بے چار اکیلا ایران

Posted on January 8, 2016



انسان اور مسلمان بظاہر ملتے جلتے لفظ ہیں لیکن حیرت انگیز حد تک دو نوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں ان دونوں الٖفاظ میں سے انسان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہ دوسرے لفظ کے بغیر بھی گزارا کر سکتا ہے البتہ اس کے لئے شرط یہ ہے کہ یہ لفط عملی طور چند اعضاء سے تشکیل پانے والی متحرک مشین میں راسخ ہو جائے اس کے بر عکس دوسرے لفظ کا تنہا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ مذکورہ چند اعضا پر مبنی مشین یہ دعوی کرے کہ وہ مسلمان ہے لیکن انسان نہیں ہے نہیں ایسا ممکن ہی نہیں ہے اس لئے کائنات کے جس عظیم انسان کی تربیت کے نتیجے میں مسلمان کا عنوان وجود میں آیا ہے اس کا ہدف ہی اس مشینری کو انسان بنانا تھا اور فخر انسانیت حضرت محمد مصفطی ص نے اپنی تعلیمات کے ذریعے متحرک مشینری میں ان دونوں الفاظ کو عملی طور پر فٹ کر دیا اور پھر انہی الفاظ کو عملی طور پر متحرک مشینریوں کے وجود میں فٹ کرنے کا فریضہ اپنے پیروکاروں کے سپرد کر کے اپنے خالق کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے لیکن جس مشینری کو آپ ؐ نے مسلمان اور پھر مسلمان سے انسان بنایا تھا ان میں سے آپ ؐ کی رحلت کے بعد کچھ مشینریوں نے خود کو اس حد تک خراب کر لیا کہ مسلمان اور انسان کے لفظ بھی شرمانے لگ گئے رسول رحمت نے یہ درس دیا تھا کہ کسی عربی کو کسی عجمی اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں بلکہ فوقیت کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی ا س زعم میں مبتلا ہو گیا کہ عجم ہونے کے نا طے اسے کسی عرب پر یا عرب ہونے کے ناطے عجم پر برتری حاصل ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا انسان اور مسلمان سے کوئی بھی واسطہ نہیں ہے یہ بظاہر چلتا پھرتا ہے لیکن مردہ ہے زندہ نہیں ہے اس کے برعکس جس نے صرف اور صرف برتری کا معیار تقوی کو جانا وہ مر بھی جائے تو زندہ ہے اور اپنے پروردگار اور رسول رحمت کی بارگاہ میں سرخرو ہے اسی رسول رحمت نے یہ بھی فرمایا کہ دنیا بھر میں کہیں بھی کسی پر ظلم روا رکھا جائے تو ایسے لوگ جن پر مسلمان کا لفظ صادق آتا ہے اس ظلم پر خاموش نہ رہیں بلکہ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کریں مظلوم کی اس کو ظلم سے باز رکھ کر کی جائے اور رسول رحمتؐ کا یہ حکم تو عام انسانوں کے بارے میں تھا اگر خدا نخواستہ کسی مسلمان کے ہاتھوں مسلمان ہی ظلم کا نشانہ بنے تو اس صورت میں تو ظالم اور مظلوم کی مدد کی ضرورت دو چنداں ہو جاتی ہے میں انتہائی گنہگار انسان ہو مجھے مسلمان ہونے کا دعوی نہیں ہے لیکن کم از کم مجھے انسان ہونے کا دعوی ضرور ہے میں اپنے جذبات اور تمام تر جوش و جذبے کو بالائے طاق رکھ کر سوچتا ہوں تو مجھے بہت سے سوالات کے جواب نہیں مل پاتے چلیں مجھے یہ تسلیم کرنا انتہائی مشکل لگتا ہے کہ اگر کوئی انسان کسی ظلم کے خلاف آواز اٹھائے تو اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اس کی گردن اڑا دی جائے اور اگر کوئی اس ظلم پر آواز اٹھائے تو کہا جائے کہ جناب چھوڑیں یہ فلاں کا داخلی معاملہ ہے اس میں کسی کو ٹانگ اڑانے کی کوئی ضرورت نہیں خوس سوچیں اگر آپ کے اگلے گھر میں کوئی ظلم ہو رہا ہو کسی کی جان لینے کی کوشش کی جا رہی ہو تو کیا آپ یہ کہہ کر کہ ان کا اندرونی معاملہ ہے جان چھڑا لیں گے؟ ہرگز نہیں اگر آپ انسان ہیں تو یقینا آپ مظلوم کو نجات دلانے کے لئے ضرور کوئی سبیل نکالیں گے شور ڈالیں گے لوگوں کو بلائیں گے تا کہ معاملے کو دیکھا جائے اور مظلوم کی مدد کی جائے مجھے اس سوال کا بھی جواب نہیں ملتا کہ وہ لوگ جو پارسی تھے آتش پرست تھے اسلام قبول کرنے کے بعد آج کم از کم انسانیت کا ثبوت دے رہے ہیں اسرائیل کے مظالم سے کون واقف نہیں ہے سب نوحہ ضرور پڑھتے ہیں لکن عملی طور پر مظلوموں کی مدد کے لئے کون میدان میں کودتا ہے انسان یا مسلمان ابھی تک تو مجھے انسان ہی فلسطینیوں کی مدد کرتے نظر آ رہے ہیں اس لئے کہ میں بعض اکابر مسلمان مفتیوں کے فتووں پر عمل کرتے ہوئے ایرانیو ں کو مسلمان نہیں سمجھتا لیکن انسان ضرور سمجھتا ہوں لیکن دوسری طرف عربوں میں مجھے نہ مسلمان نظر آتا ہے اور نہ انسان
چلیں ہم مان لیتے ہیں ایران نے جو کیا غلط کیا اسے ایک گنہگار یا بے گناہ انسان کی پھانسی پر احتجاج نہیں کرنا چایئے تھا لیکن کیا اس کا جواب یہی ہے جو پوری دنیا عرب دنیا نے دیا آج فلاں ملک نے سفارتی رابطے ختم کر لئے تو کل فلاں نے اور شاید مجھے تو اب ایران اکیلا دکھائی دے رہا ہے لیکن کیا اس طرح سفارتی تعلقات توڑنے سے ایران اور ایرانی ختم ہو جائیں گے ان کی دنیا ختم ہو جائے گی؟ ہرگز نہیں
انسانیت اور مسلمانیت سے عاری یہی اعراب اگر ظلم کے خلاف ایکا کرتے تو آج مسلمان اور انسان کی موجودہ حالت نہ ہوتی بڑے دکھ کی بات ہے کہ جو لوگ مسلمان کا لفظ اپنے ساتھ چپکا کر بیٹھے ہیں ان میں مسلمانیت نہیں اور دوسری طرف مذہب پر ہٹ جانے والے جن پر انسان کا لفظ بولا جاتا ہے انسانیت سے کوسوں دور ہیں۔
ایسے حالات میں مجھے ایرانیوں میں انسانیت بھی نظر آ رہی ہے اور مسلمانیت بھی جو تمام تر زیادیتوں کے با وجود اور عصبیتی بنیادوں پر اتحاد کے مقابل کم از کم حق کی آواز تو بلند کر رہے ہیں۔