سانحہ چارسدہ ۔۔۔

Posted on January 25, 2016



پاکستان میں سانحات کی لمبی تاریخ ہے آئے رور سانحات ہوتے ہیں مگر ان سانحات سے ہم نے کچھ سیکھا اور نہ سیکھنے کی کوشیش کررہے ہیں۔ پوری دنیا میں دہشتگردی کے واقعات ہوتے ہیں دنیا ان واقعات کو مدنظر رکھ کر لائحہ عمل مرتب کرتے ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔ اے پی ایس کے سانحہ کے بعد ہمارے ارسطو اور سقرآط سر جوڑ کر بیٹھے اور بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان بنا کر قوم کے سامنے پیش کیا اور نوید سنائی گئی کہ اب راوی امن و شانتی ہی لکھے گا۔ مگر شومئی قسمت سے اس ایکشن پلان کے ساتھ بھی وہی ہوا جو دہائیوں سے آئین پاکستان کے ساتھ ہورہا ہے ۔ آج بھی ہمارے نیم دانشور جنرل ضیاءالحق کو کوس رہے ہیں کہ افغان روس جنگ کے لئیے ضیاالحق نے مسلحہ جتھوں کو منظم کیا جو بعد میں مختلف دہشتگرد تنظیموں کے روپ میں منظم ہوگئے۔ ہم ماضی سے کسی صورت نکلنے کو تیار نہیں ضیاالحق کی مذمت کرنے سے دہشتگردی اگر روکی جاسکتی ہے تو شوق سے کرو ورنہ ماضی سے نکلو اور حال کو کھلی آنکھوں سے دیکھو اور اے پی سی بلوانے کے علاوہ اگر تمھارے ترکش میں کوئی تیر ہے تو چلاو ۔ پاکستان میں فائلوں کی حد تک بڑے اچھے پلان موجود ہیں فقدان ہے تو عمل درآمد کا فقدان ہے اور یہ ایسا ہی رہے گا اسوقت تک جب تک جگاڑی لیڈرشپ موجود ہے کیونکہ عمل درآمد کی رآہ میں سب سے بڑی رکاوٹ انکے ذاتی مفادات ہیں ۔ یہ وہ لیڈرشپ ہے جو اپنے پاؤ گوشت کی خاطر پورا بکرا ذبح کردیتے ہیں ۔ ایک ڈاکٹر عاصم نیشنل ایکشن پلان کی زد میں کیا آیا سارا ایکشن پلان ہی چوپٹ ہوگیا اور بڑی بی جمہوریت کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا۔ کیونکہ جمہوریت انکے نذدیک ہے ہی چند خاندانوں کے مفادات کے تحفظ کا نام ۔ اگر صرف سیاستدان ہی کرپٹ ہوتے تو شائد گذارا ہو جاتا مگر ہمارے ہاں تو دانشور بھی بددیانت ہیں جو کھاتے پاکستان کا ہیں مگر بولی ہندوستان کی بولتے ہیں ۔ پٹھان کوٹ کے واقعہ کے بعد ہندوستانی میڈیا و حکومت ہند کی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف تھا مگر آج اگر کوئی اکا دکا آواز ہندوستان کے خلاف اٹھتی ہے تو ہمارے نیم دانشور اسے یہ کہہ کر دبا دیتے ہیں کہ وہ جی یہ ہمارا ہی قصور ہے دہشتگرد ہماری ریاست ہی نے افغان وار کے لئیے پالے تھے جو بیج ہم نے بوئے تھے انھی کی فصل کاٹ رہے ہیں ۔ سلیم صافی صاحب کو سنیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر خرابی کی ذمہ دار تحریک انصاف ہی ہے ۔ اس بیچارے سے سوال مشرق وسطی کا کرلیں جواب میں اسکی تان عمرآن خان اور تحریک انصاف پر ہی ٹوٹے گی ایسی تو کھیپ ہے ہمارے پاس دانشوروں کی ۔ آج ہر بڑے چینل نے صافی صاحب کو انسداد دہشتگردی کا ایکسپرٹ سمجھ کر لائن پر لیا ہوا تھا اور صافی صاحب وہی ضیاءالحق فوج اور تحریک انصاف کو کوس رہے تھے ۔ صافی صاحب ٢٠١٦ میں بھی اسی کی دہائی سے باہر نہیں آرہے ۔ جہاں ہمارے سیاستدانوں میں سیاسی شعور اور ویژن کی شدید کمی ہے وہیں میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے دانشوروں کی ذہنی و فکری نشونما نہیں ہوسکی انکے ذہن ٨٠ کی دہائی میں جکڑے گئے ہیں ۔ چارسدہ میں آج اندوہناک سانحہ ہوا جسکی مذمت چہار سو ہورہی ہے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ بچوں نے قربانی پیش کردی ۔ حیا مگر انھیں آتی نہیں کوڑھ مغزوں کو کہ قربانی کا کوئی مقام ہوتا ہے کالج اور سکول درسگاہیں اور دانشگاہیں ہیں نہ کہ قربان گاہیں ۔ والدین بچوں کو قربان گاہوں میں نہیں بھیجتے کہ جاؤ اور قربان ہوجاؤ ۔ انتہا درجے کی بے شرمی ہے نااہلی تسلیم کرنے کی بجائے قربانیوں کی گردان پڑھتے نہیں تھکتے ۔ تعلیمی اداروں کو علم وفنون کا گہوارہ بناؤ نہ کہ قربان گاہیں ۔ اب کرنا کیا چاہئیے میں نے بھی کافی لفظوں کی جگالی کرلی مسئلے کا حل کیا ہے ۔ ایک سطری حل ہے عمل عمل اور عمل ۔ پلان چاہے کسی تھانے کے ایس ایچ او سے بنوا لو اسکے لئیے کوئی پی ایچ ڈی ہونا ضروری نہیں مگر صدق دل سے عمل درآمد کرو اور چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کے لئیے عظیم نعمت پاکستان کی ترقی اور امن کی رآہ میں رکاوٹ نہ بنو ۔ ماضی میں جو ہوچکا اسے نہ آپ بدل سکتے ہو نہ میں لیکن اپنے آج کو ہم بدل سکتے ہیں یہ ناممکن نہیں ۔ آج پاکستان جن مسائل سے نبردآذما ہے دنیا کے کئی ممالک نے اس سے کہیں زیادہ گھمبیر مسائل پر قابو پایا ہے ۔ مسائل پر قابو پانے کی نیت اور حوصلہ ہونا چاہئیے ۔ اللہ تبارک تعالی شہداء کے درجات بلند کرے پسماندگان کو صبر جمیل عطاکرے حکمرآنوں کو مشکل فیصلے کرنے اور ذاتی مفاد قربان کرنے کا حوصلہ عطا کرے اور حق تعالی دانشوروں کے ذہنی جمود کو توڑے ۔
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔