ایران سعودی تنازعہ اور پاکستان پرممکنہ اثرات

Posted on January 8, 2016



جہانزیب منہاس

دنیا کو پرامن بنانے کے نام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جو کوششیں شروع کر رکھی ہے اس سے دنیا دن بدن انتشار کا شکار ہو رہی ہے، افغانستان سے اٹھنے والی چنگاریاں مختلف ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہوئی پاکستان ایران اور پھر عراق ،کویت،یمن ،شام،بحرین ،مصر ،تیونس ،لیبیا،سوڈان سے ہوتی ہوئی اب سعودی عرب کو طرف لپکنے لگی ہیں۔

اس مقصد کے لئے شعیہ، سنی ، اور بریلوی کی دیواریں کھڑی کی گئی، مسلمانوں نے مسلمانوں کے لئے کفر کے فتاوٰے جاری کئے، ایک دوسرے کی گردنیں ماریں، اندرونی جنگ سے ممالک کو کمزور کیا گیا۔ پراکسی وار لڑی گئی، جس کی منصوبہ بندی جو کبھی فلموں میں نظر آتی تھی اب حقیقت کا روپ دھارا گئیں، وہ لیبیا جہاں ہر چیز مفت تھی تعلیم بھی اعلی معیار کی تھی آج کھنڈر قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ،شام اور عراق بھی اس قدر کمزور ہیں، کہ اپنے تحفظ سے معذور ہیں داعش نے کئی ایم علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی مملکت کا اعلان کر دیا ہے تو ایسے میں اگر سعودی عرب کے خلاف کوئی اتحاد بنتا ہے تو کیا ہوگا ؟ اور پاکستان اس وقت کس کا ساتھ دے گا؟

ہم پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ہم نیوٹرل رہ کر اس جنگ سے بچ پائیں گے تو یہ ہماری اور ہمارے حکمرانوں کی خام خیالی ہے، جب آگ لگے تو گھر سب کے جلیں گے، پاکستان گزشتہ پندرہ بیس سالوں سے جس خانہ جنگی سے نبرد آزما ہے، کیا وہ پاکستان دشمن قوتیں افواج پاکستان کو یہ موقع فراہم کریں گی کہ ہم سعودی عرب کی اندرونی جنگ لڑ سکیں؟ پھر ہمارے اپوزیشن لیڈر ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ جتنا ایک مکتبہ فکر کے لئے سعودی عرب اہم ہے اتنا ہی ان کے ایران بھی اہم ہے۔

یہ جنگ حرمین کے تقدس اور حرمت سے بڑھ کر دو مختلف فرقوں کی جنگ بنتی جا رہی ہے، امریکا اس جنگ میں براہ راست تو شریک نہیں، مگر مہرے اپنی مرضی سے کھیل رہا ہے، ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم کرکے اسے مضبوط کرنا، عراق، شام اور یمن میں ایران حمایت یافتہ حکومتوں کی پشت پناہی کرکے انہیں اس قابل کرنا وہ سعودی عرب کیلئے مشکلات پیدا کریں اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اس قدر کم کر دینا کہ فی بیرل پروڈکشن قیمت بھی نہ پوری ہو سکے اقتصادی طور پر سعودی عرب کو کمزور کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

ظاہر ہے یعنی جب سعودی عرب اقتصادی طور پر کمزور ہوگا تو یقینی طور پر وہ ستر اسی لاکھ لوگ جو دنیا کے مختلف ممالک سے مملکت سعودیہ میں مقیم ہیں، بیروزگار ہوں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے، اور جب پاکستانی بیروزگار ہو کر واپس اپنے گھروں کو لوٹیں گے تو ظاہری سی بات ہے پاکستان کے اندر یہ بھی ایک آواز ابھرے گی کہ دیکھو جی وہ ہمارے لوگوں کو ملک بدر کر رہے ہیں اور ہماری حکومت ان کا ساتھ دے رہی ہے مگر حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے جو بھی فیصلہ کرئے پاکستان کے علاقائی اور عالمی مفادات کے تناظر میں کرے اور بڑی تعداد میں موجود پاکستانی مزدوروں کے مستقبل کو سامنے رکھ کر کرے،اپنی پالیسی دور اندیشی، حکمت و دانش کو سامنے رکھ کر کی جائے۔ مذہبی سوچ کو فوقیت نہ دی جائے حرمین کے تقدس کی حفاظت کی قسم کو پورا کیا جائے مگر اپنے گلی محلوں میں کھیلنے والوں کا مستقبل بھی سنورا جائے۔ سماء

Source : –
http://urdu.samaa.tv/blogs/2016/01/255766/