دوست دوست نہ رہا، پیار پیار نہ رہا

Posted on June 17, 2016

کوئی بھی تاریخی سچائی تسلیم کرنے میں کسی بھی قومیت کو کوئی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ افغانستان سے جتنے بیرونی حملہ آور ہندوستان میں داخل ہوئے انکی اکثریت وہ تھی جو وہاں کسی کام کی نہیں تھی اور وہاں سے جان بچا کر بھاگی تھی۔ بابر مار کھا کر ہندوستان میں داخل ہوا اور ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ مطلب وہاں کے کمزور جرنیل بھی یہاں رستم زماں تسلیم ہوئے۔ ہندوستانی مورخین کا یہ عذر کہ “چونکہ ہندوستان ایک کھاتا پیتا خوشحال ملک تھا، اس لیے ہندوستانی سورما باہر کا رخ نہیں کرتے تھے” یہ شاید ہندوستانی فاتحین کی بہادری ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہوگا، کہ اکثریت تو دفاع کرنے میں بھی ناکام ہی رہی۔ کھاتے پیتے قدیم ہندوستان کے اشوکا کے بعد، ہندوستان کی جدید تاریخ میں ہندوستان سے باہر فتوحات کے حوالے سے اگر کوئی قابل ذکر ہندوستانی نام تھا تو وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ ہی تھا، کہ جسکی فوجیں پشتون افغانوں کو شکست دیتی ہوئی قابل تک جا پہنچی تھیں۔ دیکھتے ہیں کہ اکثر پشتون رنجیت سنگھ کا نام آتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں، مذہب کو درمیان میں لے آتے ہیں، پنجابی دوستوں کو اسکے سکھ اور کانا ہونے کا طعنے دینے لگتے ہیں، جو کہ ہرگز درست رویہ نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو چنگیز خان پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ بلکہ آج تک چنگیز نام رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح سے مسلمانوں میں سکندر بھی بہت عام نام ہے۔ یہ دونوں کہاں اور کس عہد کے ولی گُزرے ہیں اتنی تاریخ مجھے معلوم نہیں۔ ویسے پنجابیوں کے احساس کمتری کی بھی سمجھ نہیں آتی، یعنی اگر مسلمان بچوں کے نام “چنگیز” اور “سکندر” رکھے جا سکتے ہیں، “دلیر مہدی” سکھ کا نام مسلمانوں والا ہو سکتا ہے، اور میں سید یعنی عرب النسل ہو کر اپنی جنم اور پالن دھرتی کی محبت میں اس کا بوجھ اور خود پر اسکا قرض محسوس کرتے اپنے دونوں صاحبزادوں کے کم سے کم گھر والے نام “شاہ جیون” اور “ساون شاہ” رکھ سکتا ہوں، تو پنجاب کے مسلمان جٹوں کو اپنے کسی بچے کا نام رنجیت سنگھ رکھتے کیوں موت پڑتی ہے؟ بلا شبہ رنجیت سنگھ ایک بڑا فاتح اور ذہین جرنیل تھا۔ وہی تھا کہ جس کے جیتے جی انگریز کو پنجاب میں کوئی کامیابی نصیب نہ وئی۔ پھر کہتا ہوں اگر مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنانے والے چنگیز خان اور لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے والے “سکندر اعظم” کے نام پر مسلمان بچوں کے نام رکھے جا سکتے ہیں تو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے نام پر بھی بچوں کا نام رکھا جانا چاہیے۔ اور غیر پنجابی دوستوں سے گزارش ہے کہ جس فراخدلی سے آپ اپنی نسل کے غیر مسلم فاتحین کو قبول کر لیتے ہیں اتنی ہی فراخدلی سے آپکو دوسری نسلوں کے فاتحین کے لیے بھی دکھانی چاہیے۔ اور اگر مذہب کی بنیاد پر رد کرنا ہے تو پھر سب کا رد کیجیے۔ پھر کوئی غیر اسلامی نام مت رکھیے۔ تاریخ سے تعصب برتنے اور سچ کے انحراف سے قوموں کی عزت بڑھتی نہیں گھٹتی ہے۔ ہم کسی بھی قومیت سے ہوں، ہمیں تاریخی حقائق کے معاملے میں اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بہر حال، اشوکا اور رنجیت سنگھ کے بیچ کئی صدیوں تک افغان حکمران ہی ہندوستان پر مسلط رہے۔ یعنی اکثریتی وقت ہندوستان بیرونی حملہ آوروں اور خاص طور پر افغانوں کی ہی حکومت رہی۔ تاہم آخری جنگ میں انھیں رنجیت سنگھ کے ہاتھوں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاریخی سچائی ہے کہ افغان اور پشتون قبائل نسلی طور پر وار لارڈز اور مارشل ریس مانے جاتے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج وہ ہندوستان سے تو بخوشی ہاتھ ملا لیتے ہیں مگر پنجاب کو وہ عمومی طور پر نفرت اور تعصب کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں۔ پاک فوج کی تاریخی غلطیوں سے انحراف ممکن نہیں، مگر جو پنجابی آرمی کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور پھر اسے قوم پرستی کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے، اسکے پسمنظر میں شاید افغانوں کو تو رنجیت سنگھ ہی نظر آتا ہے۔
بہر حال مذہب اور اُمہ کی بنت اور پیٹرو ڈالر کی بھوک میں پشتون افغان اور پنجابی، روس سے ایک ساتھ لڑے، مگر اب ایسا محسوس ہو رہا ہے، کہ جیسے دونوں طرف دھیرے دھیرے قوم پرستی مذہب پر غالب آتی جا رہی ہے۔ ڈھکی چھپی لڑائی تو ایک عرصہ سے چل ہی رہی ہے، مگر کچھ بعید نہیں کہ کل کو افغان طالبان اور پنجابی طالبان کی باقاعدہ جنگ بھی شروع ہو جائے۔ اگر قوم پرستی تعصبات اور دیگر اقوام سے نفرت سے عاری ہو تو اس میں کوئی عار نہیں۔ ہر کسی کو اپنے اجداد پر فخر کرنے کا پورا حق ہونا چاہیے۔ مگر بد قسمتی سے حقیقت یہی ہے کہ قوم پرستی انسانوں میں تعصبات اور فاصلے پیدا کرتی ہے، بے گنہاہ انسانیت کا خون بہانا درست خیال کرتی ہے۔ ہم نے اسے مذہب کا ٹیکہ لگا کر دبانے کی بہت کوشش کی، مگر شاید نسل کا مسلہ مذہب سے زیادہ بڑا اور فطری ثابت ہوا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ آج سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات پاکستان کو چھوڑ کر ہندوستان کے زیادہ قریب نظر آ رہی ہیں؟ یقیناً ریاستیں قومیتوں کی بنیاد پر ہی فیصلے کرتی ہیں۔ یہ صرف ہم ہی ہیں جنھیں ہر وقت اُمہ کا بخار چڑھا رہتا ہے۔ خیر اس ساری تمہید کا مقصد محض یہی ہے کہ بہت سے دیگر عوامل کے ساتھ پاک فوج جسے عرف عام یا تعصب اور کسی حد تک حقیقت میں پنجابی آرمی کہا جاتا ہے اسکے تعلقات کا قابل کے ساتھ درست نہ رہنے کا ایک تاریخی اور نفسیاتی پہلو بھی ہو سکتا ہے، جسے پاک افغان مسلے پر کہیں نہ کہیں تھوڑا یا زیادہ بحث کا حصہ ضرور بننا چاہیے۔
سلالہ کے بعد پاک افغان فورسسز میں دوسرا مچاٹہ ہو چکا ہے۔ ویسے تاریخ کے آئینے میں افغانستان اور پاکستان دوست تو کبھی بھی نہ تھے، مگر پھر بھی کہنے دیجیے، دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا، ڈالر اور ریال جہاد کی رات ڈھل چکی۔ اب کوئی خمار باقی نہیں رہنا چاہیے۔ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ یحیی خانی اور ضیائی قاعدہ چھوڑ کر بچے کھچے پاکستان پاکستان کی بقاء کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرے۔ ریاست کے پاس مزید حماقتوں کی کوئی گنجائش اب باقی نہیں رہی۔ لہذا سندھ، پختونخواہ اور بلوچستان کے تحفظات سنجیدگی اور خلوص نیت سے دور کیے جائیں اور پسی ہوئی پنجابی عوام پر لگے جھوٹے اور بے معنی الزامات کا بھی تدارک کیا جائے۔ زمینی حقائق سے دور اُمہ کے غیر حقیقی بیانیے کو چھوڑ کر ریاست میں آباد تمام قومیتوں کو مساوی حقوق دے کر پاکستانی نیشنل ازم کو مضوط ہونے کا موقعہ فراہم کیا جائے۔ ایک نئی صبح کی بنیاد رکھی جائے۔
عمار کاظمی

Videos Going Viral

Pakistani Larki Ka Indian Joun
1500 Rs Do Aur Larki Le Jao
What Killers Shot On Qismat Ba
2 Women Physically Fight With
Army and ISI May Arrest Big Fi
Aishwarya Rai Bachchan’s Sui
Sartaj Aziz Insulted In India:
25-Year-Old Dancer Shot Dead I
Muslim Woman Needs Help With F
Special Transmission On Bol Ne