صلاح الدین پیدا نہیں ہوتے صلاح الدین پیدا کئے جاتے ہیں

Posted on March 13, 2016



سن 1096 میں عالم اسلام پر پہلا صلیبی حملہ ہوا،صلیبی جنگیں اسلامی تاریخ میں اہم حیثیت رکھتی ہے اور اس کے اثرات کافی عرصہ تک باقی رہے۔پہلے صلیبی حملہ کے نتیجہ میں عیسائی افواج نے 1099 میں بیت المقدس پر قبضہ کرلیا،بیت المقدس مسلمانوں کے نزدیک انتہائی مقدس ہے ،اور اس میں موجود مسجد الاقصی حرمین کے بعدمسلم دنیا میں سب سے زیادہ دینی اہمیت رکھتی ہے،عیسائیوں کے قبضہ کے نوے( 90 )سال بعد صلاح الدین ایوبی نے جب بیت المقدس واپس فتح کیاتو مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،اور اس دن سے صلاح الدین مسلمانوں کے ہیرو بن گئے،آج بھی مسلمان اپنی موجودہ صورتحال سے تنگ آکر تمنا کرتے ہیں کہ ایک بار پھر کوئی صلاح الدین پیدا ہوجائے،حالانکہ صلاح الدین پیدا نہیں ہوتے صلاح الدین پیدا کئے جاتے ہیں

حضرت عمرو بن العاص نے طواف کے دوران خانہ کعبہ کے جوار میں ایک جماعت کو مجلس لگائے دیکھا،آپ طواف سے فارغ ہوکر ان کی جانب گئے،مجلس میں موجود افراد نے حضرت عمرو کو آتے ہوئے دیکھا تو بچوں کو مجلس سے دور کردیا،اس پر حضرت عمرو نے فرمایا “ایسا نہ کروں،ان (بچوں) کو قریب کروں،اور اپنی مجالس میں شریک کروں،یہ آج بچے ہیں لیکن کل کو اپنی قوموں کے بڑے ہونگے،جس طرح ہم آج اپنی قوموں کے بڑے ہیں” بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا ذہن بالکل صاف ہوتا ہے،پھر وقت کے ساتھ ساتھ گھر کے ماحول سماج کے طور طریقے اور میڈیا کے اثرات کے نتیجہ میں بچہ کی ذہن میں ایک مقیاس اور مفہوم بن جاتا ہے جس کے تحت وہ مختلف نظریات کو قبول اور رد کرتا ہے۔عمر کے اس اہم مرحلہ میں جب بچہ کی ذہنیت اور شخصیت تشکیل پارہی ہوتی ہے بچہ کی تربیت کا اہتمام نہیں کیا جاتا،”ابھی تو کھیلنے کے دن ہے ” کے نظریہ کے تحت بچہ کی یہ عمر کھیلنے کودنے ،کارٹون دیکھنے اور وقت ضائع کرنے میں گزرجاتی ہے،اوربڑے ہوکر جب یہ بویا ہوا دانا “پھل “دیتا ہے تو ہم ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔

مقصد یہ ہے کہ ہم صلاح الدین ایوبی کے پیدا ہونی کی دعائیں تو کرتے ہیں لیکن بچہ کو وہ ماحول اور تربیت نہیں فراہم کرتے جو اس کو واقعی صلاح الدین بنائیں،عظمت اور کامیابی کسی وقت،جنس یا مکان کے ساتھ مقید نہیں ہوتی،اس کو حاصل کرنے کے کچھ اسباب ہوتے ہیں،جن کے ذریعہ ہم آج بھی ایک نہیں کئی صلاح الدین پیدا کرسکتے ہیں،صحیح تربیت کامیابی کا پہلا قدم ہے۔نجانے کتنے صلاح الدین ہمارے درمیان موجود ہیں،جو فاتحانہ شخصیت اور قابلیت بھی رکھتے ہیں،لیکن نامناسب تربیت اور معاشرہ کی مجبوریوں نے ان کو اپنے ہدف سے دور رکھا ہے،بہت دور۔۔۔۔

اسامہ الطاف