کواپریٹیو سوسائیٹیز سکینڈل

Posted on July 28, 2016



۔1992ء میں کواپریٹو سوسائیٹیز کے نام سے نواز شریف کا ایک عظیم الشان سکینڈل سامنے آیا!
یہ سوسائیٹیز ایسے ادارے تھے جو سفید پوش اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی رقوم بطور امانت رکھتی تھیں اور بعد میں صرف اپنے ممبران کو آسان شرائط پر قرضے دیتی تھیں۔ یہ ساری سوسائٹیز اچانک دیوالیہ ہو گئیں اور ان میں اپنی رقوم جمع کروانے والے ریٹائرڈ ملازمین ، یتیم ، بیوائیں اور غریب لوگ اپنی کل پونجی اور عمر بھر کی کمائی سے یکلخت محروم ہوگئے۔
جلد ہی انکشاف ہوا کہ ان سوسائیٹیز کے پاس موجود لوگوں کی رقوم غیر قانونی طریقے سے نواز شریف کی ملکیت اتفاق گروپ آف کمپنیز منتقل کی گئیں ہیں۔ اس فراڈ سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد 7 لاکھ سے اوپر بتائی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس سکیم کے تحت لوگوں سے کم از کم 17 ارب روپے لوٹے گئے۔
حقائق سامنے آنے پر نواز شریف نے اعلان کیا کہ اتفاق گروپ لوگوں کو رقوم واپس کرے گا۔ لیکن صرف گنتی کے چند لوگوں کو ہی رقم مل سکی اور لاکھوں متاثرین تباہ و برباد ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فراڈ سے متاثر ہونے والے 90 فیصد لوگوں کا تعلق پنجاب اور آزاد کشمیر سے تھا۔
تحریر شاہدخان