داعش ہیں، داعش نہیں ہیں

Posted on January 9, 2016



Dated: Jan. 09, 2015
Daesh Hain, Daesh Nahi Hain
By: Syed Anwer Mahmood
داعش ہیں، داعش نہیں ہیں
تحریر: سید انور محمود

دہشت گردوں کا گروہ داعش یا امارت اسلامی ظاہری طور پر اسلامی احکام کے اجرا کی تاکید کرتا ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دہشت گرد گروہ کے افکار و نظریات مکمل طور پر اسلام مخالف ہیں۔ یہ دہشت گرد شریعت کے نفاذ کا نعرہ اس لیے لگا رہے ہیں تاکہ دنیا والوں پر یہ ظاہر کریں کہ وہ ایک اسلامی گروہ ہیں۔ داعش کا مقصد ایک طرف اسلام کے چہرے کو بدنام کرنا ہے تو دوسری طرف عالم اسلام میں مذہبی اور فرقہ وارانہ جنگ کی آگ کوبھڑکانا ہے۔عراق کے شمال میں داعش نے 12جون2014ء کو ایک ہولناک خون کی ہولی کھیلی جس میں سیکڑوں عراقی شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔اس دن سے اس دہشت گرد گروہ کا نام لوگوں کی زبانوں پر آنا شروع ہو گیا ہے، اس گروہ کے لوگ پہلے القاعدہ میں شامل تھے، شام میں جاری محاذ پر انہوں نے اپنی تنظیم کوالنصر فرنٹ کانام دیا اور پھر بعد میں اس گروہ سے خود کو جدا کر کے ایک اور گروہ بنایا جس کا نام داعش رکھ لیا۔

برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر سابق امریکی صدر جونیئر بش کے ہر گناہ کے ساتھی رہے ہیں اب سے دو ماہ پہلےانہوں نے امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این کو بتایا کہ عراق کے بارے میں ان کی حکمت عملی ناکام رہی لیکن اس کے بعد کی حکمت عملیاں بھی کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ٹونی بلیئر نے کہا میں اس بات پر معافی مانگتا ہوں کہ جاسوسی معلومات غلط تھیں۔ میں اس کے لیے بھی معافی مانگتا ہوں کہ حکمت عملی تیار کرنے اور یہ سمجھنے میں غلطیاں ہوئیں کہ جب آپ حکومت بدل دیں گے تو کیا ہو گا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا عراق جنگ ہی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے فروغ کا باعث بنی ہے، تو انھوں نے جواب دیا میں سمجھتا ہوں کہ اس بات میں کسی حد تک حقیقت ہے۔ بظاہر کہا جاتا ہے کہ داعش ایک مسلم تنظیم ہے لیکن تباہ ہوتے ہیں عراق، لیبیا اور اب شام۔ داعش کی تشکیل کے بعد اس کی جانب سے اسلام کے نام پر عراق اور شام میں انجام پانے والے غیر انسانی اور دہشت گردانہ اقدامات کا اصل مقصد ہی اسلام کے چہرے کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے۔ داعش کی جانب سے نہتے عوام کے خلاف بہیمانہ ظلم و ستم انجام پانے کا بڑا مقصد اسرائیل کے چہرے کو سفید کرنا اور عالمی سطح پر اس کے چہرے پر لگے ظلم و بربریت کے لیبل کو ہٹانا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اسرائیل جو پوری طرح مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے اور کررہا ہے، وہ مکمل محفوظ ہے۔

ابوبکر البغدادی نام ہونے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے اور مسلمانوں کا دشمن نہیں، عبداللہ محسود، حکیم اللہ محسود کون تھے؟ تھے تو نام سے مسلمان لیکن 60 ہزار پاکستانیوں کے قاتل تھے۔ موجودہ طالبانی لیڈر فضل اللہ کون ہے، کیا مسلمان نہیں ہے؟ ہر گز نہیں پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے 132 بچوں اور ہزاروں پاکستانیوں کا قاتل ہے۔ اسامہ بن لادن کس کے کہنے پر روس سے لڑنے افغانستان آیا تھا؟ ساری دنیا جانتی کہ وہ امریکی نمک خوار تھا۔ صدام حسین کون تھا، امریکی نمک خوار، ایران سے آٹھ سال جنگ اور کویت پر قبضہ امریکہ کے حکم پرلیکن امریکہ اپنے نمک خواروں کا یہ ہی انجام کرتا ہے جو صدام حسین کو پھانسی پر لٹکاکر کیا، قذافی نے بھی جب امریکی نمک حلالی کی کوشش کی توسب سے زیادہ برے انجام کا مستحق قرار دیا گیا۔ پاکستان کا سابق ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحقء بھی اپنے آقا امریکہ کے ہاتھوں مارا گیا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ القاعدہ کے ناکام ہونے کے بعد اب زیادہ سرمایہ لگاکر شدت پسندتنظیم دولت اسلامیہ بنائی گی ہے، جسکا سربراہ ابوبکر البغدادی ہے، ابوبکر البغدادی اپنے آپ کو نام نہاد خلیفہ قرار دے چکا ہے، اوراب آپ کو القاعدہ اور طالبان کےکافی دہشتگرد داعش میں ملیں گے۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں جمعہ 13 نومبر 2015ء کی شب چھ مقامات پر خودکش حملوں اور فائرنگ سے 129 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔بقول داعش کہ فرانس کی شام میں مداخلت کے پیش نظر داعش کی جانب سے پیرس میں دہشت گردی کرکے انتقام لیا گیا۔ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن پیرس میں دہشت گردی کامیاب کیسے ہوئی، جبکہ فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک میں یہ بہت ناممکن لگتا ہے، پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ فرانسیسی حکومت نے دستیاب معلومات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اورکچھ زیادہ ہی خود اعتمادی کا شکار ہوگئی۔ جمرات 7 جنوری کو ایک مرتبہ پھر پیرس میں ایک خودکش جیکٹ پہنے شخص نے پیرس کے ایک تھانے پر حملے کی کوشش کی لیکن فرانسیسی پولیس نے دھماکے کی کوشش ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ فائرنگ کرکے اُس شخص کو ہلاک کردیا۔ دھماکے کی ناکامی کی وجہ پیرس پولیس کا ہوشیاررہنا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار طالبان کے سربراہ دہشتگردحکیم اللہ محسود کی موت پر بہت روئے تھے۔ جماعت اسلامی کے سابق امیرمنور حسن نے تو اپنے بھائی دہشتگردحکیم اللہ محسود کی موت پراُسکو شہید قرار دیا تھا جبکہ مولانا فضل الرحمان نے اُسے کتا قرار دیتے ہوئے شہید بھی قرار دیا تھا، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ چوہدری نثار، منور حسن اور مولانا فضل الرحمان دہشت گردی اور دہشت گردوں سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ 2014ء کے آخر میں کراچی کی نواحی بستیوں میں دیواروں پر خلیفہ البغدادی کا نام لکھا ہوا نظرآیا اور یقیناً یہ کارنامہ جماعت اسلامی نے سرانجام دیا ہوگا۔ملک کے طول و عرض میں دہشت گردی کے عفریت کو قابو میں کرنے کی کارروائیاں تو جاری ہی تھیں کہ پڑوسی ملک افغانستان میں شدت پسند گروپ داعش کی طرف سے قدم جمانے کو پاکستان کے لیے ایک نئے خطرے کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ لیکن عہدیداروں کا اصرار ہے کہ پاکستان میں اس گروپ کا کوئی وجود نہیں اور اس کا سایہ بھی یہاں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ “ہم داعش کو دہشت گرد جماعت سمجھتے ہیں اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ پاکستان میں اس کا وجود نہیں ہے۔بین الاقوامی سطح پر ہم نے ہمیشہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ دہشت گردی کو ختم کرنے میں تعاون کیا ہے”۔

پاکستان کی فوج نے 2015ء کےپورے سال میں دہشت گردی کے خاتمے میں بھرپور کردار ادا کیا اور ساڑھے تین ہزار سے زائد مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرتے ہوئے دہشت گرد نیٹ ورکس کو تخت و تاراج کرنے کا بتایا۔ لیکن پاکستانی فوج کی ان تمام دہشت گردوں کے خلاف کامیابیوں کے باوجود عام جانے پہچانے دہشت گردوں کے حامی اوراُنکے سہولت کا ر آزادی سے وہ سب کچھ کررہے ہیں جو وہ آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن سے پہلے یا اُسے شروع ہونے کے بعد کرتے رہے ہیں۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک کے ہر شہر سے بلکہ خاصکرچھوٹے شہروں سے داعش کے حامی پکڑئے جارہے ہیں، کافی تعداد میں خواتین بھی دہشت گردوں کی سہولت کار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ لیکن وفاقی وزیر داخلہ کو ملک میں صرف ایک دہشت گرد ڈاکٹر عاصم نظر آرہا ہے، یہ بلکل صیح ہے کہ ڈاکٹر عاصم مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے لیکن کیا چوہدری نثار اور سندھ حکومت اپنی حکومتوں کا باقی وقت ڈاکٹر عاصم اور رینجرز کے اختیارات طے کرنے میں صرف کرینگے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے اسلام آباد کے پڑوسی کےلیے تو صاف کہہ دیا کہ لال مسجد والے مولانا عبدالعزیز جو دہشت گردوں کے حامی اور سہولت کار ہیں اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی کیونکہ اُن کےخلاف کوئی مقدمہ موجود نہیں ہے۔ بھولے وزیر داخلہ صاحب مشرف کی مخالفت اپنی جگہ لیکن آٹھ جولائی 2007ء کو پاکستان کی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل ہارون لال مسجد کی لڑائی میں 150جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ اس کارروائی میں نامعلوم تعداد میں فوجی جوان اور افسربھی شہید ہوئے تھے۔ لال مسجد آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے درجنوں بچیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استمال کیا تھاجنکو فوج نے لال مسجد کے اندر سے برآمد کیا ۔ مولانا عبدالعزیز جو برقعہ پہن کرپہلے ہی فرار ہوتے ہوے پکڑا گیا تھا اور اس وقت پاکستان میں داعش کا سب سے بڑا حامی ہے ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارکی نگاہ میں معصوم اور بے قصور ہے۔ اس کہتے ہیں ایک اچھا پڑوسی اپنے پڑوسی کاکیسے خیال رکھتا ہے، ویسے بھی طالبان کے ناطے تو دونوں بھائی بھائی ہیں۔

جماعت اسلامی، درس و تدریس والی خواتین اور داعش کے گٹھ جوڑ پر بھی بات ہونی ہے لیکن کالم طویل ہوجائے گا لہذا اگلے کسی کالم میں۔تازہ ترین خبر یہ ہے کہ کراچی پورٹ سے 20ہزار کلو دھماکا خیز مواد سے بھرا کنٹینر کسٹمز انٹیلی جنس نےپکڑا ہے ، جوراولپنڈی سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کی ملکیت ہے۔اس سے قبل اسی نوعیت کے دو کنٹینرز پشاور سے پکڑے جاچکے ہیں وہ بھی کسٹمز انٹیلی جنس نے ہی پکڑے تھے، کیا چوہدری نثار قوم کو بتائیں گےکہ یہ 20ہزار کلو دھماکا خیز مواد سے بھرا کنٹینر کس مقاصد کےلیے پاکستان لایا گیا، اورراولپنڈی کی وہ کون سی شخصیت ہے جس نے یہ دھماکہ خیزمواد منگوایا تھا اور پشاور میں پکڑے گئے دو کنٹینرز کا کیا ہوا۔ اسوقت داعش کے حامی پورئے پاکستان میں موجود ہیں، پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ نے تو اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ داعش کے حامی پاکستان میں اور خاصکر پنجاب میں موجود ہیں لیکن پاکستان کےوفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ملک میں داعش کی موجودگی کی تردید کی جو افسوسناک ہے، ملک بھر میں داعش کی حمایت میں چاکنگ کی گئی جب کہ لاہور میں ناصرف چاکنگ بلکہ داعش کے پوسٹرز بھی لگائے گئے۔

سانحہ صفوراکےملزم سعد عزیزکی نشاندہی پرپولیس اور حساس اداروں نے مشترکہ کارروائی میں سانحہ صفوراکے مرکزی ملزم عمرکاٹھیوکو گرفتار کیا ہے۔معلومات کے مطابق عمر کاٹھیو نے 2011 ءمیں سندھ میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک قائم کیا تھا۔گرفتار دہشت گرد کا کام القاعدہ کےدہشت گردوں کوسہولت فراہم کرناتھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نےالقاعدہ سےداعش میں شمولیت اختیارکی جبکہ عمرکاٹھیو کی بیوی سندھ میں داعش کی خواتین کانیٹ ورک چلاتی ہے۔ اگر بقول چوہدری نثار پاکستان میں داعش موجود نہیں تو پھر کون اس کا پرچار کررہا ہے، اور وہ کون ہیں جو پاکستان میں داعش کی حمایت کررہے ہیں اور سہولت کار بننے ہوئے ہیں، اگر چوہدری نثارپاکستان میں داعش کی موجودگی کو تسلیم نہیں کرتے تو یقینا وہ فرانس کے حکمرانوں والی غلطی پاکستان میں دہرانا چاہ رہےہیں۔