ایک شادی اور متعدد نکاح

Posted on March 22, 2016



نے بھیپاکستان سے ایک مفتی صاحب نے فرمایا کہ ہے کہ ایک شادی اور کئی نکاح بیک وقت کئے جاسکتے ہیں۔ اُن یہ فتویٰ صادر ہوتے ہی میڈیا میں تبصرے ہونے لگے لیکن کسی نے بھی قرآن حکیم کی روشنی میں اس کا جائیزہ نہیں لیا۔ علامہ اقبال نے ایسے ہی مذہبی پیشواوٗں کے بارے میں کہا تھا کہ قرآن حکیم کی جو تشریح یہ لوگ کررہے ہیں اس نے خدا،جبرئیل ؑ اور رسول اکرم ﷺ کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ یہ قرآن کے بالکل برعکس کہہ ر ہے ہیں۔ علامہ نے اس بارے میں مزید فرمایا کہ
خود بدلتے نہیں ، قرآن کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس فقیہان حرم بے توفیق
قرآن حکیم نے بھی ایسی مذہبی پیشوائیت کے بارے میں بتا دیا ہے کہ بہت سے علماء اور مشائخ اللہ کی طرف جانے والے راستہ میں رکاوٹ ہیں( سورہ توبہ آیت ۳۴)۔مفتی صاحب کے فتویٰ سے قبل یہ ذہن میں واضح رہے کہ رسول اکرم ؐ دین مکمل کر گئے تھے (مائدہ آیت ۳)۔ اجتہاد صرف اُن مور میں ممکن ہے جن کے بارے میں قرآن حکیم میں حکم موجود نہیں۔ جس بارے میں قرآن نے فیصلہ دے دیا ہے اس میں اجتہاد ممکن نہیں بلکہ خود رسول اکرمؐ وحی میں تبدیلی نہ سکتے تھے (سورہ یونس آیت ۱۵)۔ نبی اکرم خود وحی پر ایمان لائے اور عمل کرتے تھے (سورہ البقرہ آیت ۲۸۵)۔ اب کسی مفتی کو اجازت دینے یا نہ دینے کا اختیار کیسے حاصل ہوسکتا ہے۔ مذکورہ مفتی صاحب کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے قانون کی رکاوٹ کو ایک شادی اور کئی نکاح کی صورت میں دور کیا ہے۔ ایک ٹی پروگرام میں انہوں نے سورہ نساء کی تیسری آیت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فتویٰ صادر کیا ہے کہ بیک وقت چار شادیاں کی جاسکتی ہیں۔انہوں نے بار باریہی آیت تلاوت کی کہ فا نکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ وثلاث وربع یعنی اُن عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں، دو دو ، تین تین اور چار چار۔ قارئین اگر آپ کبھی کسی نکاح کی مجلس میں شریک ہوں تو غور کرنا کہ وہاں بھی نکاح حضرات آیت کا یہی ٹکڑا تلاوت کرتے ہیں۔ قرآن حکیم کی اس سے زیادہ تحریف اور کیا ہوگی کہ آیت کا پہلا اور آخری حصہ چھوڑ کو صرف درمیان کا ٹکڑا پڑھا جائے اور آیت بھی وہ جس کا آغاز حرف شرط سے ہورہا ہے۔ یہ ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ اگر جملے سے پہلے کوئی حرف شرط ہو تو اُس کے بغیر بات کا مطلب ہی بدل جاتا ہے۔ قواعد کے مطابق جب کسی کام کو موقوف کرتے ہیں تو موقوف علیہ کے آغاز میں جو لفظ لاتے ہیں وہ حرف شرط ہے مثلاً اگر، جو، ہرچند وغیرہ۔جب جملہ میں حرف شرط ہوگا تو اُسے بولتے اور لکھتے وقت ساتھ بولا جائے گا وگرنہ بات کا مطلب کچھ اور نکلے گا۔ قرآن حکیم کی سورہ نساء ہی کی آیت ۴۳ میں ہے کہاگر تم نشہ کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب مت جا ؤ۔ اب کوئی جملے کا پہلا حصہ چھوڑ کر صرف یہ کہے کہ نماز کے قریب مت جاؤ ، اسے کوئی بھی درست تسلیم نہیں کرے گا۔ مثلاََ اس جملے پر غور کریں کہ اگر اس کا ناشتہ ذرا دیر میں تیار ہوا تو ملازم کے سر آفت آ جائے گی۔ اس جملے سے صاف ظاہر ہے کہ ناشتہ دیر سے بنے گا تو ملازم پر آفت آئے گی لیکن اگر دیر سے نہ بنے تو آفت نہیں آئے گی۔
ایک سے زائد شادی سے متعلق پورے قرآن میں صرف آیت ہے جو سورہ نساء کی تیسری آیت ہے اور یہ فا نکحوسے شروع نہیں ہوتی بلکہ آیت یوں ہے “وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنی وثلاث وربع فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ او ما ملکت ایمانکم ذلک ادنی الا تعولوا” یہ آیت حرف شر ط وان خفتم سے شروع ہوتی ہے اور ایک اور حرف شرط درمیان میں موجود ہے۔ اس کا ترجمہ یوں ہے کہ اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔ اس آیت کی روشنی میں ایک سے زائد شادی کی پہلی شرط یہ کہ اگر معاشرہ میں کوئی ایسی صورت مثلاََ جنگ کی وجہ سے یتیم عورتوں کے مسئلہ کو کوئی حل نہ ہو تو اسلامی حکومت ایک زائد شادی کی اجازت دے سکتی ہے۔ لیکن اگر یتیم عورتوں کا مسئلہ ہی نہ ہو تو پھر ایک سے زائد شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ حرف شرط آیت کے شروع میں ہے۔ اگر وہ صورت ہوگی تو دوسری شادی کا امکان ہے لیکن اگر وہ صورت ہی نہ ہو تو پھر دوسری شادی کی ضرورت اور امکان ہی نہیں۔یہ ہنگامی حالات کے لیے ایک راستہ ہے نہ کہ عام اجازت کہ جس کا جب دل چاہیے دوسری ، تیسری اور چوتھی شادی کرلے اور کہے کہ میں عدل کرسکتا ہوں۔ عدل تو دوسری شرط ہے اس سے قبل پہلی شرط کا موجود ہونا لازم ہے۔ اسی آیت میں شادی کا عام اصول فلا واحدہ کی صورت میں واضح کردیا کہ ایک وقت میں ایک ہی شادی ہوگی۔ اگر کسی کا بناہ نہ ہوسکے تو طلاق کی صورت میں دوسری بیوی لائی جاسکتی ہے جسے قرآن حکیم نے سورہ نساء کی آیت بیس میں بیان کیا ہے۔ جہاں تک لونڈیوں کا تعلق ہے تو یہ اُن بارے میں ہے جو اُس وقت معاشرہ میں موجود تھیں اُس کے بعد اسلام نے لونڈی اور غلام بنانے کا راستہ بند کردیا ہے۔ پورے قرآن ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں کہا گیا کہ غلام اور لونڈیاں بناؤ۔ جنگ میں گرفتار ہونے والوں کے لیے قرآن نے یہی حکم دیا کہ انہیں خواہ فدیہ لے کر یا احسان کرکے چھوڑ دیا جائے( سورہ محمد آیت ۴)۔ جب غلام بنانے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا تو پھر لونڈیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ قرآن حکیم کی روشنی میں اگر یتیم عورتوں کا مسئلہ درپیش ہوتو نظام مملکت دوسری شادی کی اجازت دے سکتا ہے اور اگریتیم عورتوں کا مسئلہ موجود نہ ہو تو دوسری، تیسری اور چوتھی شادی احکامات خدا کے خلاف ہے۔عدل کی شرط بعد میںآئے گی۔ قرآن نے یہ بھی واضح کردیا کہ نکاح کے لیے بالغ عمر میں ہی ہوگا (سورہ نساء آیت ۶)۔قرآن حکیم کی رو سے نکاح مسیار، نکاح جہاد اور عارضی نکاح کی کوئی حیثیت نہیں۔

link for complete Column

http://www.afkaretaza.com/70967