ایران: ایک برے پڑوسی کی کہانی

Posted on January 9, 2016



العریبیہ ڈاٹ نیٹ
جب 1979 میں آیت اللہ خمینی کے ملّأوں نے ایرانی ریاست پر قبضہ کیا ، اس وقت سے اب تک سعودی عرب، خمینی کی دشمنی کا ہدف بنا ہوا ہے اور اس کے پیروکار سعودی عرب پر مسلسل بڑے اور چھوٹے حملے کرتے رہے ہیں۔
خمینی کے پیروکار جن اصولوں پر کاربند ہیں ان پر ایک نظر ڈالنے سے اس دشمنی اور ان کے عزائم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ خود کو ‘انصار اللہ’ (اللہ کے مددگار) کہتے ہیں، خود کو ‘اللہ کا گروہ’ (حزب اللہ) سمجھتے ہیں، ‘ید اللہ’ (اللہ کا ہاتھ) کہتے ہیں، اور جو کرتے ہیں وہ ‘اللہ کے حکم کے تحت’ کر رہے ہیں۔ ایرانیوں کی تمام کارروائیاں ان خوشنما اور دلفریب نعروں کے پیچھے رہ کر کی جاتی ہیں۔

ذیل میں 1979 سے اب تک سعودی عرب پر ہونے والے ایرانی حملوں کی ایک مختصر فہرست ہے۔
1980 کے دوران ہونے والے واقعات
ـ ایرانیوں کے ایک گروپ نے مدینہ میں مسجد نبوی کے سامنے مظاہرہ کیا اور خمینی کی تصاویر لہرائیں۔
ـ 21 ایرانی عازمین حج گرفتار کئے گئے جن کے قبضے سے اسلحہ اور بم برآمد ہوئے۔
ـ تہران میں سعودی اور کویتی سفارتخانوں پر ایرانی مظاہرین نے حملہ کر کے انہیں نذر آتش کر دیا، اور سعودی سفارتکار رضا النزهہ کو زد وکوب کر کے یرغمال بنا لیا۔
ـ ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ الحجاز سے سعودی عرب کے مشرقی علاقے راس تنورہ میں تیل کی تنصیبات پر حملے کر کے نذر آتش کر دیا۔
ـ حزب اللہ الحجاز نے سعودی عرب کے مشرق میں صنعتی شہر جبیل کے ‘صدف’ پیٹرو کیمیکل پلانٹ پر حملہ کر کے شدید نقصان پہنچایا۔
جون 1994
ـ حزب اللہ الحجاز نے مشرقی سعودی شہرخبر کے ایک رہائشی کمپأونڈ کو دھماکا خیز مادے سے اڑا دیا اور اس گروہ کا سرغنہ اور حملے کا ماسٹر مائینڈ احماد المغسل حملے کے بعد ایران فرار ہو گیا۔
اگست 2009
ـ سعودی عرب کی مشرقی سرحدوں پر حوثی باغیوں سے محاز آرائی کے بعد ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای اور صدر احمدی نژاد نے ریاض کے خلاف میڈیا میں شدید حملے شروع کر دیے۔
مارچ 2011
ـ عرب بہار کے نام پر بحرین کی حکومت کے خلاف ایرانی حمایت سے کی جانے والی مسلح بغاوت کو کچلنے کے لئے منامہ کی درخواست پر جب سعودی دفاعی فورسز بحرین میں داخل ہوئیں تو ایرانی سپریم لیڈر نے لوگوں کو سعودی عرب پر حملے کرنے کے لئے مذہب کے نام پر اکسایا۔
اپریل 2015
ـ سعودی عرب نے یمن میں ایران کے حلیف حوثی باغیوں کے قبضے کے خلاف دفاعی آپریشن شروع کیا تو خامنہ ای نے سعودی عرب کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کا سلسلہ تیز کر دیا۔
جنوری 2016
ـ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایجنٹوں نے تہران میں سعودی سفارتخانے اور مشہد میں سعودی قونصل خانے پر حملے کر کے عمارتوں کو نذر آتش کر دیا۔ یہ حملے ایرانی حکومت اور اس کے سیاسی وفاداروں کی جانب سے سعودی عرب کو دی جانے والی کھلم کھلا دھمکیوں کا نتیجہ تھے جن کا سلسلہ 47 باغیوں کو پھانسی دیے جانے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ ان باغیوں میں مشرقی سعودی عرب میں سرگرم عمل ‘عوامیہ ملیشیا’ کے لیڈر نمر النمر سمیت 40 القاعدہ کے ارکان شامل تھے۔
یہ گذشتہ دہائیوں کے دوران سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تعلقات کا ایک خلاصہ ہے، جو بہت برا پڑوسی رہا ہے۔ ان حملوں کے دو دن کے بعد ریاض نے اپنے رد عمل میں تہران سے سفارتی تعلقات توڑ لئے، ایرانی سفارتی مشن کو ملک سے نکال دیا، ایران کو جانے والی پروازیں معطل کر دیں، ایران سے ہر قسم کے تجارتی رابطے منقطع کر دئے اور سعودی شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے روک دیا۔ سعودی عرب کے پاس ایرانی گستاخی کے جواب میں ابھی کئی اقدامات باقی ہیں۔
مگر پڑوسیوں سے کشیدہ تعلقات رکھنا کسی کی خواہش نہیں ہوتی۔ ہر ذی شعور شخص پڑوسیوں سے خوشگوار تعلقات اور تعاون کے لئے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ مگر ایسے پڑوسی کے ساتھ کیا کیا جاسکتا ہے جو آپ سے دشمنی اور بد زبانی کرنے کو اپنا اولین فرض سمجھتا ہے۔
اب جواب دینے کی باری سعودی عرب کی ہے۔