و غارت گری کے۔ پھر شاید بات کہیں اور نکل جائے ہم ہںورڈنگ بورڈ پر ہی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔
راقم کا تعلق کراچی کے اولڈ سٹی ایریا سے ہے اور اسی علاقہ سے الیکشن 2008 سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر اس وقت کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی ٹکٹ پر حصہ لیا ہار جیت کی بحث میں پڑے بغیر میرا براہ راست تعلق اپنے عوام یا شہر کے لوگوں سے کچھ جذباتی سا ہںوگیا ہے ان کے مسائل ہمیشہ مجھے اپنے مسائل ہی لگے ہیں آج سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے بعد تقریباً سڑکوں اور نجی عمارتوں سے ہںورڈنگ بورڈ ہٹادئے گئے ہیں۔
معزز عدالتوں کے فیصلے قابل احترام لیکن کیا اچھا ہںوتا جج صاحبان ہںورڈنگ بورڈ کی صنعت سے وابستہ افراد کے روزگار کیلئے کوئی متبادل روزگار کا بھی راستہ تجویز کر دیتے یا کم از کم عدالت کوئی ایسا قائم کر دیتی جو آئندہ کیلئے ہںورڈنگ بورڈ انڈسٹری کیلئے کوئی قواعد ضوابط طے کردیتی مشلا بورڈ کا سائز اسٹرکچر
فریمنگ و ڈیزائن ایک شاہراہ پر کتنے بورڈ تنصیب ہںوں گے
بشمول سالانہ معائنہ ٹیم کے دورے وغیرہ وغیرہ۔
لیکن یہاں تو قلم جنبش یکدم احکامات جاری کردئیے گئے کہ اب کوئی ہںورڈنگ بورڈ نہیں لگے گا۔ کراچی دنیا کا آٹھواں بڑا شہر ہے شہروں کی خوبصورتی کیلئے شاہراہیں پُل پارک لائٹیں رنگی برنگی قمقموں کی روشنی کے ذریعے شہر کو چار چاند لگائے جاتے ہیں۔ لندن پیرس نیویارک سنگاپور ہر شہر کی خوبصورتی کے پیچھے خوبصورت چمکتے دمکتے ہںورڈنگ بورڈ ہںوتے ہیں۔ لہذا یہ ایک حقیقت ہے کہ کراچی کی خوبصورتی کیلئے بھی ہںورڈنگ بورڈ ضروری ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ہماری سول انتظامیہ اس سلسلے میں نئے سرے سے قانون سازی کرکے ہںورڈنگ بورڈ کی صنعت سے وابستہ ہزاروں مزدوروں کے گھر کے چولھے ٹھنڈے ہںونے سے بچائیں۔
کراچی پچھلے 30 سالوں سے دُکھ درد جھیلتے جھیلتے تھک گیا ہے اس کے باسی معاشی طور پر کمزور ہںوگئے ہیں۔ روزگار کے مواقع ناپید ہںوگئے ہیں صنعتکار دیگر شہروں میں سرمایہ کاری کرچکے ہیں ایسی صورتحال میں سول انتظامیہ کو عدلیہ کو قائل کرنے کیلئے ایک مظبوط کیس بناکر دوبارہ جانا ہںوگا۔ ہںورڈنگ بورڈ کی صنعت سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے نجی عمارتوں کے مالکان بھی معقول آمدنی کے عوض اپنا گزر بسر کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں۔
ہماری صرف اتنی درخواست ہے کراچی اس وقت رینجرز آپریشن کی وجہ سے انتہائی حساس شہر بنا ہںوا ہے پاکستان دشمن قوتیں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی لہذا کوئی چھوٹی سی غلطی کسی بڑے اندیشہ کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر ہںورڈنگ بورڈ کراچی میں خطرناک ہیں تو مُلک کے دیگر شہروں میں کیوں نہیں پابندی لگانی ہے تو پھر ہر جگہ لگائیں صرف کراچی میں ہی کیوں؟؟؟
جناب عالی یہ بھی ایک حقیقت ہے شہر سے ہںورڈنگ بورڈ کے ہٹنے کے بعد کراچی بالکل ایک اُجڑی ہںوئی بیوہ کی منظر کشی کررہا ہے۔

Videos Going Viral

Junaid Jamshed’s Voice M
All the Dead-Bodies of PIA Cra
Junaid Jamshed’s Brother
Singer Salman Ahmad’s Wi
Waseem Badami Ne Junaid Jamshe
Wasey Chaudhry Ne Regular Show
Kia Junaid Jamshed Ko Apni Mou
Junaid Jamshed home inside Aft
Junaid Jamshed Home After His
Rauf Klasra Nay Junaid Jamshed