خان کا پاکستان یا پاکستان کا خان

Posted on January 4, 2016



خان کا پاکستان یا پاکستان کا خان

ہر پاکستانی عمران و ریحام کی طلاق کے بعد کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ چکا ہے یا پہنچنے والا ہو گا۔ میری نظر میں ممکنہ نتیجہ جات کچھ یوں ہونگے

۱- خان نے ویاہ کر کے بھی اچھا کیا تھا اور طلاق دے کے بھی اچھا کیا ہے- (خان سے کچھ غلط نہیں ہو سکتا)

یہ وہ بچہ پارٹی ہے جن کو یقیناً خان میں قائد اور اقبال نظر آتا ہے۔ جن کے لئے پاکستان کی آخری اُمید خان ہے۔ جن کو بلاشبہ صبح شام میں، دن رات میں اور تو اور خواب میں بھی خان نظر آتا ہے اور خان کو بھی ان پہ نہ صرف فخر ہے بلکہ یہی خان کا غرور بھی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ریحام خان کو بھابھی سے بڑھ کے رتبہ دیا اور اس کے خلاف اٹھنے والی ہر ضروری و غیر ضروری آواز کا مقابلہ کیا اور اب یہ ریحام پہ بھی رحم نہیں کرنے والے۔ واللہ یہی وہ ٹائیگرز آف عمران ہیں جو عمران خان سے سوال پوچھے جانے کو حرام سمجھتے ہیں۔ اللہ کرے خان کے بوڑھا ہونے سے پہلے یہ بڑے ہو جائیں۔ آمین

۲- خان نے ویاہ کر کے بھی بُرا کیا تھا اور طلاق دے کے بھی بُرا کیا ہے-

یہ بہت مزے کی مخلوق ہے، سب سے پہلے تو اس میں ہر دائیں بائیں بازو کی سیاسی جماعت کے لیڈروں سے لے کر کارکنوں تک سب جو بھی خان کے خلاف صف بندی کیے کھڑے اپنی دوکان بچانے کی فکر والے ہیں۔ یہودی لابی کے خلاف لڑنے والے بھی ہیں اور یہودی لابی کے ٹکڑوں کو تبرک سمجھ کے کھانے والے بھی، ملاں بھی ہیں اور پنڈت بھی ہیں، میڈیا گرو بھی ہیں اور چیلے بھی، میڈیا کی امیاں بھی ابو بھی، بیٹیاں بھی اور بیٹے بھی ہیں، دادیاں بھی اور پوتیاں بھی ہیں، اور تو اور عملیت کا لبادہ اوڑھے جہالت کے نمونے بھی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی دوکانداری خان سے پہلے بھی چل رہی تھی خان کے بعد چلتی رہے گی لیکن پچھلے کچھ عرصے سے خان ان سب کی دوکان کے لئے عید اور کرسمس سیزن کی طرح ہے جب ان کی سب سے زیادہ بکری ہوتی ہے جب یہ دوکان کا مال بیچ کے اپنے تن من تک بیچنا چاہتے ہیں الغرض لوٹ سیل جیسا سماں باندھ دیتے ہیں۔ اور انکا سب سے بڑا ڈر بھی خان ہے کہ اگر کبھی دوکان بند ہوئی تو وہ بھی خان کی وجہ سے ہی ہو گی۔ ان کی خان سے مخالفت نفرت میں بدل چکی ہے۔ سیاست کے بونوں کی خان سے مخالفت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن ایک مخلوق وہ بھی ہے جو صریحاً اپنی بد شکلی و بد صورتی کی وجہ بھی خان کی خوش شکلی و خوبصورتی کو سمجھتی ہے۔ یہی وہ مخلوق ہے جو سمجھتی تھی کہ انہوں نے خان کو بنایا اور چاہتی تھی کہ خان اُن کی دی ہوئی ایڈوائس پہ چلے لیکن خان بھی تو رکنے وقلا نہیں ہے، خوب سے خوب تر کی تلاش میں ایسا نہ کر پایا تو نفرت کی یہ داستاں شروع ہوئی جو ابھی تک جاری و ساری ہے۔ اللہ ان سب کا حامی و ناصر ہو کیونکہ یہ ہمیشہ سے جیتتے آۓ ہیں اور پاکستان ہارتا آیا ہے۔

۳- خان نے ویاہ کر کے اچھا کیا تھا اور طلاق دے کے بُرا کیا-

یہ وہ عظیم المرتبت طبقۂ فکر ہے جو خان کو بنا عورت کے نامکمل سمجھتا ہے، جو واقعی میں سمجھتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، اس طبقہ میں زیادہ تر بڑی سے ادھیڑ عمر عورتیں ہونگی جو خان کی مداح بھی ہیں اور بائیں بازو مطلب آزاد خیالی کا پرچار کرنے والے اور والیاں، پاسدارانِ حقوقِ نسواں بھی اور تباہئ نسواں بھی۔۔۔۔

۴- خان نے ویاہ کر کے بُرا کیا تھا اور طلاق دے کے اچھا کیا-

یہ صریحاً وہ لوگ ہیں جو ریحام کو پہلے دن سے بُرا سمجھتے تھے لیکن خان کے ہمدرد ہونے کے بھی دعوےدار ہیں۔ اس میں سرِ فہرست وہ طبقہ ہے جو ریحام کے بے وجہ غرور سے چڑتا تھا اور ریحام کے خودساختہ ٹائیٹل “نیشنل بھابھی” کو نیشنل چڑیل سمجھتا تھا۔ الغرض خان کو اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھنے والی ہر عورت جن کو طلاق سے خوشی ہوئی اور وہ گروہ جس کی باوجوہ بنی گالہ اینٹری بند ہوئی تھی شامل ہیں۔

۵- خان اپنا گھر نہیں چلا سکتا تو ملک کیا خاک چلائے گا-

یہ وہ جہلاۓ اُمت ہیں جن کے دماغ عرصہ دراز سے کام کرنا چھوڑ چکے ہیں اور وہ بضد ہیں کہ انہیں اہمیت دی جائے۔ اس گروہ کی سربراہی کچھ ملاوؤں کے سپرد ہے جو مسلٰی اور ممبر تک بیچ چکے ہیں۔ اور کچھ گھٹیا درجے کے حادثاتی اینکر حضرات بھی اسی کلاس کے نگینے ہیں۔ جن کا طُرہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز کو کسی بھی انداز میں بیان کر کے قصور خان کا نکال دینگے۔ بیشک یہی ہیں وہ نایاب نگینے جو گدھے اور گھوڑے کا کراس کروا کے شیر پیدا کروا سکتے ہیں۔ اور حد یہ کہ خان اِن کی بک بک کا جواب دینا بھی ضروری سمجھتا ہے جس سے اِن کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ایک عورت کے ساتھ نباہ کرنا اور ایک قوم کو اُس کی حقیقت بتانا اور اپنے حق کے لئے لڑنے کا پرچار کرنے میں کیا تقابل؟

۶- خان نے پہلے بھی ملک کے لئے قربانی دی تھی اور اب پھر ملک کے لئے قربانی دی ہے-

یہ وہ طبقہ ہے جو خان کو کسی بھی طرح جناح ثابت کرنے پہ تلا ہوا ہے، خان کے ہر اچھے بُرے کام کو قربانی بنانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ کاش کوئی ان عقل کے اندھوں کو بتا سکتا کہ خان نے قربانی کے لئے شادی نہی کی تھی بلکہ اپنی ذاتی زندگی کو آسودہ کرنے کے لئے کی تھی اور طلاق بھی خود کی آسانی کے لئے ہی دی۔ خان بلا شبہ مناسب درجے کا فصیح و بلیغ انسان ہے جس نے ذاتی زندگی کو ہمیشہ اپنی مرضی سے جیا ہے لہٰذا اللہ کا واسطہ سمجھ لو کہ اللہ پاک نے دماغ صرف استعمال کے لئے دیا تھا۔ زیادہ نہی تو اللہ کی دی ہوئی نعمت کا بھرم تو رکھ لو۔

۷- خان جب سوچ لیتا ہے تو پھر کر کے دکھاتا ہے-

یہ بلاشبہ مکھن مار طبقۂ فکر کے وہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے ابھی تک خان وہاں نہیں پہنچا جہاں اس جتنے قد و قامت اور فراصت کے لوگ کافی جلدی پہنچ جاتے ہیں۔ خان کے ارد گرد خوشآمدیوں کی اکثریت کا یہی طریقۂ واردات ہے کہ خان کچھ بھی کرے اُس پہ واہ واہ ہی کریں گے۔ خان کو سمجھنا ہو گا کہ واہ واہ والوں کی برادری کرۂ ارض کی سب سے بڑی برادری ہے جو آج تک کسی کا تو دور کی بات اپنا بھی کچھ نہی سنوار سکی۔

۸- خان خان ہے نہ کرنے سے پہلے سوچتا ہے اور نہ کرنے کے بعد سوچتا ہے-

یہ طبقہ ملے جلے لوگوں کا ہے جو خان کو بڑا تو ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن اتنے بے منطق طریقے سے کہ خان جیتے ہوئے میچ بھی ہار جاتا ہے۔ میری رائے میں کسی کی تعریف کا اس سے بھدا کوئی طریقہ ہو نہی سکتا، ڈر یہ ہے کہ اگر کبھی خان کہیں پہنچ گیا تو یقیناً یہی وہ لوگ ہیں جو اچھے عہدوں پہ فائز ہونگے اور جیسے آج تک خان کی ساری محنت پہ پانی پھیرتے آئے ہیں خاکم بدہن —– کیونکہ خان ایسی تعریف سُن کے خوش تو ہوتا ہے۔

آخر میں یہ واضح کر دوں کہ اوپر بیان کی گئی پوری رام لیلا کا مقصد کسی کو بھی غلط یا سہی ثابت کرنا نہیں تھا بلکہ کچھ نہایت ضروری سوال اُٹھانا تھا۔ اور وہ سوال یہ ہیں کہ ہر انسان جو بھی سوچتا اور کرتا ہے اس کا دارومدار اُس انسان کے اپنا دماغ استعمال کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ اور آٹھوں پوسبل کیٹگریز والے لوگوں کے پاس کوئی نہ کوئی جواز یقیناً ہوگا کہ وہ عمران ریحام کی شادی اور طلاق پہ اظہارِ خیال کریں، مجھے لگتا ہے کہ یہ دونوں کا انتہائی ذاتی معاملہ تھا جو دونوں کی ذاتی پسند سے شروع ہوا اور ذاتی پسند سے ختم ہو گیا، نہ شروع ہونے سے پاکستان کی صحت پہ کوئی اثر پڑا تھا اور نہ ہی ختم ہونے سے پڑا ہے لہٰذا ہم سب جو بھی اوول فول سوچیں اُس سے نہ تو خان و ریحام کا قد بڑھ سکتا ہے اور نہ ہی کم ہو سکتا ہے۔ شادی چل جاتی تو شاید دونوں کی پرسنل لائف کے لئے اچھا ہوتا لیکن یقیناً اللہ تعالیٰ نے دونوں کے لئے طلاق کو بہتر سمجھا۔ اُمید ہی کی جا سکتی ہے کہ دونوں رشتے کے تقدس کو ملحوظ رکھیں گے اور ہر ایکس وائی زی بھی۔

ختم شُد

.This was written within few days of divorce but didn’t get time to publish.