کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا

Posted on August 6, 2016

کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ۔۔۔۔۔ !
تاریخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
۔1846ء میں انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر کشمیر پر اپنی حکومت قائم کر لی لیکن اسی سال 16 مارچ 1846ء کو انگریزوں نے اپنے وفادار گلاب سنگھ ڈوگرا کو 12 بکریوں، ایک گھوڑے ، چند شالوں اور 75 لاکھ نانک شاہی کے بدلے کشمیر کی ریاست بیچ دی!
برصغیر کی تقسیم کے وقت فیصلہ ہوا کہ خود مختار ریاستیں خود فیصلہ کرینگی کہ وہ کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتی ہیں تاہم انگریز حکومت کے ماتحت علاقوں کے الحاق کا فیصلہ ہندو مسلم اکثریت کی بنیاد پر کیا جائیگا۔
یہ بات یاد رکھئے کہ 1846ء کے بعد کشمیر میں کئی ایسے واقعات ہوئے جن کے بعد کشمیر کی خود مختاری متنازع ہو چکی تھی۔ وہاں غیر جانبدار ذرائع کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 77 فیصد تھی جبکہ کشمیر کی نمائندہ مسلمان جماعتوں کے مطابق مسلمان آبادی کا تناسب 90 فیصد تھا۔ تب اسکو تاج برطانیہ کے زیر تسلط علاقہ تسلیم کرتے ہوئے اسکو پاکستان کا حصہ بنانا چاہئے تھا۔
کشمیر میں 1924ء میں ہندو ڈوگرا کے خلاف آزادی کی تحریک جنم لے چکی تھی جس نے بعد میں سیاسی مزاحمت کی شکل اختیار کر لی۔ یوں مسلم کانفرس کے نام سے کشمیر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ سیاسی جماعت وجود میں آئی۔ اس جماعت نے 19 جوالائی 1947ء کو حامد اللہ خان کے زیر صدارت کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ اس دن کو آج تک انڈیا میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کچھ دن پہلے نواز شریف کی حکومت نے بھی اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا!
۔1947ء میں تقسیم کے فوراً بعد ہندو مہاراجا ہری سنگھ نے پاکستان کو ابتداء میں خود مختار رہنے کا جھانسہ دیا۔ اسی اثناء میں راولپندی اور سیالکوٹ سے بہت بڑی تعداد میں ہندوؤں نے کشمیر ہجرت کی اور وہاں کی مقامی ہندو آبادی کو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی جھوٹی داستانیں سنائیں جس کے بعد فوارً ہی مسلمانوں کے خلاف مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے۔ ہندو، سکھ اور ہری سنگھ کی فوج نے ملکر کشمیر کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا۔
مشہور سکالر الیاس چھٹہ کے مطابق کشمیر کی ہندو ڈوگرا حکومت کا مقصد اس قتل عام کے ذریعے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا تھا۔ پاکستان اور بھارت کی مقرر کردہ ایک غیر جانبدار برطانوی ٹیم کے مطابق صرف 2 مہینوں میں یعنی ستمبر تک قتل ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 70 ہزار سے اوپر ہوچکی تھی جبکہ کشمیری مسلمانوں کے مطابق مقتولین کی تعداد 2 لاکھ سے اوپر تھی۔ 10اکتوبر1947کو لندن ٹاٰٰئمز نے 2 لاکھ 37 ہزار مسلمانوں کو نیست و نابود کی خبر شائع کی جبکہ 4 لاکھ نے مجبورا پاکستان ہجرت کی۔ زیادہ تر پونچ اور میرپور میں آباد ہوئے۔ انہی نے بعد میں آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد رکھی۔
مسلمانوں نے اس قتل عام کے خلاف سردار ابراہیم کی قیادت میں مزاحمت شروع کر دی اور کئی علاقوں پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا۔ پاکستان نے اس قتل عام کو روکنے کے لیے ڈوگرافوج کی رسد کے راستے بند کر دئیے۔ جس پر راجہ ہری سنگھ نے فوری طور پر انڈیا سے رابطہ کیا اور مدد کی اپیل کی۔
انڈیا کے ساتھ ہری سنگھ کے رابطوں پر پاکستان نے کشمیریوں کی مدد کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ کھلم کھلا اپنے وعدوں سے پھر رہا تھا۔ قائداعظم کی اجازت سے کشمیری مسلمانوں کی مدد کے لیے قبائیلی مجاہدین کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
عبدلقیوم خان وزیراعلی کے پی کے نے قبائیلی لشکر کشمیر بھیجنے کا انتظام کیا جنہوں نے فوری طور پر ہندو اور ڈوگرا افواج کو شکست دیتے ہوئے کشمیر کے کئی اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا۔
اپنی شکست دیکھتے ہوئے کشمیر کے بھگوڑے راجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر کو کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف کشمیر کا الحاق انڈیا کے ساتھ کر دیا جسے دوسرے دن ہی انڈین حکومت نے تسلیم کر لیا اور اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دیں اور کئی اہم علاقے مجاہدین کے قبضے سے چھڑا لیے۔ تاہم 26 اکتوبر کو ہونے والے معاہدے میں بھی یہ شق موجود تھی کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام ہی کرینگے۔
یہاں کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قائداعظم کو نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بارہا رائے شماری کی پیشکشیں کیں جسے قائداعظم نے مسترد کر دیا اور کشمیر میں پہلے دخل اندازی کی بلکہ اس کو پاکستان کی شاہ رگ قرار دیا۔ تاہم یہ سارے لوگ حیدرآباد اور جوناگڑھ کے بارے میں خاموش رہتے ہیں۔
مسلم اکثریتی ریاست جوناگڑھ نے 15 اگست 1947 کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔ جسکو قائدعظم نے 16 ستمبر 1947ءکو تسلیم کر لیا۔ انڈیا نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا اور جوناگڑھ کی چاروں طرف سے ناکہ بندی کر لی۔ جس کے بعد وہاں قحط کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اسی دوران وہاں ذولفقار علی بھٹو کے والد شاہنواز بھٹو جو دیوان کے عہدے پر تھے سے خفیہ مزاکرات جاری رکھے۔ ان مزاکرات کے نتیجے میں شاہنواز بھٹو نے ایک خط کے ذریعے انڈیا کو نومبر میں جوناگڑھ کا کنٹرول سنبھالنے کی دعوت دی اور انڈیا نے 9 نومبر کو جوناگڑھ میں باقاعدہ اپنی فوجیں اتار کر قبضہ کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ جوناگڑھ کے پاکستان سے الحاق کے فیصلے کو انڈیا نے کس بنیاد پر مسترد کیا تھا ؟؟
اسی طرح حیدرآباد ایک کروڑ سے زائد آبادی اور کشمیر سے بڑے رقبے پر مشتمل ایک خودمختار ریاست تھی۔ وہاں کے مسلمان حکمران جس کو ” نظام ” کہا جاتا تھا نے 9 جولائی 1947 کو تاج برطانہ کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ حیدرآباد آزاد رہے گا۔ حیدرآباد حکومت کے اس فیصلے کو انڈیا نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔ وہاں کے حکمران نے اقوام متحدہ سے بھی مدد طلب کی لیکن وہ بھی اس کے کسی کام نہ آسکی اور بلاآخر انڈین فوجوں نے حیدرآباد پر چاروں طرف سے ایک بھرپور حملہ کرکے قبضہ کر لیا۔ نظام کی 6000 کی مختصر سی فوج انڈین حملے کا مقابلہ نہ کر سکی۔ انڈیا کے اس حملے میں حیدرآباد کے بہت سے مسلمانوں کو مار اور لوٹا گیا اور بہت سی عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔ انڈیا نے کس بنیاد پر اس ” خود مختار ” حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کیا تھا؟؟
جوناگڑھ اور حیدرآباد کے سلسلے میں انڈیا کی ہر دلیل پاکستان تو کیا دنیا کی ہر ریاست کو کسی بھی جگہ بزور طاقت قبضہ کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ انڈیا کی اس بدمعاشی کے مقابلے میں قائداعظم کی مسلمانوں کا قتل عام روکنے کے لیے کشمیر مجاہدین بھیجنے کی پالیسی بہت بڑی نیکی نظر آتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ قائداعظم رائے شماری کے لیے مان گئے تھے لیکن اس شرط پر کہ رائے شماری صرف کشمیر اور جوناگڑھ میں کی جائے۔ اگر حیدرآباد نے آزاد رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کو آزاد رہنے دیا جائے۔ انڈیا نے قائداعظم کی اس شرط کو تسلیم نہیں کیا۔
اقوام متحدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
۔1948ء کے اوائل میں پاک فوج کے باقاعدہ دستے پہلی بار کشمیر پہنچانا شروع ہوگئے جس کے بعد انڈیا اس مسئلے کو فوری طور پر اقوام متحدہ لے کر گیا۔ اقوام متحدہ نے 21 اپریل 1948ء کو اپنی قرار نمبر 47 منظور کی جس کے تحت دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ قرار دے دیا۔
انڈیا نے شرط رکھی کہ پہلے پاکستان اپنی افواج اور مجاہدین واپس بلائے تب ہم فوج نکالینگے۔ قائداعظم اس معاملے میں انڈیا پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
بلاآخر 1949ء میں قائداعظم کی وفات کے بعد کشمیر میں سیز فائر ہوگیا اور پاکستان کی اس وقت کی حکومت اور نہرو نے اقوام متحدہ کی کشمیر میں رائے شماری کے فیصلے کو تسلیم کر لیا۔ جس پر آج تک انڈیا نے عمل درآمد نہیں کیا اور پاکستان آج تک اس کا مطالبہ کر رہا ہے۔
روس نے پہلی بار کشمیر کے مسئلے کو 1957ء میں ویٹو کیا جواباً ایوب خان نے 1959ء میں روس کے خلاف امریکہ کو بڈھ بیر کا ہوائی اڈا استعمال کرنے کی اجازت دےدی۔
آزاد کرانے کی کوششیں ۔۔۔ !
پہلی جنگ کے بعد پاکستان نے کشمیر کو اب تک 3 بار آزاد کروانے کی بہت بڑی کوششیں کیں اور اس کے لیے انڈیا سے جنگ مول لی۔
پہلی کوشش جنرل ایوب خان نے آپریشن جبرالٹر کی صورت میں کی جس کو ناکام بنانے کے لیے انڈیا نے بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے 1965ء میں لاہور پر حملہ کر دیا اور یوں پاکستان اور انڈیا میں پہلی بڑی جنگ ہوگئی۔
دوسری کوشش جنرل ضیاء نے کی تھی جس نے نہ صرف کشمیری مجاہدین کی مدد کر کے تحریک آزادی کو عروج پر پہنچا دیا تھا بلکہ کشمیر کے بارڈر پر سکھوں کی خالصتان نامی ریاست بنانے کی مدد کی جو تقریباً کامیاب ہوگئی تھی۔ لیکن پھر بے نظیر بھٹو کی غداری کی نظر ہوگئی۔ خالصتان بن جانے کے بعد انڈیا کا کشمیر سے زمینی رابطہ کٹ جاتا اور کشمیر خود بخود آزاد ہوجاتا۔
کشمیر کو آزاد کرانے ی تیسری بڑی کوشش جنرل مشرف نے کی جس نے 1999ء میں کارگل کی 6 چوٹیوں پر قبضہ کر لیا۔ اس جنگ میں انڈیا کی 2 لاکھ فوج کو مٹھی بھر پاک فوج اور مجاہدین نے بے بس کر دیا تھا۔ پاکستان اس جنگ میں کس حد تک حاوی تھا اسکا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ قبضہ کی گئی 6 چوٹیوں میں سے صرف ایک پر جنگ ہو رہی تھی۔ انڈین فوج کی سپلائی لائن کاٹ دی گئی تھی اور یہ جنگ کچھ عرصہ اور جاری رہتی تو کشمیر میں موجود کئی لاکھ کی انڈین فوج کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔
کارگل کی جنگ انڈیا کے سیاچن پر ناجائز قبضے کا جواب تھا جس میں انڈیا نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سردیوں میں پاکستان کے خالی کیے گئے مورچوں پر قبضہ کر لیا۔
پاکستان نے کارگل میں عین وہی انڈین حکمت عملی اپناتے ہوئے ان کے خالی کیے گئے مورچوں پر جوابی قبضہ کیا تو انڈیا پوری دنیا کے سامنے چیخ پڑا اور تو اور سب سے زیادہ بار پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے نواز شریف نے خود اسکو ” انڈیا کی پٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف” قرار دیا ۔۔۔۔۔ !
کشمیر کاز کو ہونے والے نقصانات ۔۔۔۔۔۔۔ !
کشمیر کاز کو پہلا اور بڑا نقصان ذولفقار علی بھٹو نے شملہ معاہدے میں پہچایا جس میں اس نے نہایت احمقانہ انداز میں سیز فائر لائن کو نہ صرف لائن آف کنٹرول تسلیم کر لیا بلکہ یہ بھی مان لیا کہ مسئلہ کشمیر کو ہمیں کسی تیسرے فریق کو ملوث کیے بغیر حل کرنا چاہئے۔ بھٹو کی جانب سے یہ شق تسلیم کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کشمیر پر کم از کم ڈیڑھ درجن قرار دادیں پاس کر چکا تھا۔
بے نظیر نے خالصتان تحریک تباہ کر کے کشمیر کاز کو ناقابل نلافی نقصان پہنچایا۔
نواز شریف نے کارگل جنگ میں مجاہدین اور پاک فوج کو غیر مشروط پر طور پہاڑوں کی چوٹیوں سے واپس بلا کر ایک جیتی ہوئی جنگ کو ہار میں بدل دیا۔
مولانا فضل الرحمن نے 2002ء میں اپنے انڈیا دورے کے موقعے پر نہ صرف کشمیر کو علاقائی تنازع قرار دیا بلکہ وہاں مجاہدین کی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دے دیا۔
انہی مولانا کو کشمیر کمیٹی کا چیرمین بنایا گیا تو کشمیر پر پاکستان کی آواز خاموش ہوگئی جس کے بعد نومبر2010ء میں اقوام متحدہ نے کشمیر کو اپنے متنازع علاقوں کی فہرست سے نکال دیا۔ اس پر مولانا اور اس وقت کی جمہوری حکومت بلکل خاموش رہیں حتی کہ پاکستان میں بھی اکثر لوگوں کو پتہ ہی نہ چلا کہ کتنا بڑا نقصان ہو چکا ہے۔
مشرف نے اپنے دور میں انڈیا کو لائن آف کنٹرول پر باڑ لگانے کی اجازت دی جو کہ ایک غلط فیصلہ تھا۔
کشمیر سے بزورطاقت اب تک انڈیا کم از کم 15 لاکھ کشمیریوں کو علاقہ بدر کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے زیر قبضہ علاقوں میں پچھلے کچھ سالوں سے بہت تیزی سے ہندوؤں کی آباد کاری کر رہا ہے جس کے بعد انڈین اعداوشمار کے مطابق لداخ، جموں اور کشمیر میں ہندؤوں کو مسلمانوں پر اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ اب اگر وہ صرف اپنے زیر قبضہ علاقوں میں رائے شماری کروائے تو انڈیا کشمیر جیت سکتا ہے۔ اس پر جمہوری حکومت کوئی آواز نہیں اٹھا رہی!
انڈین ظلم جنوری 1989ء تا 2008ء۔۔۔۔۔۔۔
صرف اس عرصے میں پاکستان کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک مقبوضہ کشمیر میں 92651 کو شہید
105657 مکانات تباہ
107208 بچے یتیم
22670 عورتیں بیوہ
9843 عورتوں کی بے حرمتی
اور بھارتی قبضے سے لے کر آج تک 15 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا جا چکا ہے!
اس ظلم عظیم کے باجود وہاں کے مسلمانوں میں آزادی کا جذبہ پہلے دن کی طرح تازہ ہے اسکا ایک ثبوت کشمیر کے موجودہ حالات ہیں جو پاکستان پوری طاقت سے دنیا کے سامنے پیش کر کے یہ ظلم بند کروا سکتا ہے۔ لیکن شائد متنخب جمہوری حکومت کوئی بھی ایسا عملی اقدام اٹھانے پر تیار نہیں جس سے کشمیریوں کو ذرا سی بھی مدد مل سکے!
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت خصوصی حیثیت دی ہوئی ہے۔
لیکن یاد رکھئے کشمیر کو آج بھی اقوام متحدہ نے انڈیا کا حصہ تسلیم نہیں کیا ہے نہ ہی پاکستان نے اور نہ ہی کشمیری عوام نے۔ کشمیر پر پاکستان اور انڈیا کی ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے جو پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ صرف اسی کو دیکھا جائے تو کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اور حساس تنازع ہے جو ہمارے جمہوری حکمرانوں کی بے حسی کی نظر ہو رہا ہے!
یہ بھی شائد جمہوریت کا حسن ہی ہے کہ ایک طرف جب کشمیر میں محاورۃً نہیں بلکہ عملاً لوگوں کی آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا تو ان سے صرف چند قدم کے فاصلے پر ہماری جمہوریت بھنگڑے ڈال رہی تھی اور ” دل خوش ” ہونے کے نعرے لگا رہی تھی!
تحریر شاہدخان

Videos Going Viral

Nawaz Sharif Will Be Sack on 1
Muniba Mazari And Hamza Ali Ab
Murad Saeed Bashing Daniyal Az
Raheel Sharif Ne Bara Ailaan K
Junaid Saleem And Azizi Making
Resign and Get Lost Dr Shahid
Exclusive Audio Of Nawaz Shari
Imran Khan Making Fun Of Inamu
What This Young Girl Did When
What Sheikh Rasheed Is Doing I