عزیر بلوچ کے انکشافات اور ہمارا میڈیا

Posted on February 8, 2016 Articles



میں ان صفحات میں ایک عرصہ سے لکھ رہا ہوں کے امت مسلمہ کے لئے سب سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں صرف ایران ہے. یہ ایران ہی تھا جس نے حضرت عمرؓ کو قتل کر کے اسلام کو پھیلنے سے روکنے کی پہلی کوشش کی. (اس کے بارے میں مزید تفصیل ادھر دیکھیں). اور پھر یہ ساسانی سلطنت سے اۓ ہوۓ دہشت گرد تھے جنھوں نے مدینہ کا محاصرہ کر کے خلیفہ المسلمین زوالنورین حضرت عثمانؓ کو شہید کیا اور ایک ایسا فتنہ شروع کیا جس کو ہم آج تک جھیل رہے ہیں. کیا یہ سازشیں اسلام کو ختم کرنے کے لئے نہیں تھیں؟ بلکل. یہ حب علیؓ نہیں بلکہ بغض اسلام تھا اور اسلام کو نیست و نابود کرنے کی ایک کوشش تھی

جیسا کہ حضرت عثمانؓ جن کے خون کے قصاص کی بیعت نہ صرف الله کے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ٦ ہجری میں تمام صحابہ سے لی تھی بلکہ اس پر الله نے اپنی رضامندی اور خوشنودی کا بھی اظہار کیا اور اسی لئے اس کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے. تو جس قوم نے اس جلیل قدر صحابی اور داماد رسول (صلى الله عليه وسلم) کو شہید کیا تو کیا ہمیں اس پر کوئی شک ہونا چاہیے کہ وہ قوم در حقیقت اسلام کو ہی ختم کرنے کے در پے ہے اور ہمیشہ سے رہی ہے

اس مناسبت سے میں نے انہی بلاگز میں نے یہ بھی بتایا تھا کے شیعہ جن کو اپنے پانچ بڑے شہید کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سنی مسلمانوں کو کسی نہ کسی طرح راہ راست سے ہٹایا یا کوئی فتنہ سنی مسلمانوں میں ڈالا. اسی طرح مسلمانوں میں جتنے مشہور غدار گزرے جنھوں نے اسلام کو ذک پہنچائی چاہے وہ ہندوستان میں میر صادق یا میر جعفر ہوں یا بغداد میں ہلاکو خان کی مدد کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی یا حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرمطی ہو یا صلیبیوں کی مدد کرنے والا احمد بن عطا ہو وہ سب کے سب شیعہ ہی ہیں. کیا یہ سب کوئی اتفاق تھا؟ دنیا حرب میں کہا جاتا ہے کہ اتفاق کسی چیز کا نام نہیں

یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ شیعہ پروپیگنڈا کی دنیا میں بہت کامیاب ہیں. وہ حضرت عمرؓ کے قاتل کو اپنا ہیرو بنا کر بھی ہم کو اپنا بھائی بنا لیتے ہیں. حضرت علیؓ کو شہید کر کے اور حضرت حسن کو زخمی کر کے بھی اپنے آپ کو شیعان علی بھی منوائے رکھتے ہیں. اپنے کلمہ کو علیحدہ کر کے اور الله پر غلطی ہو جانے کا الزام لگا کر بھی خود کو مسلمان بنائے رکھے ہیں. اس پروپیگنڈا کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ میڈیا میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں. آج بھی کوئی پاکستانی میڈیا ایران کا نام کسی منفی خبر کے ساتھ نہیں لے گا اور کوئی بھی بڑا صحافی بھی ایران کا نام کسی منفی خبر بریک نہیں کرے گا

اسی لئے بہت سی اہم خبریں جو کہ بریکنگ نیوز بنتیں اگر بھارت میں کوئی ایسی بات کرتا ہمارے میڈیا میں ائی ہی نہیں. جیسے ایران کے پاسداران انقلاب کے اعلی عہدیدار نے اقرار کیا کہ ایران نے ٢ لاکھ جنگجو پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک میں تیار کر لئے ہیں. اس سے پہلے ایران کے ایک حکومتی عہدیدار نے کہا تھا کہ ہم اپنے ہمسایہ میں ١٥ ممالک کی حکومتوں کو گرا کر شیعہ یا شیعہ ہمدرد حکومتیں لانا چاہتے ہیں. تو عزیر بلوچ کے انکشافات حیران کن نہیں ہونے چاہیے کہ ایران بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں ملوث ہیں. اور بلچستان میں علیحدگی پسندوں کو لیاری میں پناہ دی. اس کے علاوہ کراچی میں بھی کالعدم تنظیموں کو پناہ دینے کا اعتراف کیا اور کراچی میں حالات کو خراب رکھنے میں ملوث ہے. اسی لئے ایران کے انٹیلی جنس کے اعلی افسر عزیر بلوچ کو دبئی سے ایران بچا کر لے جانے کی کوشش میں رہے