احمد شہزاد اور آفریدی کی یاری کہہں ٹیم کی پرفارمنس پر نہ پڑجائے بھاری

Posted on January 15, 2016



شاہد آفریدی اور گھٹیا سوال کے عنوان پر ابھی بحث و مباحثے ختم نہیں ہوئے تھے کے سوموار کے روز شاہد آفریدی اور احمد شہزاد کے برگروں کے معاملے نے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔
شاہد آفریدی اور احمد شہزاد کی دوستی کے چرچے پچھلے سال ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ سے شروع ہوئے ہیں، دونوں کرکٹرز کی دوستی پر سوشل میڈیا پر کافی مزاحیہ بحث ہوتی رہتی ہے۔
میری نظر میں سوشل میڈیا پر ہونے والے مزاحیہ اور طنزیہ تبصروں کے بعد شاہد آفریدی اور احمد شہزاد جان بوجھ کر بھی اس طرح کا طرز عمل اپناتے ہیں کہ جس سے وہ نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر خبروں میں رہ سکیں۔
قومی کرکٹ ٹیم ان دنوں نیوزی لینڈ کے دورے پر ہے اور پندرہ فروری کو شاہد آفریدی کی قیادت میں نیوزی لینڈ کیخلاف اپنی ٹی ٹوئنٹی مہم کا آغاز کررہی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل یہ سیریز نہایت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ سیریز جیت کر پاکستان ٹی ٹوئنٹی میں اپنی رینکنگ بہتر بنا سکتا ہے لہذا شاہد آفریدی کو ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس سیریز کو جیتنے کی بہترین پلاننگ کرنی ہوگی اور اپنے دوست احمد شہزاد کو بھی سمجھانا ہوگا کہ وہ بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے غیرسنجیدہ رویے کو ختم کر کے دوبارہ سے ٹیم کے لیے پرفارم کرنا شروع کرے کیونکہ کافی عرصہ سے احمد شہزاد ٹیم کے لیے کوئی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کررہے اور اکثر ماہرین کی نظر میں یہ سب احمد شہزاد کی غیرسنجیدگی کے سبب ہوا ہے۔
شاہد آفریدی کا کرکٹ کریئر ختم ہونے میں بھی تقریباً اڑھائی ماہ رہ گئے ہیں۔ شاہد آفریدی کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل پوری ٹیم کو متحد کر کے ورلڈکپ کے ٹائٹل کے حصول کی پلاننگ بنانی ہوگی۔
شاہد آفریدی کو احمد شہزاد سے بھی دوستی نبھانی چاہیئے لیکن اس حد تک نہیں کہ اس سے دونوں پلیئرز اپنی پروفیشنل ڈیوٹی سے بھی غافل ہوجائیں جس طرح وہ دونوں نیوزی لینڈ میں کرنسی تبدیل کروائے بغیر برگر کھانے نکل پڑے۔
اگلے مہینے پاکستان سپرلیگ شروع ہورہی ہے جس میں شاہد آفریدی اور احمد شہزاد الگ الگ ٹیموں میں ہیں۔ الگ ٹیموں میں ہونے کی وجہ سے دونوں پلیئرز کی کارکردگی میں کیا مثبت یا منفی اثرات مرتب ہوں گے یہ سپر لیگ کا نہایت دلچسپ پہلو ہوگا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کا پہلا میچ بھارت سے ہو گا اور یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان کسی بھی کرکٹ ورلڈکپ میں بھارت کو ہرا نہیں سکا لیکن اس بار پاکستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں کافی نئے کھلاڑی ہوں گے، شاہد آفریدی کا اپنا ریکارڈ بھی بھارت کیخلاف قدرے بہتر ہے لہذا اس بار اس بات کی امید ظاہر کی جارہی ہے کہ پاکستان ماضی کی روایات کے برعکس بھارت کو ہرا کر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے عالمی مقابلے میں اپنی مہم کا انداز دھواں دھار انداز سے کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے کسی قسم کی سستی، لاپرواہی اور غفلت کی اجازت نہیں ہے کیونکہ شاہد آفریدی اور ان کے دوست احمد شہزاد کو نیوزی لینڈ میں تو ایک پاکستانی نے انکے برگر کا بل ادا کر کے شرمندگی سے بچالیا لیکن خدانخواستہ اگر پاکستانی ٹیم عالمی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی تو شاہد آفریدی کو شرمندگی سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور ان کے حالیہ ریکارڈز میں احمد شہزاد کیساتھ سیلفیاں اور برگر کھانے کی یادیں ہی بچیں گی