Secular Pakistan

Posted on March 28, 2016



سیکولر پاکستان ۔۔۔۔۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ میڈیا رائے سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اس کے علاوہ قد آور شخصیات دانشور ، فنکار بھی رآئے سازی میں اہم فیکٹر سمجھے جاتے ہیں ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور کے ہتھیار بھی سوچ سے زیادہ شارپ اور جدید ہیں جنکی بدولت اپنے عقائد و نظریات قوموں پر مسلط کیے جاتے ہیں ۔ اگر میرا حافظہ خطا نہیں کررہا تو اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ دو قومی نظریہ ہم نے خلیج بنگال میں دفن کردیا ، میرے خیال میں وہ تو ایسا نہ کرسکی مگر اسکے روحانی فرزند آج ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر اسی کے مشن پر گامزن ہیں۔ آج بھی دور حاضر کے خود ساختہ دانشوروں کو دو قومی نظریہ کی سمجھ نہیں آتی – حالانکہ مودی سرکار نے اندھوں کو بھی نصف النھار کے سورج کی طرح دو قومی نظریہ دکھا دیا ہے مگر دیدہ کور کو نظر کیا آئے اور وہ کیا دیکھے ۔ یہ خود ساختہ پڑھے لکھے جاہل دانشور یہ ثابت کرنے پر پوری توانائی خرچ کررہے ہیں کہ دو قومی نظریے کا کوئی وجود نہیں تھا ۔ وہ ایک حسن نثار ہے جو بنو عباس سے بنو امیہ تک وہاں سے صفوی اور مغلوں تک کی تاریخ کے رٹے رٹائے جملے بول کر اسلامی تاریخ کو لتاڑتا ہے مگر اسکی اپنی علمی اوقات یہ ہے کہ اسے تشبیہات کا ادراک نہیں فرماتا ہے کہ اقبال نے ممولے اور شہباز کو لڑا دیا یہ ناممکن اور شاعرانہ مبالغہ ہے حالانکہ کم پڑھا مگر فہم و ادراک و شعور رکھنے والا شخص بھی باخوبی جانتا ہے کہ اقبال نے کمزور اور طاقتور کی بات کی ہے کہ عشق میں قوت ہے کہ کمزور و نحیف ممولہ شاہیں و شہباز سے لڑ پڑتا ہے۔ تاریخ اسلام مثالوں سے بھری پڑی ہے مگر اسے تاریخ اسلام سے چڑ ہے اسے تاریخ کا حوالہ دیں تو جھٹ کہتا ہے یہ تو عربوں کی تاریخ ہے تم اپنی بات کرو ۔ اسے اپنے خطے کی مثال دیتا ہوں وہ بھی ماضی قریب کی وقت کا کانسٹیبل کمزور عہدے کے لحاظ سے اور مارتا ہے صوبے کے سب سے بڑے عہدے دار وقت کے گورنر کو اسے کہتے ہیں کمزور کا طاقتور کے گلے پڑنا یہ سمجھایا تھا اقبال نے ممولے و شاہین کی تمثیل کا سہارا لے کر ، اقبال کوڑھ مغز بھنگیوں کی سمجھ سے کوسوں دور ہے – ٢٣ مارچ کی شب حسن نثار امتیاز عالم اور ان جیسے دیگر خود ساختہ دانشور ٹی وی پروگرامز میں بیٹھے یہ فلسفہ بیچ رہے تھے کہ دو قومی نظریہ کچھ نہیں تھا اور یہ ملک کسی نظریے کی بنیاد پر نہیں بنا تھا بلکہ متحدہ ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو اپنی مذہبی عبادات کرنے کی آذادی تھی اب اس پر میں انکی دانش کا ماتم نہ کروں تو اور کیا کروں آج ٢٠١٦ میں مسلمانوں کو وہ آذادی حاصل نہیں ہندوستان میں جسکا ڈھنڈورہ یہ پیٹ رہے ہیں ۔ آج ابلاغ کے اس دور میں بھی انڈین مسلمانوں کو گائے کے ذبیحہ سے دیگر معاملات تک جو مشکلات درپیش ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ لیکن اس سب کے باوجود نیم دانشوروں کو تصویرکا صرف ایک رخ دیکھنے کی عادت ہے ۔ عجب دور آگیا ہے جو جتنا پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اپنے اداروں کے خلاف زہر اگلے وہ اتنا بڑا دانشور سمجھا جاتا ہے ۔ علم و شعور کے پیمانے ہی بدل چکے ہیں جو دین سے وطن سے بیزاری ظاہر کرے اور دنیا جہان کے کیڑے اپنے ملک میں نکالے اسے بہت بڑا لبرل سمجھا جاتا ہے ۔ میں نہیں جانتا کس کے ایجنڈے پر ہمارا میڈیا پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتا ہے مگر اس پر آج سے نہیں کئی سالوں سے کام کیا جارہا ہے ۔ خیالات میں پیراڈائم شفٹ رآتوں رآت نہیں آتی اور نہ حادثات اچانک رونما ہوتے ہیں بلکہ دہائیوں ان کی آبیاری کی جاتی ہے ۔ این جی اوز زدہ سیکولر لادین عناصر سمجھتے ہیں کہ شرفاء کا دور حکومت بہترین وقت ہے پاکستان کو سیکولر بنانے کا حالانکہ یہ انکی نادانی ہے پاکستان وہ ملک ہے جسکا نظریہ پہلے اور جغرافیہ بعد میں ہے ۔ سیکولر حضرات کو سیکولر کی تعریف سے بھی نا واقفیت ہے بڑے طمطراق سے کہتے ہیں کہ ہم سیکولر ہیں میں کہتا ہوں مطلب تم لادین اور دہریے ہو ، کہتے ہیں سیکولر کا مطلب لادین نہیں اسکا مطلب یہ ہے وہ ہے ۔ ہمارے حسن نثار ٹائپ دانشور دوسروں کو ڈکشنری دیکھنے کا مشورہ بہت دیتے ہیں مگر خود کم ہی دیکھتے ہیں ۔ اب سیکولر انگریزی کا لفظ ہے اسکے موجد دیسی سیکولر تو نہیں ہو سکتے یقینی طور پر اہل زبان ہی ہوں گے اب اگر اسکا معنی پوچھنا ہے تو انھی سے پوچھنا پڑے گا ۔ آکسفورڈ ڈکشنری سے بیان کرتا ہوں سیکولر کا مطلب not connected with religious or spiritual matters. اب اسکا سلیس اردو میں ترجمہ لادین ہی بنتا ہے ۔ اب کھل کے کہو کہ ہم لادین ہیں ویسے بھی اسلام کو ایسوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ سیکولر طبقہ جمہوریت کا بھی لفاظی کی حد تک بڑا علمبردار ہوتا ہے مگر عملی طور پر جمہوریت سے کوسوں دور ہے ۔ مجھے کوئی لادین یہ سمجھائے کہ تم اپنے نظریات اکثریت پر چرب زبانی سے تھوپنا چاہتے ہو یہ کہاں کی جمہوریت ہے ۔ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے پر کھڑی ہے اگر کسی کو دو قومی نظریہ سمجھ نہیں آتا تو انڈیا جاکر سمجھ آئے مگرتاریخ کے اوراق پر بکھری سیاہی کو اپنی چرب زبانی سے مٹانے کی کوشیش نہ کرے تاریخ کا کچھ نہیں بگڑنا مگر تمھار تھوبڑے اور زبانیں کالی ہو جانی ہیں ۔
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ۔۔۔۔