چاہ بہار میں بہار !

Posted on May 27, 2016



پیشِ خدمت ہے پاک چائنا اکنامک کوریڈور کے بعد انڈو ایران افغان اکنامک کوریڈور۔جس طرح گوادر کی بندرگاہ اور ٹیکس فری انڈسٹریل زون کا نظام و ترقی چالیس برس کے لیے چین کے حوالے کردی گئی ہے۔اسی طرح گوادر سے لگ بھگ سو کلومیٹر پرے چاہ بہار کی بندرگاہ کو ترقی دینے کا مرحلہِ اول و دوم کا انتظام بھارت کرے گا۔

جس طرح چینی صدر نے گذشتہ برس اسلام آباد میں پاک چائنا اکنامک کوریڈور سے متعلق حتمی سمجھوتوں پر دستخط کیے اسی طرح پندرہ برس بعد کسی بھارتی وزیرِ اعظم نے تہران میں انڈو ایران افغان کوریڈور کی بنیادی دستاویزات پر ایرانی و افغانی صدور کے ساتھ بیٹھ کے گذشتہ روز دستخط کیے۔

خلیجِ اومان کی جانب کھلنے والی چاہ بہار کھلے سمندر کے دہانے پر واحد ایرانی بندرگاہ ہے۔باقی بندرگاہیں خلیج ِ فارس کے اندر ہیں جہاں مال بردار جہازوں کو آنے جانے کے لیے بائیس کلو میٹر چوڑی آبنائے ہرمزسے گذرنا پڑتا ہے۔ خلیج کی سب سے مصروف ایرانی پورٹ بندر عباس ہے۔ وہاں سے ایران کی پچاسی فیصد درآمد و برآمد ہوتی ہے۔مگر چاہ بہار کو یہ قدرتی سہولت حاصل ہے کہ اگر خلیج کی ناکہ بندی ہوجائے یا کسی جنگ یا حادثے کے سبب آبنائے ہرمز کی ٹریفک معطل ہوجائے تب بھی چاہ بہار کی شکل میں ایران کے پاس بیرونی دنیا سے سمندری رابطے کا دروازہ کھلا رہے گا۔بندر عباس کے برعکس چاہ بہار ڈیپ سی پورٹ میں ایک لاکھ ٹن وزن سے زائد کارگو شپ بھی آ جا سکیں گے۔

بھارت کی اولین ترجیح تو یہ تھی کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارت کے لیے اسے واہگہ طورخم کوریڈور کی سہولت مل جائے مگر ایسا ہوتا مستقبلِ قریب میں نظر نہیں آ رہا۔چنانچہ یہ مقصد چاہ بہار کے راستے حاصل کیا جائے گا۔

افغانستان کی بیشتر درآمد و برآمد اب تک کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔مگر افغانستان اس ٹرانزٹ روٹ کے ذریعے بھارت سے تجارت نہیں کر سکتا۔چنانچہ چاہ بہار کی بندرگاہ سے بذریعہ ریل اور سڑک منسلک ہونے کے بعد افغانستان کی تجارت صرف پاکستان کے رحم و کرم پر نہیں رہے گی۔

چاہ بہار پورٹ کے تعمیراتی پہلے مرحلے میں دو سو ملین ڈالر کی بھارتی سرمایہ کاری سے ایک کنٹینر ٹرمنل اور ایک کثیر المقاصد کارگو ٹرمنل تعمیر ہوگا۔دوسرے مرحلے میں بھارت چاہ بہار فری ٹریڈ زون میں بیس ارب ڈالر لگانا چاہتا ہے۔ یعنی بھارتی کمپنی نالکو پانچ لاکھ ٹن سالانہ المونیم پیداوار کا پلانٹ لگائے گی۔ایک ایل این جی اور ایک گیس کریک پلانٹ تعمیر کیا جائے گا ۔ پٹرو کیمیکلز اور فرٹیلائزر کے کارخانے بھی لگیں گے۔ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے دہلی کے گذشتہ دورے میں بھارت کو چاہ بہار پورٹ مینجمنٹ کی بھی پیش کش کی ہے۔ایران نے ساحل سے پرے فرزاد گیس فیلڈ کی ترقی کا ٹھیکہ بھی بھارتی کمپنیوں کو دیا ہے۔

چاہ بہار سے افغان شہر زرنج تک براستہ ایرانی شہر دل آرام آٹھ سو اڑتیس کلومیٹر کی ہائی وے کی اپ گریڈنگ بھی جاری ہے۔ زرنج دل آرام ہائی وے کا دو سو اٹھارہ کلومیٹر ٹکڑا بھارت کی بارڈر روڈ آرگنائزیشن نے چھ ارب روپے کی لاگت سے مکمل کرلیا ہے۔اس منصوبے کی تکمیل میں ایک سو تیس ورکروں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔بیشتر طالبان حملوں میں مارے گئے۔

بھارت چاہ بہار سے براستہ زاہدان وسطی افغانستان کے صوبے بامیان میں حاجی گک کے مقام تک نو سو کلومیٹر طویل ریلوے لائن بھی تعمیر کرے گا۔اس منصوبے کی کلیدی پارٹنر بھارتی کمپنی اشوک لے لینڈ ہے۔حاجی کگ خام لوہے کے چند بڑے عالمی ذخائر میں سے ہے اور اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا کے تحت ایک صنعتی کنسورشیم حاجی گک میں گیارہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں سنجیدہ ہے۔ان منصوبوں کی تکمیل سے افغان بھارت تجارتی حجم جو اس وقت یکطرفہ اور سات سو ملین ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے۔ اگلے پانچ برس میں بڑھ کر تین سے پانچ ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتا ہے۔ بھارت کو ریل اور روڈ نیٹ ورک کے ذریعے یورپ براستہ وسطی ایشیا اس نئی ’’ شاہراہ ریشم ’’ کے ذریعے رسائی کے سبب فاصلے اور لاگت میں کمی کی شکل میں کم ازکم ایک تہائی بچت ہوگی۔

فروری میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کابل میں افغان پارلیمنٹ کی عمارت کا تحفہ پیش کیا۔جب کہ ہرات میں تین سو ملین ڈالر کی بھارتی سرمایہ کاری سے مکمل ہونے والے سلمہ ڈیم ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کا اگلے ماہ افتتاح ہونے والا ہے۔

پاکستان چائنا کوریڈور اگرچہ بہت بڑا اور مثبت منصوبہ ہے لیکن پاکستان کا دارومدار صرف چین پر ہے۔اس کے برعکس ایران اور افغانستان علاقے میں بھارت چین اقتصادی و اسٹرٹیجک رقابت کو اپنے حق میں چابکدستی سے استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

مثلاً ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار چین اور پھر بھارت ہے۔ایران اگر چاہ بہار منصوبے کے ذریعے بھارتی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے تو اس نے چین سے اسٹرٹیجک اور اقتصادی تعلقات کے بڑھاوے کو بھی اتنی ہی اہمیت دی ہے۔بھارتی مال اگر ایران کے راستے وسطی ایشیا اور یورپ تک جائے گا تو چینی مال وسطی ایشیا ایران ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے مشرقِ وسطی اور افریقہ جائے گا۔اس کا عملی مظاہرہ گذشتہ مہینوں میں وسطی چین سے براستہ سینٹرل ایشیا پہلی کارگو ٹرین تہران تک پہنچانا ہے۔

چین نے چاہ بہار پورٹ پر آئیل ٹرمنل کی تعمیر کے لیے پچھتر ملین ڈالر قرضے کی پیش کش پہلے ہی سے کر رکھی ہے۔چینی کمپنیاں ایران میں یاد واران ، جنوبی پارس ، مسجدِ سلیمان اور آزادگان کے آئیل اینڈ گیس فیلڈز میں چودہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔جنوری میں چینی صدر کے دورہِ تہران کے موقع پر دونوں ممالک نے عہد کیا کہ اگلے دس برس میں باہمی تجارت کا حجم موجودہ بتیس ارب ڈالر سے بڑھا کر نو سو ارب ڈالر تک پہنچا دیا جائے گا۔ایران سے تجارت کے معاملے میں بھارت اب بھی چین سے پیچھے ہے۔یعنی بھارت ایران تجارت کا حجم اس وقت پندرہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

جہاں تک افغانستان کا معاملہ ہے تو امن و امان کے دگرگوں حالات اور غیر یقینی مستقبل کے باوجود کابل حکومت اپنے اقتصادی پتے چابکدستی سے کھیل رہی ہے۔چاہ بہار کنکشن کے زریعے اس کا پاکستان پر تجارتی دار و مدار بہت حد تک کم ہوجائے گا۔بھارت اگرچہ افغان معدنیات میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے لیکن چینی کمپنیاں بھی پیچھے نہیں ہیں۔

تانبے سے مالا مال عینک کے علاقے میں چین چار ارب ڈالر لگا رہا ہے جو اب تک افغانستان میں ہونے والی سب سے بڑی غیرملکی سرمایہ کاری ہے۔چائنا میٹالرجیکل گروپ نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے چار سو میگاواٹ پلانٹ اور ایک ملین ٹن اسٹیل کے سالانہ پیداواری پلانٹ کی تعمیر کا بیڑہ اٹھایاہے۔چائنا نیشنل پٹرولیم کارپوریشن کو ساری پل اور فاریاب کے علاقوں میں تیل اور گیس کے زخائر ترقی دینے کا ٹھیکہ بھی مل چکا ہے۔ اس تیل کی صفائی کے لیے افغانستان میں پہلی آئیل ریفائنری بھی تعمیر ہو گی۔مجموعی طور پر چین نے افغانستان میں اب تک دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔جیسے جیسے جیوا سٹرٹیجک حالات مستحکم ہوتے جائیں گے سرمایہ کاری کا حجم اور بھارت چین علاقائی و اقتصادی مسابقت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔

اس نئی گریٹ گیم میں پاکستان اپنے لیے کیا سوچ رہا ہے ؟ کیا واقعی سوچ بھی رہا ہے یا لگ رہا ہے کہ سوچ رہا ہے؟