How A “Killer” Became A “Hero”

Posted on March 13, 2016



دار الحکومت کے ریڈزون میں واقع پارلیمنٹ،سپریم کورٹ،سینیٹ اور وزیر اعظم ہاؤس وہ اماکن ہے جہاں پاکستانی عوام کے فیصلے ہوتے ہیں،ان جگہوں پر عام شہریوں کا داخلہ منع ہے،یہی حال راولپنڈی میں عسکری قیادت کے ہیڈکوارٹر کا ہے،ان حساس مقامات پر ہونے والی “حساس” ملاقاتیں،حساس اجلاس،حساس نوعیت کے فیصلے اور حساس تدبیریں عوام کی پہنچ سے ہمیشہ دور ہی رہی،یہاں تک کہ ذرائع ابلاغ کا دور آیا،گویا ذرائع ابلاغ یعنی میڈیا عوام اور ریاست کے فیصلے کرنے والوں کے درمیان ربط کا واحد ذریعہ بن گیا،جس پر عوام کو مجبورا اعتماد کرنا پڑتا ہے،اب میڈیا کی اصولا تو ذمہ داری یہ بنتی تھی کہ عوام کو پس پردہ حقائق سے آگاہ کرتا اور عوامی شعور کو بڑھاتا،لیکن بدقسمتی سے میڈیا سے یہ ذمہ داری کما حقہ ادا نہیں ہوسکی،میڈیا کچھ خبروں کو اس ڈرامائی انداز میں پیش کرتا ہے کہ ہنگامہ کھڑا ہوجاتا ہے اور کچھ خبروں چھپا دیتا ہے،اور اس کے پیچھے یقینا میڈیا چینلز کےےذاتی مفاد اور “اوپر والوں” کی مرضی شامل ہوتی ہے،کچھ ماہ پہلے میڈیا پر ایگزیکٹ کے معاملہ کو اچھالا گیا،عوام میں سنسنی پھیلائی گئی،اور کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق حاصل کچھ نہیں ہوا،اس کا اندازہ اس بات سےبھی لگایا جاسکتا ہے کہ آج پاکستان کے 47 فیصد بچے زیور تعلیم سے محروم ہے،عوام کو صاف پینے کا پانی میسر نہیں،حکومت کی نالائقی کی وجہ سے ہر پاکستانی ایک لاکھ سے زائد کا مقروض ہے،اور میڈیا پر بحث ہورہی ہے کہ شرمین عبید محب وطن ہے یا غدار وطن،ممتاز قادری کو پھانسی ہونی چاہیے تھی یا نہیں!!!اب چونکہ یہ موضوعات عوام کی بحث کا محور بن ہی چکے ہیں، لہذا چند نکات کی وضاحت انتہائی ضروری ہے۔

ممتاز قادری نے قتل کیا،اور قتل کی سزا اسلام میں قصاص ہے،حیران کن طور پر مذہبی جماعتیں ہی پھانسی کی مخالف ہے،اس کی وجہ کیا ہے ؟؟ماضی پر ذرا ایک نظر ڈاليں،ریمنڈ ڈیوس دن دیہاڑےنوجوانوں کا قتل کرتا ہے،لیکن اس کو باعزت بری کردیا جاتا ہے،یہی کچھ شاہ رخ جتوئی اور کانجو کے ساتھ ہوتا ہے،اگر مزید بڑے مقیاس میں دیکھے تو پنجاب حکومت ماڈل ٹاؤن میں 14 افراد کو قتل کرتی ہے لیکن کسی کو پھانسی نہیں ہوتی،پرویز مشرف نے ہزاروں پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالہ کیا،لال مسجد میں معصوموں کو قتل کیا،لیکن ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے،ایم کیو ایم پر ایک سے زائد مرتبہ را سے تعلقات اور لوگوں کو قتل کرنے بلکہ جلانے کا الزام لگ چکا ہے،لیکن ایم کیوایم کی قیادت بے لگام آج بھی دندناتی پھر رہی ہے!!طاقتور کو قتل پر جب سزا نہیں ملتی تو گورنر کے متنازعہ بیان پر قانون کے حرکت میں آنے کی امید کرنا احمقانہ بات ہے،سرکار نے آج سے چودہ سو سال پہلے امتیازی فیصلوں پر قوموں کی تباہی سے خبردار کیا تھا،کیونکہ جب عدالتیں انصاف بیچتی ہے تو فساد برپا ہوتا ہے اور قانون امیر کے لیے اندھا ہوجائے تو غریب قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں لیتا ہے، ہمارے معاشرہ میں انصاف کا جو پتنگڑ بنا ہوا ہے اس میں ممتاز قادری کا عمل ایک طبعی امر ہے جس کی سزا بہرحال موت ہے، گو کہ عوام نے اس کو قبول نہیں کیا۔اور اس کی وجہ رعایاعوام اور فیصل حکمرانوں کے درمیان ربط نہ ہونے کی وجہ سے بداعتمادی کی ایک فضا ہے جس کو میڈیا بھی پر کرنے میں ناکام ہے اور عام آدمی اشرافیہ کی کسی شخصیت کو مخلص ماننے کے لیے تیار نہیں۔

بداعتمادی عوام کے اندر ایک مہلک مرض کی شکل اختیار رچکی ہے،عام آدمی کی یہ کیفتس ہے کہ اس کو ٹی وی اسکرین پرنظر آنے والی ہر چیز دھوکہ لگتی ہے ،عام آدمی کرکٹرز کو جواری،میڈیا اینکرز کو مفاد پرست ،عدلیہ کو سیاستدانوں کی جاگیر،سیاستدانوں کو فوج کی جاگیر اور فوج کو بیرونی طاقتوں کی جاگیر سمجھتا ہے،اور کچھ لوگ تو خود عوام کو حالات کا ذمہ دار اورنا سدھرنے والی شہ سمجھتے ہیں !!!جبکہ حقیقت میں یہ مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں۔

قوموں کے برے وقت میں حکمرانوں لاپرواہ ہونا اور اشرافیہ کا عیاش ہونا کوئی انوکھی بات نہیں،لیکن برے وقت میں عوام کا مایوس ہوجانا،رہنما اور رہزن میں فرق نہ کرنا اور خود قدم اٹھانے کے بجائے مسیحا کا انتظار کرنا انتہائی خطرناک ہے،حالات صرف حکمرانوں کے تبدیل ہونے سےتبدیل نہیں ہوتے،اس کے لیے میری اور آپ کی سوچ کی تبدیلی بھی ضروری ہے،اور سب سےپہلے اس سوچ کو ذہن سے نکالنا ہوگا کہ اس قوم کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔اصلاح ہوسکتی ہے یقینا ہوسکتی لیکن اس وقت جب ہم اصلاح کا عزم کرلیں ،ہم یہ سوچے کو میری ذات سے ملک کیا فائدہ ہورہا ہے۔مشکل حالات میں اپنی استطاعت سے” کچھ” بڑھ کر کرنا پڑتا ہے،اور یہ “کچھ” بڑھا ہوا ہے ہی قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔
اسامہ الطاف