حضرت مولانا مفتی انصار عباسی کا پرویز خٹک پر صوبائیت،لسانیت اور غداری کا فتوی اور ایک انصافین کا جواب.

Posted on January 8, 2016



جب پاکستان دہشتگردی کی جنگ میں داخل ہوا تب تمام پاکستانیوں نے اسکی قیمت ادا کی مگر جو قربانیاں پختون قوم نے دی انکو فراموش نہیں کیا جا سکتا.
ایک ایک دن میں سینکڑوں جنازے اٹهائے، قبروں کے لئے جگہ کم پڑ گئی، لاشیں اٹها اٹها کر کندے تهک گئے مگر پختون قوم نے اف تک نہیں کی بلکہ پاکستان کے لئے قربانی کی وہ مثال قائم کی جو کوئی نہ کر سکا.
یہاں تک کے دہشت گردی کی جنگ کی مد میں جو امداد آتی تهی وہ بهی پختون خواہ کے لوگوں کو نہ ملی.
آج مفتی انصار عباسی صاحب نے پرویز خٹک پر صوبائیت اور لسانیت کے ساتھ ساتھ غداری کا فتویٰ بهی لگا دیا.
انصار عباسی کی پرسنل لائف اسکے شعبے اسکے ادارے پر الزام لگائے بغیر اسکی باتوں کا جواب دینا پسند کرونگا.
انصار عباسی صاحب کیا آپ ہی ہم کو بتا دیں کہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور پر جو 46 ارب کی سرمایہ کاری ہوگی اس میں کون کون سے منصوبے ہیں اس 46 ارب میں سرکایہ کاری کتنی ہے اور قرضہ کتنا ہے. کون کون سے منصوبے کس صوبے میں لگیں گے. اگر آپ کے پاس معلومات ہیں تو بتائیں کیونکہ حکومت وقت نے ابهی تک کچھ نہیں بتایا. اور اگر حکومت وقت سے یہ بات پوچهنا غداری ہے تو ہم ہیں غدار. اگر پرویز خٹک صاحب یہ بولتے ہیں کہ ہم کو سڑک نہیں روٹ چائیے جس میں وہ تمام سہولیات پختون خواہ کی عوام کو ملیں جو پنجاب کو ملیں گی اگر ایسی بات کرنا غداری ہے تو ہیں ہم غدار.
کیا پختون خواہ انڈیا یا افغانستان کا حصہ ہے جو اسکو محروم رکها جائے. جب اورینج ٹرین منصوبہ پہلے کہا گیا کہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کے انڈر اس 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی رقم سے بنے گا مگر بعد میں 150 ارب کا قرضہ 10 فیصد سود پر لیا گیا تو کیا حکومتی بدنیتی واضح نہیں ہو جاتی. پهر اگر دیکها جائے اگر وفاقی حکومت بہت اچهی حب وطن ہے تو وفاقی حکومت کے انڈر فاٹا کا ایریا آتا ہے مگر فاٹا کے لوگوں نے پختون خواہ میں شامل ہونے کی کیوں بات کی. سندھ ہو یا بلوچستان فاٹا ہو یا پختون خواہ سب کو پنجاب سے کیوں شکایت رہتی ہے اور وہ بهی خاص طور پر تب جب پنجاب میں شریف برادران کی حکومت آتی ہے کیونکہ شریف برادران پنجاب کو ہی پاکستان سمجهتے ہیں. انصار عباسی ایسے گهٹیا الزامات لگانے سے پہلے سوچا کرو کہ کیا بول رہے ہو باتیں تم قرآن و سنت کی کرتے ہو اسلام کی کرتے ہو مگر کس جگہ اسلام نے ایسا کہا کہ اپنے حق کی بات کرنے والا غدار ہوتا ہے اسکے ساتھ ساتھ اپنے ادارے کو بهی دیکهو جس سے تم تنخواہ لے رہے ہو اسکا پیسہ کدهر سے آتا ہے.
فحاشی پهیلانے والی عورتوں کے ننگے اور فحاش اشتہارات سے اپنی تنخواہ لینے والے اب ہم کو بتائیں گے کہ اسلام کیا ہے.سبحان اللہ
تحریر.
علی عباسی