ہم مجبوری کے گوکن ہیں

Posted on August 6, 2016

کسی معاشرے ،کسی ریاست کے مکمل طور پرفکری دیوالیہ پن کااس سے بہتر کیا ثبوت دیجیے گا کہ ’’دو نمبر وکلا تحریک میں افتخار چوہدری اورپرویز مشرف کی حمایت کی خاطرسڑکوں پر آپس میں لڑنے مرنے والی عوام،وکلا ،سیاستدان ، صحافی، نام نہادسول سوسائٹی ،ادیب دانشور، سب عام آدمی کی آزادی اظہاررائے،شخصی آزادی اور بنیادی حقوق کے خلاف بنائے گئے سائبر کرائم قانون پر خاموش ہیں( معاف کیجیے گا غلطی سے سیاسی جماعتوں کا بھی لکھ دیا ، سیاسی جماعتوں نے ہی تو یہ قانون بنایا ہے، بھلاوہ کیوں اسکے خلاف بولیں گی)۔جس سپریم کورٹ کو پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت کے دوران صبح و شام بنیادی انسانی حقوق یاد آ تے تھے وہ بھی اس کالے قانون پر خاموش ہے ۔ اس قبرستان کی مُردہ دانش کی حالت اور حقیقت یہ ہے کہ کل جو پرویز مشرف کے ساتھ تھے ،وہ آج اسے اپنانے کو تیار نہیں اور جو افتخار چوہدری کے بے شمار لعنتوں جیسے جانثار تھے ، وہ اب اُسے گالیاں دیتے نہیں تھکتے۔ کل کسی نے سوال کیا کہ ’’جناب ہم عام لوگ اس قانون کے خلاف کر بھی کیا سکتے ہیں؟‘‘ سنو بھائی، تم اپنے بچوں اور انکی آئندہ نسلوں کو گونگا بہرہ کرنے والوں کی خاطر سڑکوں پر کتے کی موت مر سکتے ہو، تم افتخار چوہدری جیسے آمر چیف جسٹس اور مشرف جیسے فوجی آمر کے لیے سڑکوں پر نکل کربغیر کسی حقیقی عوامی یا ذاتی مفاد،کتوں ہی کی طرح آپس میں لڑ سکتے ہو ، مگر تم اپنے اور اپنے بچوں کے آزادی ء اظہار کی خاطر کچھ نہیں کر سکتے۔
فکری دیوالیہ پن کی ذرا بہتر حالت لاشوں کا ماننا ہے کہ ’’قانون بن گیا تو کیا ہوا،اسے مانے گا کون اور کچھ کہتے ہیں کہ ’’قانون کوئی غلط نہیں ہوتابس اسکا استعمال درست ہونا چاہیے‘‘۔ او مردہ دانش کے شہرِ خاموشاں کے آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے والے باسیو! اس بات کی ضمانت تمھیں کون دے گا کہ اسکا استعمال غلط نہیں ہوگا؟ جنرل ضیاء کے بنوائے قوانین کے وقت کس کو علم تھا کہ ان کے غلط استعمال سے کتنوں کا استحصال کیا جائے گا، کتنے بے گناہوں کی جانیں لی جائیں گی؟ کب تم ان قوانین کے غلط استعمال کو روک سکے؟کب تم ان غلط فیصلوں سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹ سکے؟جنرل ضیا اچھے بھلے امن وامان اور بھائی چارے والے معاشرے کو فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کی آگ لگا کر کے چلا گیا، افتخار چوہدری تمھیں دن کی روشنی میں اُلو کا پٹھہ بنا گیا ، جلتی پر تیل ڈال گیا،اور اب یہ جمہوری حکومت، جمہوری ادارے کوئلے کو راکھ بنانے کے عمل میں مصروف ہے۔بتاؤ کب تک خاموشی سے آنکھوں دیکھی مکھیاں نگلتے ر ہوگے؟تم کہتے ہو کہ اس قانون سے فرق نہیں پڑے گا۔ یعنی اب آئین پاکستان پرتمھارے اور طالبان کے موقف میں کوئی فرق نہیں بچا۔اچھی بات ہے، انتہا پسندمولوی کے نزدیک یہ پہلے ہی کفر کا نظام تھا،باقی اکثریت کا اعتبارمنتخب انصاف کی وجہ سے پہلے ہی اٹھ چکا تھا، اب تم پڑھے لکھے بھی اسکی بے توقیری شروع کر دو۔ویسے تم سب گردنیں کاٹنے والوں کے ساتھ ہی کیوں شامل نہیں ہو جاتے؟ ان کا انصاف بھی تو منتخب ہی ہے، یہ انصاف با اثرامرا کے علاوہ کسی کو مہیا نہیں اور انکا انصاف انکے مکتب فکر کے علاوہ کسی کوجینے نہیں دیتا۔آج ملک کے بیشتر دور افتادہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے، کیا تم نہیں جانتے کل کی نسل کے لیے اسکے کیا معنی ہونگے؟بد بختویہ تمھاری آئندہ نسلوں کی آواز ہے۔اسمبلیوں میں بیٹھی اشرافیہ یہ قانون سازی تم کمی کمینوں کی زبان بندی کے لیے ہی تو کر رہی ہے ۔ سرمایہ دار کی دلال صحافت اسی لیے تو خاموش ہے کہ انکے علاوہ کوئی غریب مسکین طاقتور کے خلاف آواز بلند نہ کر سکے۔اسکی بدبودار شکل کسی کو دکھا نہ سکے۔ اگر اس سب کی آزادی عام آدمی اور اسکے بچوں کو ہوگی تو یہ اشرافیہ کوبلیک میل کر کے اپنا حصہ کیسے بٹوریں گے؟ با اثر اداروں ، سیاستدانوں اور اشتہار دینے والی کمپنیوں کے جرائم کی خبریں کیسے دبائیں گے؟انکی تو ساری عیاشیاں ہی تمھارے استحصال سے مشروط ہیں۔ورنہ جس معاشرے میں اکثریت فیملی کے ساتھ کھانے کی ٹیبل پر بھی تکیہ کلام کے طور پر گالی دینے سے باز نہیں آتی وہاں یہ سوشل میڈیا پر اخلاقیات مسلط کر رہے ہیں۔ وہاں جہاں پہلے ہی کسی نا پسندیدہ شخصیت کو بلاک کرنے کی سہولت موجود ہے۔وہ دو نامور صحافی جو پہلے پہل اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے کر گئے تھے اس ساری فکری پسماندگی کی بنیاد بنے انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ صحافت اخلاقیات سے زیادہ حقائق کا نام ہے، آزادی ء اظہار کا نام ہے اور تم دونوں اس کے منہ پر سیاہ دھبے ہو۔ان کے علاوہ جس سیاسی جماعت کی یوتھ کی بد تہذیبی، بدکلامی نے طاقتور کو عام آدمی کی آواز دبانے کا جواز فراہم کیا اور جودوسری جماعتوں کے کارکنان کو قیادت کی غلامی کے طعنے دیتی تھی،انھیں غلام ابن غلام کہتی تھی، وہ منافق یوتھ بھی اپنی قیادت کی بے غیرتی اوراس کالے قانون پرخاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔یعنی تم بھی بروٹس ہی نکلے، غلام زادے ہی ثابت ہوئے، تم سے تو پھر وہ گنتی کے دو چار جیالے ہی بہتر نکلے جو کم از کم اپنی جماعت کی اس حرکت کی مذمت تو کر رہے ہیں، تم میں سے تو دو چار بھی سامنے نہ آئے۔نواز لیگ جیسی آمریت کی گود میں پلنے والی ، پانامہ لیکس سے لتھڑی سرمایہ دار قیادت کا یہ قانون قومی اسمبلی سے نکل کر جب سینیٹ کی طرف گیا تو ہمارا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی کی سینیٹ میں موجود اکثریت اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اسے مسترد کر دے گی۔ مگر کیا کریں زرداری صاحب اور سینیٹ میں بیٹھی انکی اکثریت بھی تووڈیرا،جاگیر دار اور سرمایہ دار ہی ہے۔
بہر حال، اس قبرستان نما معاشرے کی اکثریت ہماری بات سمجھے نہ سمجھے، مگر ہم اپنے بچوں کی سماعت اور قوت گویائی چھیننے والے اس کالے قانون کے خلاف بولتے ہی رہیں گے۔خالی جیبوں پر لاکھوں کے جرمانے ہوں یا جیل ، ہم بولتے رہیں گے ۔وہ ہمارے بڑوں کی جہالت،پسماندگی اور جرم تھا جو ضیا اور بھٹو کی دستوری غلطیوں پر خاموش رہے اور ہمارے لیے اپنے سے زیادہ تنگ نظر معاشرہ چھوڑ گئے،مگر ہم دیوار پر لکھا پڑھ سکتے ہیں، ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطراس معاشرتی گھٹن میں مزید اضافے کے مجرمانہ قانون پر خاموش نہیں رہیں گے۔باقی جنھیں اس سب تفصیل اور روز روشن کی طرح عریاں حقیقت کی سمجھ نہیں آتی،جن کی آنکھ ان کے بچوں کے مستقبل کے لیے بھی نہیں کھلتی ،انکے لیے فقط اتنا ہی کہوں گا کہ، تم سب مان لو کہ تم مُردہ ہو ،کپڑے پہن کر بھی برہنہ ہو، چلتی پھرتی بدبودار زندہ لاشیں ہو ، اورہم جیسے پانچ دس فیصد پاگل لوگ مجبوری کے گورکن ہیں۔کیونکہ ہمیں اس قبرستان کو چھوڑنے کے لیے کسی اور جگہ کی شہریت بھی نہیں ملتی،مگر تم پریشان مت ہونا، فکر مت کرنا، جب تک دم میں دم ہے ، جب تک ہم اس قبرستان کی قید سے رہائی نہیں پا لیتے،جب تک تم جاگ نہیں جاتے یا ہم ہمیشہ کے لیے سو نہیں جاتے،ہم تمھاری مُردہ دانش اور چلتی پھرتی لاشوں کو یونہی اپنے لفظوں سے زندہ درگور کرتے رہیں گے!
عمار کاظمی

Videos Going Viral

Shahid Masood Reveals What Pml
Junaid Jamshed’s Last Vo
Maulana Tariq Jameel Reveals W
Aamir Liaqat Ne Show Ke Start
Salman Ahmed Sharing Good Thin
Waseem Badami Start Crying Dur
Junaid Jamshed Secret Revealed
Reason Behind the PIA Plane Cr
Junaid Jamshed Ki Namaz-e-Jana
Haroon Rasheed Analysis on Imr