کم عقل فقیر اور ہمارے حکمران

Posted on April 1, 2016



وٖہ اج پھر ڈھیر ساری امیدیں اور خواب لیے رزق حلال کی تلاش میں نکل گیا،پچھلے دو دن سے وہ اور اس کےگھر والے صرف پانی
پر گزارا کررہے تھے،اس کو اپنی فکر نھیں تھی، بوڑھے ماں باپ کی بے بسی اور چھوٹے بچوں کا بھوک سے بلکنا اسکو پریشان کررہا تھا۔خوش قسمتی سے آج اس کو صبح ہی دیہاڑی مل گئی،ہزار روپے ليں کروہ اپنے گھر کی جانب دوڑنے لگا،اور دل ہی دل میں خیالی پلاؤ بنا رہا تھا ۔گھر سے کچھ دور اس کو عطر فروش کی دکان نظر آئی،وہ ایک لمحہ کے لیے رک گیا،پرسرور مہک نے اس کے قدموں کو آگے بڑھنے سے روک دیا،اس کے ذہن پر خوشبو سوار ہوگئی،اب اس کے قدم گھر کی طرف نہیں بلکہ دکان کی جانب بڑھ رہے تھے،نجانے اس مہک میں ایسا کیا جادو تھا جس سے وہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی حالت ہی بھول گیا،اور ہزار روپے کی ایک نفیس خوشبو خرید کر گھر کی جانب چل دیا۔۔۔

اس شخص کی کم عقلی پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں،کیونکہ یہ قصہ کسی اور کا نہیں ہمارے ملک کے حکمرانوں کا ہے !!جن کو آج کل شوق چڑھا پاکستان کو”لبرل” بنانے کا۔ویسے ان حکام کی قابلیت دیکھی جائے تو ان کو شاید لبرل کی انگریزی میں تہجی بھی معلوم نہ ہو،لیکن بقول ایک “نامور” صحافی کے ،دنیا کو پاکستان کی” مثبت تصویر” دکھانے کے لیے یہ کرنالازم ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم جو پاکستان کو لبرل بنانے کےعز م کا اظہار کرچکے ہیں شاید اس بات سے نا واقف ہے لبرلزم کی بنیاد آزادی اور حقوق ہے،مغربی ممالک جہاں سے لبرلزم کا مفہوم نکلا ہے وہاں خاندانی سیاست کی گنجائش نہیں ہے،

وہاں قومی ادارے آزاد ہے،وہاں کے جانوروں کو ہمارے انسانوں سے زیادہ حقوق حاصل ہے،اس لیے وہ لبرلزم کا نام لیتے ہوئے اچھے بھی لگتے ہے۔ہمارے وزیر اعظم اور ان کے ساتھ anti Molvis کا ایک گروہ یہ سمجھتا کہ حقوق نسواں کے بل پاس کرنے،آزادی صحافت کے نام پر میڈیا پر نامناسب پروگرامز کرانے ،اور کرسمسس،ویلنٹائن ڈے ،ہولی،دیوالی جیسی غیر اسلامی تہواروں کی ترویج کرنے سے ہم مغربی ممالک کی صفوں میں کھڑے ہوجائیں گے،یا دنیا ہمیں” مثبت نظر “سے دیکھنے لگے گی۔پاکستان اس وقت امن و امان کے لحاظ سے صومالیہ اور افغانستان کی صف میں کھڑا ہے،ہمارے ملک میں غریب کا بچہ معیاری تعلیم حاصل نہیں کرسکتا،عام آدمی کے لیے سرکاری ہسپتال میں جانا عذاب ہے،

بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہاہے،اقتدار پر تین عشروں سے دو خاندانوں کا قبضہ ہے،سیاہ سفید کے وہ مالک ہے،پولیس ان کی ذاتی جاگیرہے،عدلیہ ان کو کچھ کہنے کی ہمت نہیں رکھتی اور فوج ان کے کار خیر میں شامل ہے،کرپشن کے لاتعداد کیسز ہے،اور اب ان کے بچہ مملکت خداداد کی باگ دوڑ سنبھال نے کے لیے میدان میں ہے،اور اس سب کارناموں کے باوجود ان کا نعرہ لبرلزم ہے، انگلستان سے تعلیم شدہ ہولی کے رنگوں میں رنگے ہوئے پاکستان میں غیر مسلم کی صدارت کا سوال پوچھ رہے ہیں،اور عوام۔۔۔عوام لوڈشیڈنگ کے اندھیرے میں گہری نیند سورہی
ہے۔
اسامہ الطاف