جاوید چوھدری صاحب کے لئیے ٢ ۔۔۔۔۔

Posted on April 11, 2016 Articles



گذشتہ سے پیوستہ ۔
محقق العصر کے دو کالموں کے حوالے سے گذشتہ مضمون میں کچھ گذارشات میں اہل علم و فن کی نذر کر چکا ہوں ۔ ایک آرٹیکل میں محترم جناب چوھدری جاوید صاحب نے حسین نواز کے زہد وتقوی کا ذکر کیا اور ہمارے علم میں اضافہ کیا ۔ دوسرا کالم قبلہ چوھدری صاحب نے جابر عوام کے عنوان سے لکھا جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے پہلے حصے میں جاوید چوھدری صاحب نے اپنے مرشد یاسر پیرزادہ صاحب اور دادا مرشد شاعر العصر دانشور دوراں، محقق بیمثال ، محترم جناب عطاالحق قاسمی صاحب کے اوصاف و خصائص کو بیان کیا ہے اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ جس کی چاہے بیعت کرے ۔ ہر مرید کو اپنا پیر کائنات کا سب سے زیادہ کامل پیر لگتا ہے ۔ لیکن جو ملفوظات دادا مرشد سے منسوب کرکے چوھدری صاحب نے کالم میں لکھے ہیں ان پر لب کشائی کرنا میرا حق ہے ۔ جب تک دادا مرشد کے لبوں سے نکلے الفاظ آپ کے ذہن کی چار دیواری میں قید تھے تو یہ آپکی اور آپ کے دادا مرشد قاسمی صاحب کی ذاتی ملکیت و رآئے تھی مگر جب آپ نے اسے اخبار کے صفحے کی نظر کردیا تو اب یہ پبلک پراپرٹی بن چکی ہے اس پر تنقید و تعریف کی جاسکتی ہے- جاوید چوھدری صاحب نے اپنے دادا مرشد محترم عطاالحق قاسمی صاحب کا قول ذیشان نقل کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جابر حکمرآن کے سامنے کلمہ حق بول سکتے ہیں مگر جابر عوام کے سامنے کلمہ حق نہیں بیان کرسکتے ۔ حالانکہ آنے والا مورخ لکھے گا کہ قاسمی صاحب اور انکے مریدین نے جب بھی کلمہ حق بولا ہے جابر حکمرآنوں کے مخالفین کے سامنے یا اس بھولی عوام کے سامنے ہی بولا ہے ، حکمرآنوں سے تو عہدے وصول کیے ہیں سفارت کاری جابر حکمرآنوں سے جابر عوام نے نہیں لی تھی مورخ اس پر مفصل روشنی ڈالے گا کہ کس طرح چور اور کتی نے مل کر جابر عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا اور کس طرح جابر حکمرآنوں نے وسائل اہل صحافت پر بے دریغ لٹائے ۔ پاکستان میں کوئی بڑی تبدیلی کیوں نہیں آتی اسکی صرف ایک وجہ ہے کہ ہمارے دانشور ذہنی دیوالیہ پن کے شکار ہیں ۔ جس دیس میں سراب کو جمہوریت ثابت کرنے پر اہل دانش بضد ہوں وہاں حالات کیسے ٹھیک ہوسکتے ہیں ۔ جس ملک میں ریڈزون کے تقدس کے تحفظ کے لئیے دانشور توانائیاں صرف کردیں وہاں حالات درست کیسے ہوسکتے ہیں ۔ ؟ جہاں دانشور جنید جمشید کے تقوی اور حسین نواز کے زہد پر صفحے کے صفحے سیاہ کریں اس ملک میں صاحب کردار کیسے اوپر آسکتے ہیں وہاں پھر اخلاقی گراوٹ ہی ڈیرے ڈالتی ہے ۔
جابر عوام کالم کے دوسرے حصے میں جناب جاوید چوھدری صاحب نے ڈی چوک میں دھرنا دینے والوں کی گالیوں کا تذکرہ کیا ہے اور انھیں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طعنے دیے ہیں جو کہ یہ ہر دوسرے کالم میں دیتا ہے مغرب میں کوئی نئی ایجاد ہوجائے تو کوستا یہ عشاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے کہ اے عشاق دو جواب اہل مغرب کی تحقیق کا ۔ چوھدری صاحب کی طبع نازک پر میڈیا کو علماء کا گالیاں دینا ناگوار گذرا حالانکہ خود میڈیا روز لوگوں کی اہل مذہب کی پگڑیاں اچھالتا ہے حالیہ مثال دیکھ لیں اقبال پارک میں سیر کرنے آنے والے محمد یوسف کو انھوں نے دہشتگرد قرار دے دیا صحافت کے یہ سورماء اپنے گھوڑے لیکر اسکے گھرتک پہنچ گئے ۔ رات و رات پولیس نے محمد یوسف کے سارے خاندان کو اٹھا لیا اور پولیس جو حشر برپا کرتی ہے تفتیش کے نام پر اسے آپ باخوبی جانتے ہیں ۔ میرا سوال ہے ان عصر حاضر کے دانشوروں سے کہ اس خاندان پر جو قیامت تمھاری غیر ذمہ دارانہ صحافت کیوجہ سے گذری اسکا اندازہ لگانے کی زحمت آپ نے گوارا کی ؟ محمد یوسف کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ قاری تھا اور چہرے پر داڑھی تھی ۔ لیکن دانشوروں کو باوضو رہنا اور حافظ ہونا بھی حسین نواز کا ہی اچھا لگتا ہے ۔ جناب عشاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسان ہوتے ہیں اور جذبات رکھتے ہیں وہ فرشتے اور معصوم عن الخطاء نہیں ہوتے یہ نکتہ ذہن نشین کرلیں زندگی آسان ہو جائے گی ۔ ان مستانوں کے گلے پڑنے کی بجائے آپ بھی اللہ رب العزت سے محبت رسول مانگو یہ دولت مانگنے سے ملتی ہے باقی نعمتیں بن مانگے بھی مل جاتی ہیں ۔ کیونکہ اللہ تک رسائی کے لئے حُب نبی ہی اصل زینہ ہے۔ جس پرصحابہ کرام نے عمل کیا۔ صدیق، عمر، عثمان اور علی نے عمل کیا۔ اقبا ل ا س لئے نصیحت کرتے ہیں اللہ سے وہی سوز طلب کرو جو انہی صحابہ نے طلب کیا تھا۔ جو ان کو عشق نبوی سے حاصل ہوا۔
سوز صدیق و علی از حق طلب
(ذرہ عشق نبی از حق طلب (حق تعالیٰ سے حضرات صدیق و علی کا سوز اور عشق نبی کا ذرہ مانگ
جناب عطاالحق قاسمی صاحب کی دو نسلوں کے مرید جاوید چوھدری صاحب جابر عوام کالم کے آخری حصے میں حواس باختہ ہوکر عوام پر ہی چڑھ دوڑے ، فرماتے ہیں کالم اور ٹی وی پروگرام میری ذاتی رآئے اور ملکیت ہے اس پر تنقید کا حق کسی کو نہیں جس نے پڑھنا ہے میرا کالم پڑھے جسے ناپسند ہے وہ دوسروں کے کالم پڑھ سکتا ہے ۔ جناب آپ سے کس نے کہہ دیا کہ کالم آپکی رآئے ہے اور اس پر لب کشائی نہیں کی جاسکتی ۔ محترم آپکی رائے آپ کی ملکیت اسوقت تک ہے جب تک آپ کے دماغ میں مقید ہے جب اس نے آپ کے دماغ کی حدود چھوڑ دی تو اسے آپ نے اخبار کو منتقل کردیا اسکی اجرت لے لی تو اب اسے لوگ پسند بھی کرسکتے ہیں اور ناپسند بھی ناقدین اس پر تنقید بھی کریں گے اور تند وتیز جملے بھی کسیں گے جنھیں ہضم بھی کرنا پڑتا ہے ۔ اگر جناب پر تند وتیز تنقید ناگوار گذرتی ہے تو اسے اپنے اور مرشد تک ہی محدود رکھا کریں نہ رائے پیرخانے کی دہلیز پھلانگے اور نہ اس پر تنقید ہو ۔ ناقدین نے بڑے بڑے حدیث کے راویوں پر جرح کی انھیں نہ بخشا ایک راوی کو سند کو متن کو چھانٹا تنقید کی اگر علم نہیں تو اہل علم سے اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کا پوچھو ۔ ہمارے ہاں بھی پورا ایک علم ہے جسے تنقید نگاری کہتے ہیں ۔ اگر آپ کا دعوی سچ مان لیا جائے کہ کالم رائیٹر کی شعر شاعر کی ذاتی رائے اور ملکیت ہوتے ہیں ان پر تنقید نہیں کیجاسکتی تو اردو ادب سے صنف تنقید کو دریا برد کرنا پڑے گا ۔ ایک وقت میں تمام لوگوں کو خوش کرنا ناممکن ہے کوئی بھی شخص کچھ لکھے گا اسے ایک طبقہ پسند کرے گا تو دوسرا ناپسند یہ نکتہ سمجھ کر جسے درست سمجھتے ہو لکھتے جاؤ نقاد تنقید کریں گے ۔ پسند کرنے والے عقیدتوں کے پھول نچھاور کریں گے ۔
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ۔۔