نیشنل ایکشن پلان کی راہ میں حائل لال مسجد

Posted on May 27, 2016



کوئی بھی شاہراہ سیدھی سیدھی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ راہ میں پڑنے والے تمام تجاوزات ہٹائے جائیں۔ بھلے زبردستی، ترغیب دے کر، معاوضے کی ادائیگی سے یا پھر خوشامد درآمد کرکے۔ اگر نیشنل ایکشن پلان کو ایک سیدھی سیدھی زیرِ تعمیر شاہراہ تصور کر لیا جائے تو اس کی راہ میں پڑنے والی بہت سی تجاوزات کو ہٹایا جا چکا ہے یا جا رہا ہے۔ “پلان میں سب کچھ ہے لیکن ایکشن نہیں” ٹھیکیدار مسلسل یقین دلا رہا ہے کہ سڑک کی تعمیر کا کام تندہی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اگلے برس تک ٹارگٹ کے مطابق مکمل ہو جائے گا۔ کام میں تیزی لانے کے لئے فوجی عدالتوں کے بلڈوزر لائے گئے ہیں۔ انٹیلی جنس کے دھرمٹ سے دہشت گردی کے پتھروں کو کوٹا جا رہا ہے۔
کاؤنٹر نیریٹو (متبادل نظریہ) کی وہ والی ڈامر بچھائی جا رہی ہے جو ایک ہی بارش میں نہ دھل جائے۔ ایک ایک سنگِ میل سیاسی و دینی جماعتوں کے مشورے سے نصب ہو رہا ہے۔ شاہراہ کے اردگرد سے منافرت کی جھاڑیوں کو بھی کاٹا جا رہا ہے۔ شاہراہ کے دونوں طرف ایسی فول پروف فولادی باڑیں بھی نصب ہو رہی ہیں جنہیں کوئی فول پار نہ کرسکے، وغیرہ وغیرہ۔

مگر یہ سب دعوے پھیکے پڑنے لگتے ہیں، جب کوئی بھی ظالم ایسا سوال اٹھا دیتا ہے کہ حضور نیشنل ایکشن پلان کے تعمیراتی کام میں پیش رفت کی بابت تفصیلات سر آنکھوں پر، مگر شاہراہ کے عین بیچوں بیچ پڑنے والی لال مسجد کا کیا سوچا؟ کیا اسے منتقل کیجیے گا؟ متبادل انتظام کرکے دیجیے گا؟ جوں کا تُوں چھوڑ دیجیے گا یا پھر شاہراہ کے بنیادی ڈیزائن میں تبدیلی کرکے اسے لال مسجد کی بغل سے آگے بڑھایئے گا؟ اور ڈیزائن میں تبدیلی کے باوجود بھی اس مقام سے نیشنل ایکشن پلان کی ٹریفک میں رکاوٹ ڈالی جاتی رہی تو پھر کیا کیجیے گا؟ وہ کیا پوشیدہ اسباب و انتظامی مصلحتیں اور اسٹرٹیجک وضع داریاں ہیں، جن کے سبب لال مسجد نیشنل ایکشن پلان کی راہ میں اب تک حائل ہے؟ ایسا کیوں ہوا کہ 2007ء میں امن ِ عامہ و قومی سلامتی کے لئے خطرناک تجاوزات تصور کرتے ہوئے اس کمپلیکس کے مکینوں کو بے دخل کر دیا گیا اور پھر دبے پاؤں سب آہستہ آہستہ کیسے واپس آگئے۔؟ کیا اس وقت کوئی خاموش یقین دہانی حاصل کی گئی تھی یا بس ریاستی گردن دوسری جانب پھیر لی گئی تھی۔؟

ایک جانب تو حکومت مدارس کی رجسٹریشن، آمدن و اخراجات کے آڈٹ اور نصاب سے نفرت انگیز مواد نکالنے کے لئے کوشاں ہے، نفرت انگیز مواد فروخت کرنے والی دکانیں سیل کی جا رہی ہیں، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے ایک ہی وقت اذان اور جمعے کے ایک ہی خطبے پر تمام مکاتیبِ فکر کو متفق کرنے کی بھاگ دوڑ ہو رہی ہے، لاؤڈ اسپیکر کا غلط استعمال کرنے اور منافرت زدہ تقاریر پر گرفتاریاں ہو رہی ہیں، متنازع علماء و تنظیموں کی نقل و حرکت محدود کی جا رہی ہے اور مقدمات بھی درج ہو رہے ہیں اور کچھ کو تو قید و جرمانے کی سزائیں بھی سنا دی گئی ہیں۔ دوسری جانب لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف سال بھر پہلے نکلے عدالتی وارنٹ اور پیشی سے غیر حاضری پر اشتہاری قرار دیئے جانے، کھلے عام دیگر فرقوں پر الزامات لگانے، موجودہ عدالتی و آئینی نظام کو نہ ماننے اور انتظامیہ کے بقول تحریری یقین دہانیوں سے مکر جانے کے باوجود مولانا آج بھی اپنی دھواں دار گفتگو کے سبب میڈیا کے مرکزِ نگاہ ہیں۔

نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی رفتار سے مطمئن وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان مولانا عبدالعزیز کو چیلنج کرنے کے بجائے ارکان پارلیمان کو چیلنج کر رہے ہیں کہ مولانا کے خلاف کوئی مقدمہ ہو تو لا کے دکھائیں اور جب لا کے دکھایا جائے تو کوئی قدم اٹھانے کے بجائے آئیں بائیں شائیں کرنے لگیں۔ اور پھر مولانا کے پاس انتظامی ایلچی بھیجیں کہ ایک بار اپنی ضمانت کروا لیجیے، تاکہ ہماری عزت رہ جائے۔ مگر مولانا بضد رہیں کہ جب مقدمہ ہی غیر قانونی ہے تو میں کیوں عدالت میں پیش ہوں؟ اور ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ آئی ایس آئی بھی انھیں منانے کے لئے کوشاں ہے اور آئی ایس آئی کو تردید کرنا پڑے کہ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ اب لوگ اس نورا نوری سے کیا نتیجہ اخذ کریں؟ یہ بھی کوئی ذمہ دار بتا دے تو دل کو قرار آجائے۔ دریں اثناء شاہراہِ نیشنل ایکشن پلان کے دیگر سیکشنز پر کام تیزی سے جاری ہے