داعش کا کھُرا مل گیا

Posted on January 26, 2016



Dated: January, 26, 2015
Daesh Ka Khara Mil Gaya
By: Syed Anwer Mahmood
داعش کا کھُرا مل گیا
تحریر: سید انور محمود

پاکستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشتگردی میں کافی کمی آئی تھی لیکن 2015ء کے آخر سے دہشتگردی میں پھر اضافہ ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی دہشتگردوں کے سہولت کاروں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ آجکل ہمارئے ملک میں یہ بحث عام ہے کہ پاکستان میں داعش کے سہولت کار کہاں کہاں موجود تھے یا ہیں، ان ہی سہولت کاروں میں ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی ہے۔ اس بات کو تقویت اس طرح بھی ملتی ہے کہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے 20 جنوری کو چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر چار حملہ کرنے والوں کو مدد دینے والے آٹھ سہولت کاروں میں چارسہولت کاروں کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، تین کی تلاش جاری ہے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے مطابق دہشتگردوں کے لیے اسلحہ درہ آدم خیل سے لیا گیا اور اسلحہ لینے میں سہولت کار “اے” جس کا اصل نام خفیہ رکھا گیا ہے اس کی بیوی اور بھانجی نے بھی مدد کی۔

کراچی میں صفورہ چورنگی کے قریب 13 مئی 2015ء کو دہشت گردوں نے ایک بس میں سوار اسماعیلی برادری کے 47 بے گناہ لوگوں کو قتل کیا۔ اس دہشت گردی میں شقی القلب دہشت گردوں نے صرف چند منٹ میں اسماعیلی برادری کے بیس سے ستر برس تک کی عمر کے 47 معصوم اور بے ضرر لوگوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔ پاکستان میں یہ ایسا پہلا حملہ تھا، جس کے لیے ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ پاکستانی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے 20 مئی 2015ء کو کراچی میں 47 اسماعیلی شیعہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث ماسٹر مائنڈ اور دیگر حملہ آوروں کو حراست میں لینے کا انکشاف کیا۔ وزیر داخلہ متواتر پاکستان میں داعش کی موجودگی کا امکان مسترد کرتے رہے ہیں، لیکن یہ چوہدری نثار کی بدقسمتی ہے کہ داعش کا “کُھرا” پاکستان میں مل چکا ہے، پاکستانی کھوجیوں نے داعش کے “کُھرے” کو نہ صرف کراچی بلکہ پنجاب کی متعددشہروں میں ڈھونڈ نکالا ہے۔ دہشت گرد طالبان کے زیادہ تر کُھرے مردانے پائے گئے ہیں لیکن داعش کے “کھُروں” میں پاکستانی کھوجیوں نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے”کھُرے” بھی کھوج نکالے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ داعش پاکستان میں حملے کر رہی ہے اور پاکستان سے لوگ بھرتی کر رہے لیکن چوہدری نثارابھی تک اس امر کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان قسمت کے دھنی ہیں وہ جس بات سے انکار کرتے ہیں وہ فوراً ثبوت کے ساتھ سامنے آجاتی ہے، گزشتہ سال فرمایا “پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں”۔ برا ہو دفتر خارجہ کا کہ جس نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیا کہ داعش نے جنوری میں پاکستان اور افغانستان کو خراسان قرار دے کر یہاں اپنی تنظیم کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ چوہدری نثار نے لال مسجد کے دہشت گرد مولانا عبدالعزیز کے بارے میں فرمایا “اُن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، سوشل اورالیکٹرونک میڈیا نے مولانا کے خلاف لاتعداد ثبوت جن میں دو عدد”ایف آی آر” بھی شامل ہیں پیش کردیں، کچھ عرصہ قبل جامعہ حفضہ کی طالبات کی جانب سے داعش کے حق میں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اسلام آباد میں سول سوسائٹی کی جانب سے مظاہرے کیے گئے تھے۔مظاہرین کے دباؤ کے بعد اسلام آباد انتظامیہ حرکت میں آئی اور دہشت گرد مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، اُس کے ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کیے گئے۔ تاہم وزیر داخلہ چودھری نثار نے اسلام آباد پولیس کو کارروائی کرنے سے روک دیا۔ ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا کہ مدارس کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دینا درست نہیں، ادھر مدرسہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک کے استاد نے عدالت میں تسلیم کر لیا کہ بے نظیر بھٹو قتل کے ملزمان ان کے مدرسے کے طالب علم تھے۔ چودھری نثار کو اب استعفیٰ دے دینا چاہئے!

کراچی میں انسداد دہشت گردی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں داعش کی حمایتی خواتین کا ایک گروہ سرگرم ہے، اس گروہ میں بیس خواتین شامل ہیں، جو تمام خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ صفورہ واقعے کے سہولت کار خالد یوسف باری کی اہلیہ خواتین میں ایک یو ایس بی تقسیم کرتی ہے جس میں داعش کے متعلق ویڈیوز بھی ہوتی ہیں۔ خواتین کا یہ گروہ خواتین کی ذہن سازی اور چندہ اکٹھا کرنے کے علاوہ شدت پسندوں کی شادیوں کا انتظام کرتا ہے۔یہ بات محکمہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ راجہ عمر خطاب نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔ خواتین کے اس نیٹ ورک کی سرپرستی صفورہ بس حملے کے مرکزی ملزم سعد عزیز عرف ٹن ٹن کی بیگم اور ساس، خالد یوسف باری کی اہلیہ اور اسی واقعے کی ایک اور ملزم قاری توصیف کی اہلیہ کرتی ہیں۔ سعد عزیز پر امن کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش خالد یوسف نے انکشاف کیا ہے ان کی اہلیہ نے الذکرہ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ بنا رکھا ہے، جس کا کوئی دفتر نہیں ہے لیکن اس میں 20 سے زائد صاحب حیثیت خواتین شامل ہیں جو درس و تدریس کی آڑ میں نہ صرف ذہن سازی کرتی ہیں بلکہ دہشت گرد تنظیموں کو زکوٰۃ، خیرات اور چندے کی صورت میں فنڈز فراہم کرتی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ماضی میں ملک میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ فی الحال حکام کے پاس اس حوالے سے کوئی حتمی معلومات موجود نہیں کہ صوبہ پنجاب میں دولتِ اسلامیہ کا نیٹ ورک کتنا وسیع ہے اور اس میں شمولیت کے لیے پاکستان سے باہر جانے والے افراد کی اصل تعداد کیا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر 31 دسمبر 2015ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اطلاعات کے مطابق تین خواتین ایک درجن سے زیادہ بچوں کو لے کر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے شام چلی گئی ہیں۔ ان افراد کے اغوا کی ایف آئی آر چند ماہ قبل ٹاؤن شپ، وحدت کالونی اور ہنجروال کے تھانوں میں درج کروائی گئی تھیں۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ معلومات ملی ہیں کہ یہ لوگ کراچی اور گوادر کے راستے ایران سے شام گئے ہیں تاکہ دولتِ اسلامیہ میں شامل ہو سکیں۔

لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے بی بی سی کو پہلے بتایا تھا کہ پولیس کے پاس تو ان کے اغوا کی ایف آئی آر درج تھی لیکن اب ان میں سے کچھ خواتین کا رابطہ اپنے گھر والوں سے ہوا ہے جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ اطلاع دی ہے کہ وہ اغوا نہیں ہوئیں بلکہ اپنی مرضی سے شام گئی ہیں۔اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ محکمۂ انسداد دہشت گردی کی مزید تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ خواتین کراچی اور گوادر کے راستے ایران سے شام گئیں تاکہ داعش کے لیے کام کر سکیں۔تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ پولیس اس حوالے سے مزید تحقیقات کر رہی ہے۔بی بی سی کو موصول ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق تھانہ ہنجروال میں اپنی پوتی کی اغوا سے متعلق ستمبر میں دی گئی درخواست میں فاطمہ بی بی نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ان کی ایک بیٹی ارشاد بی بی اپنے دو بچوں کے ساتھ چند ماہ پہلے شام منتقل ہو چکی ہیں۔مبینہ طور پر شام جانے والی خواتین میں ٹاؤن شپ کی بشریٰ چیمہ عرف حلیمہ کے علاوہ فاطمہ بی بی کی ہمسائی فرحانہ بھی شامل ہیں جو ستمبر میں اپنے پانچ بچوں کے ساتھ گھر سے غائب ہوئیں۔

فرحانہ کے بھائی اور مقامی صحافی عمران خان نے پولیس کو ان کی گمشدگی کی اطلاع بھی دی تھی۔عمران کا کہنا ہے کہ فرحانہ کے شوہر اور محکمہ ریونیو کے ملازم مہر حامد شدت پسند تنظیموں سے ہمددردی کے جذبات رکھتے تھے اور انہیں تفتیش کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں بھی لیا تھا اور وہ کئی ماہ تک لاپتہ رہے۔عمران کا کہنا تھا کہ اس دوران فرحانہ میں شدت پسندی کا رجحان نمایاں ہوا اور وہ ستمبر میں اپنے پانچ بچوں سمیت گھر سے غائب ہوگئیں۔تاہم عمران کا دعوی ہے کہ فرحانہ نے پاکستان کی سرحد عبور نہیں کی تھی بلکہ ستمبر میں ہی ایف سی نے انہیں ایران کی سرحد کے قریب جیوانی سے گرفتار کرلیا تھا۔ ان افراد کے شام جانے کی تصدیق ایسے موقعے پر ہوئی جب اُس سے ایک روز قبل ہی انسداد دہشت گردی فورس نے سیالکوٹ کے قریبی علاقے ڈسکہ میں آٹھ افراد پر مشتمل ایک ایسا نیٹ ورک توڑنے کا دعویٰ کیا تھا جو پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور ان کے لیے بھرتیاں کرنے کا کام کر رہا تھا۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے پنجاب میں اس شدت پسند تنظیم کی موجودگی کی سرکاری سطح پر تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ڈسکہ میں موجود یہ آٹھ افراد دولتِ اسلامیہ کے لیے کام کرنے والے ایک شخص امیر معاویہ سے موبائل سروس وائبر کے ذریعے رابطے میں تھے۔

مذکورہ بالا اطلاعات اردو اخبارات اور ویب سائٹس پر موجود ہیں لیکن شاید پاکستانی وزیر داخلہ کو ابھی تک اس مواد کو دیکھنے کی فرصت نہیں ملی ہے۔ ہماری عورتیں اور بچیاں ایسے درندوں کے پاس پہنچ رہی ہیں جن کے عراق اور شام میں خواتین پرمظالم کی خبریں ہر دردمند انسان کا دل دہلا دیتی ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ داعش کے اہلکار خواتین کے ساتھ اس غیر انسانی اور غیر اسلامی سلوک کو قرآن وسنت کے مطابق جائزقرار دے رہے ہیں۔کچھ عرصہ قبل داعش نے اپنے آن لائن میگزین “دبیق” میں عورتوں کو غلام بنانے اور ان کی خریدوفروخت کو جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ القاعدہ نے جس بے راہ روی کی بنیاد اسلام اور جہاد کے نام پر ڈالی تھی داعش اس کا ایک بہت ہی بھیانک نتیجہ ہے۔ داعش ہرلحاظ سے اب القاعدہ کو دہشت گردی اور سفاکی میں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔

عالمِ اسلام کے بیشتر رہنما اور علماء داعش اور القاعدہ کے جہاد کو دہشت گردی قرار دے چکے ہیں اور انہیں علمی دلیلوں سے رد کیاجا چکا ہے لیکن بدقسمتی سے علماء اور مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان کے مطالبات اور مقاصد کو غلط قرار دینے کو تیار نہیں۔ جب ان تنظیموں کا جہاد غلط ہے تو ان کے مذہبی اہداف اور مقاصد جنہیں یہ جہاد کی آڑ میں حاصل کرنا چاہتے ہیں کس طرح سے جائز ہوسکتے ہیں؟ ان حالات میں حکومت پاکستان خاص کر وزات خارجہ اور وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں کافی بڑھ جاتی ہیں۔ ہمیں داعش کے بارے میں ویسی ہی غلط فہمیوں میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے جیسی طالبان سے متعلق پیدا کی گئیں، حکومت کو تسلیم کرنا چاہیئےکہ ملک میں داعش کا وجود ہے اور ہمیں فوری طور پر اس تنظیم کے خلاف اقدامات کرنے ہوں گے، یہ جو خواتین شام پہنچ چکی ہیں یہ کسی تنظیم کے ذریعے ہی شام پہنچی ہیں، اور یہ اس بات بات کا واضع ثبوت ہے کہ داعش کے سہولت کار پاکستان میں موجود ہیں۔ ان تشویش ناک واقعات کے بعد بھی اگر وزیر داخلہ چوہدری نثار اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ پاکستان میں داعش موجود ہے تو پھر ہم سب کو اگلی کئی دہائیوں تک عدم استحکام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔