انڈین وزیرداخلہ کا دورۂ کشمیر

Posted on July 23, 2016

ڈیا کے زیر انتظام کشمیں دو ہفتوں سے جاری کشیدگی سے نمٹنے کے لیے انڈین حکومت نے عوام سے رابطہ بحال کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔
اس حوالے سے انڈین وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سنیچر کو دور روزہ دورے پر سرینگر پہنچے ہیں۔ حکومت نے ان کی آمد پر بڈگام، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور گاندربل میں کرفیو ہٹانے کا اعلان کیا جبکہ سرینگر کی مضافاتی بستیوں میں ناکہ بندی کو نرم کردیا گیا۔
لیکن ان سبھی علاقوں میں موجود پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد بدستور تعینات رہے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نرمی کے باوجود چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی جاری رہے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ انڈین وزیرداخلہ سنیچر کی صبح سرینگر کے ایئر پورٹ سے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر براہ راست گورنر نریندر ناتھ ووہرا کی سرکاری رہائش گاہ پہنچے جہاں انھوں نے پولیس، فوج، نیم فوجی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے
اعلیٰ افسروں کی موجودگی میں گورنر کے ساتھ موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا
بعد میں وزیر داخلہ نہرو گیسٹ ہاوس پہنچے جہاں وہ حکمراں اتحاد پی ڈی پی اور بی جے پی کے وزرا اور اراکین اسمبلی سے مختلف مراحل میں دیر رات تک ملاقاتیں کریں گے۔

حکومت نے پہلے ہی نوجوان صنعت کاروں، تجارتی انجمنوں، ادیبوں، سماجی رضاکاروں، کالم نویسوں، تجزیہ نگاروں اور دوسرے نوآموز سیاسی گروپوں کو وزیرداخلہ سے ملاقات کے لیے مدعو کیا ہے۔ تاہم ہوم منسٹر سے ملاقات کے بارے میں اکثر حلقوں کو تحفظات ہیں۔

کشمیر میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سمیت سبھی تجارتی انجمنوں نے علی الاعلان کہا ہے کہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کے دوران ایسی ملاقات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔۔چیمبرز آف کامرس کے ترجمان فیض بخشی نے ایک بیان میں کہا: ’ہمارے بچوں کی آنکھیں چھینی گئیں، 50 سے زائد کو ہلاک کیا گیا اور سینکڑوں ہسپتالوں میں پڑے ہیں۔ ایسے میں ہمارے پاس ایک ہی آپشن ہے اور وہ ہے احتجاج۔ لہِذا ہم ہوم منسٹر سے نہیں ملیں گے۔‘
بعض مقامی اخبارات نے اپنے ذرائع کا حوالہ دے کر انکشاف کیا ہے کہ راج ناتھ سنگھ علیحدگی پسند رہنماوں کو مذاکرات کی دعوت دیں گے۔ لیکن سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا براہ راست لہجہ ممکن نہیں ہے۔
حکمران پی ڈی پی کے ایک سینئر رہنما نے بی بی سی کوبتایا: ’ہم اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مالی پیکیج، روزگار کے وعدے یا دوسرے اقتصادی مرعات سے یہ مسلہ حل نہیں ہوگا۔ ہم ضرور چاہیں گے کہ ایک سیاسی پیکیج کا اعلان ہو، لیکن حکومت ہند کہتی ہے کہ وہ سب سے بات کرے گی۔ جب تک بات چیت کے عمل میں بنیادی کرداروں کا تعین نہیں ہوتا تب تک مذاکرات کی پیشکش کی امید نہیں کی جاسکتی۔مبصرین کہتے ہیں کہ ’بی جے پی فی الوقت علیحدگی پسندوں کو مذاکرات کی پیشکش کی متحمل نہیں ہوسکتی ، کیونکہ کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے اور مسلمانوں کو کوئی سیاسی رعایت دینے کا مطلب ہے کہ اترپردیش یا پنجاب کے انتخابات میں اپوزیشن کی تنقید مول لینا۔‘
اگر واقعی راج ناتھ کا دورہ بغیر کسی سیاسی پیکیج کے اختتام کو پہنچا تو حکمران پی ڈی پی کو عوامی ساکھ مزید خراب ہوجائے گی
واضح رہے کہ راج ناتھ سنگھ کے دورہ کا اعلان ہونے کے چند گھنٹے بعد جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ علاقہ میں فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو ہلاک کردیا

Videos Going Viral

This Video Of Virat & Anu
Aaj Adalat Mein Kia Hua Aur Ju
’’میں آپ سے بڑا
Great Reply to Baloch Student
Lahore Main Fahashi Urooj Per,
Sharmila Farooqi Exposing Mary
Rauf Klasra’s Detailed A
Reema Khan Got Ill Sudden in a
Nawaz Sharif Government Will B
Check Talal Chaudhry’s B