قصور وار کون ؟

Posted on July 18, 2016

گزشتہ چند سالوں سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلاب سا بھرپا ہوگیا ۔سوشل میڈیا نے دنیا کو یکجا کردیا ہے ۔پاکستان سمیت پوری دنیا بھرمیں انٹرنیٹ سارفین کی تعداد میں ہوشر با اضافہ ہورہا ہے۔شہر تو دوردیہاتوں میں بھی لوگ موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرتے نظر آرہے ہیں ۔اوراب تو تھری جی اور فور جی کی سروس بڑے شہروں سے دور دراز علاقوں میں بھی با آسانی دستیاب ہے ۔ مختلف ٹیلی کام کمپنیاں اپنے یوزرز کی تعداد بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہوکر سستے سے سستے پیکجز فراہم کر رہی ہیں جس سے انٹرنیٹ عام آدمی کی بساط میں آچکا ہے۔ماضی میں” گلوبل ویلج ‘کا لفظ اکثر بولا جاتا تھا کہ دنیا بہت جلد ایک گاؤں کی مانند ہوگی جہاں معلومات کی رسائی بہت آسانی اور برق رفتار سے ہوجایا کرے گی ۔اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو لفظ مستقبل قریب کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اب وہ ہمارے حال کا حصہ بن گیا ہے اور واقعی دنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے ۔اب دو افراد کے درمیان دوری جغرافیائی خدوحال کو مدِ نظر رکھ نہیں مانپی جاتی بلکہ صرف انٹرنیٹ کی عدم دستیابی ہی دوری پیدا کرتی ہے ورنہ تو لوگ ایک دوسرے کے قریب تر ہیں چاہیں وہ 2مختلف برِ اعظموں میں ہی کیوں نہ مقیم ہوں ۔
میرا یہ ماننا ہے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا لوگوں کو معاشرتی طور پر ایک دوسرے سے دور کر رہے ہیں۔ شاید کسی کو اختلاف ہو مگر ہر کسی کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ کیونکہ اس نے ہمارے جینے کے انداز یکسر بدل دیئے ہیں۔ پہلے لوگ فارغ وقت میں اپنے اہل و عیال ، اقربا اور دوست احباب کو وقت دیا کرتے تھے مگر اب فیس بک پرمصروف محترم کو پاس بیٹھاتو کوئی نظر نہیں آتا مگر وہ انٹرنیٹ پر نئے دوست تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔پہلے لوگ دوسروں کی خوشی غمی میں بکلم خود شریک ہوتے تھے مگر اب زیادہ تعداد سوشل میڈیا پر لائیکس اور کمنٹس کرکے ہی گزارا کرلیتی ہے اور اگر کوئی زیادہ چاہنے والا ہو تو اس کے حق میں اپنی پروفائل پر سٹیٹس لگادیئے جاتے ہیں تاکہ متعلقہ شخص کو پتہ چل جائے کہ ہمیں اس سے کتنی ہمدردی ہے۔ کچھ اسی طرح آجکل دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد ہوتا ہے ۔ لوگ اظہار ہمدردی کے لئے متعلقہ ملک کے پرچم کو اپنی پروفائل میں لگا لیتے ہیں جیسا پیرس اور ترقی میں ہونے والے حملوں کے بعد آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا ۔
ایسا ہی کچھ آج کل پاکستان میں ہورہا ہے ۔حالیہ دنوں میں کشمیر میں ہونے والی بھارتی دہشت گردی جس کے نتیجہ میں اب تک 22افراد شہید اور 300سے زائد زخمی ہوچکے ہیں اور حریت رہنما بدستور گرفتار یا اپنے گھروں میں نظر بند ہیں ۔اس دہشت گردی کے خلاف بھی پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین احتجاج کرتے نظر آرہے ہیں اور درج زیل نعروں پر مشتمل پوسٹس کی جارہی ہیں۔ ” میں ہوں کشمیر “،”لے کر رہیں گے آزادی”،”کشمیر بنے گا پاکستان”وغیرہ وغیرہ۔سیانے کہتے ہیں “کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا” بالکل وہی حال ہماری قوم کا ہے ہم نے یورپ سے سلفی کلچر تو لیا ہی تھا اب یہ سستا سا احتجاج کرنے کا طریقہ بھی اپنا لیا ہے۔ یعنی کے ہم کشمیری بھائیوں کی شہادت کے نام اپنے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ہونے والی پوسٹس کر رہے ہیں۔کتنی مضحکہ خیز بات لگتی ہے۔
ہماری قوم دوہرا معیار اپنا کر کشمیری امنگوں کی ترجمانی کرنے کا دعویٰ کرتی نظر آتی ہے۔ ایک طرف ہمارے حکمران جو ہر وقت بھارت دوستی کے راگ الاپ رہے ہوتے ہیں تو عوام بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔سوشل میڈیا پر بڑے فخریہ انداز میں “میں ہوں کشمیر “لکھنے والے نوجوان سینما گھروں کی زینت بنی بھارتی فلموں کے لئے پاگل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ منافقت کی انتہا دیکھئے کچھ جوان ایسے بھی ہیں جنہوں نے برہان وانی کی شہادت کو سستا سا خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کی تصویر کو اپنی پروفائل پر لگایا وہی رات دس بجے والے شو میں سینما گھر بیٹھ کر بڑے فخریہ انداز میں سٹیٹس “Watchinh Sultan Movie At CinePax” لگاتے ہیں۔اب ایسی قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
میں نے اپنی گزشتہ تحریر میں بھی یہی لکھا تھا کہ یہ دوہرا معیار کیوں اپنایا جاتا ہے۔ ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے ۔اس کے ساتھ تجارت نہیں کرنی چاہئے ۔ اس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں وغیرہ وغیرہ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اس سب میں ہمارا کیا کردار ہے۔ میرے خیال میں صرف حکومت کو دوش دینا مناسب نہیں ہمیں اپنے رویات کو تبدیل کرنا ہوگا۔فلموں پر پابندی حکومت نے نہیں لگوانی بلکہ عوام نے خود لگانی ہے ان کا ذاتی طور پر بائیکاٹ کرکے۔گھروں میں انڈین ڈراموں کی یلگار ایک طرف اپنا بزنس کر رہی ہے دوسری طرف نسل نو کو ہماری ثقافت اور نظریات سے دور کیا جا رہا ہے۔ آج کل کے بچے کو محمود غزنوی کا نہیں پتہ البتہ وہ شکتی مان سے ضرور ملنا چاہے گا کیونکہ اسے جو دکھایا گیا وہ اسی کا فین ہے۔معزرت کے ساتھ ہمارے ملک کی خواتین کا بھی کافی حد تک قصور ہے جو اٹھتے بیٹھے سٹار پلس کے غیر معیاری ڈرامے دیکھ کر اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہیں۔اسی وجہ سے شائد ہمارے خون میں دہرا معیار پیدا ہوگیا ہے.کیونکہ ہم کشمیر فتح کرنے کا خواہاں بھی ہیں اور دوسری جانب ہمیں بھارتی شوبز انڈسٹری سے بھی اتنا لگاؤ ہے کہ گھر بیٹھ کر ہی قطرینہ کیف اور رنبھیر کی شادی کروارہے ہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ صرف فلمیں دیکھنے سے کیا ہوتا ہے یہ تو ایک طرح کی تفریح ہے اس سے دشمن کو کیا فائدہ ہوگا تو ان کی خدمت میں چند حقائق پیشِ نظر ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں ٹاپ بھارتی فلموں نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کتنا کاروبار کیا۔
دبنگ ٹو نے تین کروڑ اسی لاکھ پاکستانی روپے،باڈی گارڈ نے سات دن میں پانچ کروڑ پچاس لاکھ ، ڈان ٹو نے چھ کروڑ بیس لاکھ ،ریس ٹو نے سات کروڑ اسی لاکھ، ویلکم بیک نے آٹھ کروڑ پچاسی لاکھ صرف ایک ہفتہ میں، چنائی ایکسپریس نے نو کروڑ پچہتر لاکھ ایک ہفتہ میں،ہیپی نیو ایئر نے نو کروڑ نوے لاکھ دو ہفتوں میں۔کک نے سولہ کروڑ پینتیس لاکھ دو ہفتوں میں،بجرنگی بھائی جان نے تئیس کروڑ بیس لاکھ ایک ہفتہ میں، پی کے نے تئیس کروڑ پچیس لاکھ ایک ہفتہ میں،دھوم ۳ نے پچیس کروڑ صرف ایک ہفتہ میں اور سب سے بڑ ھ کر حیران کن بات اب ہے ۔ ہم حکمرانوں کو کوستے ہیں کہ وہ بھارتی دوستی گم ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے تو صرف آموں کی ٹوکریا ں ہی تحفتاََ بھیجی تھیں جسے سفارتی تعلق بھی کہا جا سکتا ہے لیکن برہان وانی کی تصویر کو پروفائل پر لگانے والی قوم، سوشل میڈیا پر سٹیٹس کے زریعے بڑی بڑی باتیں کرنے والی قوم نے ابھی بھارتی دہشتگردی کے جواب میں ایک ہفتہ سے بھی کم وقت میں سلطان فلم دیکھ کر پندرہ کروڑ سے بھی زیادہ رقم تحفے کے طور پر بھیجی ہے کیونکہ ہم ایک با غیرت قوم ہیں ۔سوچنا پڑے گا

Videos Going Viral

Aaj Apki Chappal Bhi Toot Gai
Amir Liaquat Chitrols Najam Se
Last audio message of JunaidJa
Amitabh Bachan Ne Facebook Li
What was the Condition of Bush
Justice (r) Nasira Is Insultin
What is the Condition of Junai
Maulana Tariq Jamil Arrived at
Check Simplicity Of Imran Khan
Live With Dr Shahid Masood –