پاناما پیپرز اور شوکت خانم ہسپتال

Posted on April 12, 2016 Articles



Dated: April 11, 2016
Panama Papers Aur Shaukat Khanam Hospital
By: Syed Anwer Mahmood
پاناما پیپرز اور شوکت خانم ہسپتال
تحریر: سید انور محمود

کسی بھی دوسرے ملک میں آف شور بینک اکاؤنٹس مالیاتی لین دین کے نگران اداروں سے یا ٹیکس سے بچنے کےلیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔کمپنیاں یا شخصیات اس کے لیے عموماً شیل کمپنیوں کا استعمال کرتی ہیں جس کا مقصد اصل مالکان کے ناموں اور اس میں استعمال فنڈز کو چھپانا ہوتا ہے۔ایک سال قبل کسی نامعلوم شخص نے جرمنی کے سب سے بڑے اخبار زیدوئچے سائتونگ سے رابطہ کیا اور اخبار کو موساک فونسیکا کی اندرونی دستاویزات فراہم کرنے کی پیشکش کی۔اخبار نے اس پر رضامندی ظاہر کی اور آنے والے مہینوں میں اس نامعلوم ذریعے کی جانب سے بھجوائی جانے والی دستاویزات کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور اس سارے ڈیٹا کا حجم 2.6 ٹیرا بائیٹ تک پہنچ گیا۔یہ سب کچھ فراہم کرنے والے ذریعے نے اس کے بدلے میں کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا بلکہ سکیورٹی کے بارے میں چند یقین دہانیاں مانگیں۔موساک فونسیکا پاناما کی ایک لا فرم ہے جس سے ایک کروڑ دس لاکھ خفیہ دستاویزات افشا ہوئیں۔ان دستاویزات کے افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے بڑئے سرمایہ دار اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسےخفیہ رکھتے ہیں۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح موساک فونسیکا کے گاہکوں نے کیسے منی لانڈرنگ کی پابندیوں سے بچے اور ٹیکس چوری کی۔ مثلاً ایک کیس میں اس لا کمپنی نے ایک امریکی لکھ پتی کو جعلی مالکی حقوق کے دستاویزات دیے تاکہ حکام سے دولت چھپا سکے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ہے۔

ٹیکس سے بچنے کے قانونی طریقے بھی ہیں لیکن زیادہ تر جو ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ دولت کے حقیقی مالک کی شناخت کوچھپانا، دولت کیسے حاصل کی اور اس دولت پر ٹیکس نہ دینا۔ایک الزام یہ ہے کہ شیل کمپنیاں بنائی جاتی ہیں جو کہ ظاہری طور پر تو قانونی ہوتی ہیں لیکن یہ ایک کھوکھلی کمپنی ہوتی ہے۔ ان دستاویزات میں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت کے نام ہیں بشمول ان آمروں کے جن پر ملک کی دولت لوٹنے کے الزامات ہیں۔ان دستاویزات کے مطابق سربراہان مملکت اور دیگر سیاستدانوں کے ساٹھ کے قریب رشتہ دار اور رفقا کے نام بھی آئے ہیں۔ روسی صدر پوتن کے قریبی رفقا، چینی صدر کے بہنوئی، یوکرین کے صدر، ارجنٹینا کے صدر، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے آنجہانی والد کا ان فائلز میں ذکر ہے۔پاناما لیکس کے باعث بڑے بڑے ممالک کی اہم شخصیات میں کھلبلی مچ گئی ہے جبکہ آئیس لینڈ کے وزیراعظم پاناما لیکس کے پہلے شکار ہیں جنہوں نے عوام کے پرزور احتجاج پر اپنے منصب سے استعفیٰ دیدیاہے ۔

ان دستاویزات میں وزیر اعظم نواز شریف کے تین بچوں مریم نواز،حسنب نواز، حسن نواز، سابق وزیر اعظم مرحوم بینظیربھٹو اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک اور حسن علی جعفری کے ساتھ ساتھ 200 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں! پاناما پیپرز کی لیکس نے پاکستان کی سیاست ہل چل مچادی ہے،پاکستان کی تیس سالہ دور اقتدار کی بڑی جماعتوں کےلیے یہ ایک بڑی خبرہے،اس بڑئے سیاسی دھماکہ سےایوان اقتدار لرز اُٹھا ہے۔وکی لیکس کے بعد پاناما پیپرز کی لیکس بھی منظر عام پر آگئیں،نجی ٹی وی کے مطابق کس کا کتنا کالاپیسہ باہر موجود ہے دستاویزی ثبوت منظر عام پر آگئے۔دنیا کے بارہ سربراہان مملکت کا کالا دھن منظر عام پر آگیا ،کالا دھن چھپانے والے شریف خاندان کے بعدپیپلزپارٹی بھی زد میں آگئی ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق پاناما پیپرز کی لیکس میں بتایاگیا ہے سابق وزیراعظم پاکستان مرحوم بینظیربھٹو ، سابق وزیرداخلہ رحمان ملک اور حسن علی جعفری ان تینوں نے برٹش ورجن آئی لینڈ یں پیٹرو لائن انٹرنیشنل کے نام سے کمپنی قائم کی۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیراعظم پاکستان اوران کے اہل خانہ کا پاناما پیپرز کی لیکس میں نام شامل ہونے پر ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ دستاویزی ثبوت منظر عام پر آگئے ہیں اور اس میں نواز شریف کے بیٹے حسنر نواز، حسن نواز اوربیٹی مریم نواز کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ ہماری باتیں سچ ثابت ہوگئیں الیکشن کمیشن نے ن لیگ کو ہمیشہ بچایا اب کیسے بچائیں گے۔ جو کچھ ٹی وی چینل پر حسین نواز کہانی سنارہے ہیں کہ سعودی عرب میں سیمنٹ کی فیکٹری قائم کرکے اس سے پیسہ کمایا اور اسکو بیچ کر برطانیہ میں بزنس کیا اور آج اربوں کے مالک ہیں، سفید جھوٹ ہے، اتنی جلدی اتنا پیساجائز طریقے سے نہیں کمایا جاسکتا۔ اصل کہانی کچھ یوں لگتی ہے کہ وزیر اعظم کے سمدہی اور ملک کے وزیر خزانہ اسحاق ڈارکو منی لانڈرنگ کا ہنر بہت اچھی طرح آتا ہے، اور وہ اسکا اقرار بھی کرچکے ہیں اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ پاناما خفیہ دستاویزات میں نواز شریف کے بچوں کے نام موجود ہیں۔

عاصم ایاز مقیم پیرس نے اپنے مضمون ‘‘سٹیل کو سونا بنانے کا کاروبار’’ میں لکھا ہے کہ ‘‘حسین نواز کی سعودی عرب میں قائم کردہ ہل مٹل سٹیل کمپنی دنیا کی 100 بڑی سٹیل کمپنیوں میں بھی شامل نہیں۔ اس کی کل سالانہ پیدوار کمپنی پروفائل کے مطابق 5 سے 10 لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ جبکہ کمپنی ملازمین کی تعداد 385 یا اس سے کچھ اوپر ہے۔دنیا کی 20 ویں بڑی کمپنی روس کی نوسلیکٹس ہے جس کی سالانہ پیدوار 1 کروڑ 60 لاکھ ٹن اور ملازمین کی تعداد 61700 ہے۔ روسی کمپنی کا شرح منافع سال 2014/15 میں سب سے زیادہ رہا۔ اس نے 1 کروڑ 60 لاکھ ٹن سے زائد سٹیل کی پیدوار پر تقریبا 800 ملین ڈالر کا خالص نفع حاصل کیا۔ اس کا مطلب ہے حسین نواز کی چھوٹی سی کمپنی نے 6 سال میں کم از کم 2000 ملین ڈالر کا ناقابل یقین منافع حاصل یقینا کوئی نہ کوئی ریکارڈ توڑا ہوگا۔ اس نے کمپنی کتنا قرض لے کر کھولی تھی؟ جو اس نے نہ صرف لوٹا دیا بلکہ اپنے لیے بھی 2000 یا 1800 ملین ڈالر کے قریب رقم بچا گیا؟’’

حسب دستوروفاقی وزیر اطلات پرویز رشید اور دوسرئے وزرا جو ماہانہ آٹھ کروڑ روپے سے زیادہ تنخواہ تو سرکاری خزانے سے لیتے ہیں لیکن نوکری نواز شریف اور انکے اہل خانہ کی کرتے ہیں، ان وزرا نے حسب دستور نواز شریف کے بچوں کی صفایاں دینی شروع کردیں، جن میں پیش پیش وزیر اطلات پرویز رشید ہوتے ہیں۔ حسین نواز، حسن نواز کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ موجودہ وزیراعظم نواز شریف کے صابزادے ہیں، لیکن وزیر اطلاعات انکی صفایاں وزارت اطلاعات کے دفتر میں کھڑئے ہوکر فرمارہے ہیں جو کسی بھی طرح صیح نہیں۔

اسلام آبادمیں ڈی چوک پر دھرنا اور لاہورمیں دہشتگردی کے واقعات 27 مارچ کو ہوئے اور 28 مارچ کی شام وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب کیا جو صرف 11 منٹ کا تھا لیکن چاراپریل کو وزیراعظم کا خطاب 13 منٹ 46 سیکنڈکا تھا جس میں انہوں صرف اور صرف اپنے خاندان کی بات کی ہے ، یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے صرف اتفاق فاونڈری کو ہی سرکاری تحویل میں نہیں لیا تھا بلکہ دوسری صنعتوں کو بھی سرکاری تحویل میں لیا تھا۔ چار اپریل کاوزیراعظم کا قوم سے خطاب بے مقصد تھا سوائے اس کے کہ انہوں ایک جوڈیشنل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا جس کو تمام اپوزیشن جماعتوں نےمسترد کردیا بلکہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے تو نواز شریف کو یہ کہا ہے کہ وہ معلوم کریں کہ انکو تقریر کرنے کےلیے دھکا کس نے دیا تھا۔ نواز شریف کی تقریر کے بعد انکے بہت ہی ہمدرد دانیال عزیز نے عمران خان اور شوکت خانم ہسپتال کے مالی معاملات کے بارئے ایک پریس کانفرنس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس میں دھاندلی کیں گیں ہیں،شرم آنی چاہیے دانیال عزیز کو اس قسم کے الزام لگانے پر جس پر کوئی یقین ہی نہ کرئے۔ اول تو پاناما پیپرز کا شوکت خانم ہسپتال سے دور دور واسطہ نہیں، اورابھی تک عمران خان کے بارئے میں یہ رائے عام ہے کہ چاہے وہ اچھے سیاستدان ہوں یا نہ ہوں لیکن وہ ایک اچھے سوشل ورکر اورنہایت ایماندار انسان ہیں۔

وزیراعظم کے جوڈیشنل کمیشن کو سب نے رد کردیا ہے اور تمام حزب اختلاف نے مطالبہ کیا ہے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی نگرانی میں ایک انکوائری کمیشن بنایں اور اسکو ایک محدود مدت میں اپنی سفارشات پیش کرنے کا پابند کیا جائے۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو شایع کیا جائےاور اسکی دی ہوئی سفارشات پر عمل کیا جائے۔وزیر اعظم اگر واقعی مظلوم ہیں جس کا بھرپور تاثر انہوں نے چار اپریل کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے دیا ہے تو بہتر ہوگا کہ وہ اپنے جوڈیشنل کمیشن یا انکوائری کمیشن کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی نگرانی میں دئے دیں تاکہ قوم کو اصل حقایق معلوم ہوسکیں۔ ویسے یقین ہے کہ نواز شریف صاحب آئیس لینڈ کے وزیراعظم کے انجام سے لازمی واقف ہونگے جو پاناما لیکس کے پہلے شکار ہیں جنہوں نے عوام کے پرزور احتجاج پر اپنے منصب سے استعفیٰ دیدیاہے ۔آخری خبریں آنے تک قومی اسمبلی میں موجود حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے نمائندوں نے وزیراعظم نواز شریف سے اپنا منصب چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔