جمہوریت اور آمریت کی حقیقت

Posted on July 18, 2016

یہ امر نوٹ کیا جانا چاہئے کہ پاکستان میں ہمیشہ صرف اور صرف مارشل لاء کے ذریعے ہی پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی ہوئی ہے۔
جمہوریت میں یہ منتقلی بے پناہ انتشار، خونریزی، املاک کی تباہی اور قومی خزانے پر اربوں روپے کا ناقابل برداشت بوجھ ڈالنے کے بعد ہی ممکن ہوتی ہے اور وہ بھی ناپائیدار۔ کیونکہ یہ سب ہوجانے کے بعد بھی انتخابات میں ناکام ہوجانے والی جمہوری قوتیں کبھی اپنی ناکامی تسلیم نہیں کرتیں اور محاذ آرائی پر اتر آتی ہیں۔ یوں ریاست میں مسلسل ایک لڑائی کی سی کیفیت جاری رہتی ہے اور اقتدار کی اس رسا کشی میں ملکی معاملات کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
جمہوریت اور آمریت کے حوالے سے بہت کچھ اس کے الٹ ہے جو ہمیں بتایا جاتا ہے۔
مثلاً یہی دیکھ لیجیے کہ جمہوری عمل کے نتیجے میں بننے والی نام نہاد “عوامی حکومتوں” پر درحقیقت عوامی رائے قطعاً بے اثر ہوتی ہے۔ ان کے مقابلے میں حیرت انگیز طور پر آمر کہلانے والے حکمران عوامی رائے کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ مثلاً
ایوب خان نے عوام کے ایک بار کتا کہنے پر حکومت چھوڑ دی۔ مشرف نے محض وکلاء کی تحریک پر استعفاء دے دیا۔
لیکن بھٹو، بے نظیر، نواز شریف اور آصف زرداری وغیرہ کے خلاف عوامی احتجاج کی حالت یہ ہوتی ہے کہ درجنوں لوگوں کی اموات ہوجاتی ہیں سینکڑوں زخمی ہو جاتے ہیں۔ پورا ملک منتشر ہوجاتا ہے حتی کہ ملک ٹوٹ بھی جاتا ہے لیکن یہ ٹس سے مس نہیں ہوتے!
لہذا آج میں کچھ پرانے جانے پہچانے جملون کی اصلاح کرتا ہوں۔ اب مجھے کہنے دیجیے کہ ” پاکستان پر جب بھی جمہوریت نے شب خون مارا ہے پاکستان کئی عشرے پیچھے چلا گیا ہے ” ۔۔
“پاکستان میں کرپشن، دہشت گردی، اداروں کی تباہی، لسانی اور مسلکی اختلافات اور صوبائیت یہ سب جمہوریت کے تحفے ہیں!”
” کیا پاکستان مزید جمہوریت کا متحمل ہو سکتا ہے ؟” ۔۔۔۔
تحریر شاہدخا

Videos Going Viral

Sharmila Farooqi Exposing Mary
Rauf Klasra’s Detailed A
Reema Khan Got Ill Sudden in a
Nawaz Sharif Government Will B
Check Talal Chaudhry’s B
Babar Awan Crushing Najam Seth
Live With Dr Shahid Masood –
Kashif Abbasi Playing Shahbaz
Petrol Corruption at Lahore MM
Fake or Real? ‘Alien Ani