Is PM Nawaz Sharif Extending General Raheel Sharif Tenure?

Posted on May 18, 2016



اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف نے وزارت قانون کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں مجوزہ ترمیم کے لیے قانون دستاویزات تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ فور
اسٹارز جنرلز کی مدت ملازمت 4 سال مقرر کی جاسکے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وزارت قانون نے اس مسودے پر پہلے ہی کام شروع کردیا ہے جس کی منظوری کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف اور دیگر( عسکری) سروسز کے فور اسٹار یا اس کے مساوی رینک کے افسران کی مدتِ ملازمت میں مزید ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا اور اس طرح ان کی مدت ملازمت کی حد 4 سال مقرر کردی جائے گی تاہم ابھی حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا اس کا اطلاق اس وقت حاضر افسران پر ہوگا یا پھر ان کے بعد آنے والے جنرلز کے لیے یہ ترامیم کی جارہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ یہ قدم وزیر اعظم نوازشریف اور سروسز چیف کی اہم ملاقات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزارتِ قانون کے اعلیٰ عہدیدار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ قانونی مسودے پر وقت لگ سکتا ہے کیونکہ آرٹیکل 243 اور 245 کے نکات مسلح افواج کے معاملات سے بحث کرتے ہیں تاہم ان نکات میں مدتِ ملازمت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا جب کہ آرٹیکل 243 میں کہا گیا ہے کہ صدر، وزیرِ اعظم کی مشاورت اور ایڈوائس پر مسلح افواج کے سربراہان تعینات کرسکتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارتِ قانون کے ایک اور افسر نے بتایا کہ نیا بل پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کے لیے لایا جارہا ہے اور اسے قانون کی درجہ دینے کے لیے پارلیمنٹ میں محض سادہ اکثریت درکار ہوگی۔ اس کے بعد ایک سادہ نوٹی فکیشن کے ذریعے موجودہ آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع ہوجائے گی تاہم اس ضمن میں عسکری حلقوں کی قانونی ٹیم سے بھی بات کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے ایک اور ذرائع بتایا موجودہ آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کا معاملہ خارج از امکان ہے کیونکہ وہ پہلے ہی اس سے انکار کرچکے ہیں۔

دوسری جانب آئینی ماہر ایس ایم ظفر کا کہنا ہےکہ اس ضمن میں کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، حکومت کو اس سلسلے میں قرار داد پارلیمنٹ میں لانی چاہیے تاکہ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی جاسکے۔ قانونی ماہر شاہد اورکزئی کا کہنا ہےکہ آرمی ایکٹ 1952 صرف فورسز میں رینک کو بیان کرتا ہے جس کے تحت فوراسٹار جنرل کی مدت 3 سال اور تھری اسٹار کی 4 سال جب کہ میجر جنرل کی معیاد 5 سال ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان ( آرمی ، نیوی اور ایئرفورس) کا درجہ فور اسٹار جنرل ہوتا ہے
اوران سب کی مدتِ ملازمت 3 سال ہے ۔ اگر حکومت فور اسٹار جنرلز عہدے والے افسران کے عرصہ ملازمت کی توسیع چاہتی ہے تو اسے فضائیہ اور بحریہ کے چیف پر بھی لاگو کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنے عہدے کی 3 سالہ معیاد پوری کرتے ہوئے رواں سال ریٹائر ہورہے ہیں جس کا پاک فوج کے ترجمان پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں۔

Source:- http://www.express.pk/story/514488/