شیخ باقر النمر کون ؟

Posted on January 3, 2016



سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف کے ایک اہم شہر العوامیہ میں ۱۹۵۹ میں پیدا ہونے والا ایک بچہ جس کے والدین نے اس کا نام نمر باقر رکھا ۔ شیخ باقر النمر کا تعلق سعودی عرب کے ایک معروف مذہبی خاندان آل نمر سے تھا جس کئی سربرآوردہ علماء اور شعرا نے جنم لیا۔
شیخ نمر نے ابتدائی تعلیم عوامیہ سٹی میں حاصل کی، ابتدائی تعلیم حاسل کرنے کے بعد دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے حوزہ علمیہ الامام القائم میں داخلہ لیا اور دینی و مذہبی تعلیم کے مدارج بہت تیزی سے طے کیے اور فقہ و اصول کے درس خارج سے فراغت کے بعد طلباء کو دینی علوم سے آراستہ کرنے کے لیے درس و تدریس کا آغاز فرمایا۔
آیت اللہ باقر النمر انتہائی اعلی اخلاق کے مالک اور سیرت اہل بیت کی عملی تصویر تھے۔ آیت اللہ باقر النمر انتہائی شجاع و بہادر ہونے کے علاوہ دین کے معاملے میں اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے قائل نہیں تھے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت انہیں راہ حق سے دور نہیں کرسکتی تھی۔ آیت اللہ باقر النمر تواضع و انکساری کا پیکر تھے، سبھی سے محبت و پیار سے ملتے جتنا احترام کسی بڑے کا کرتے اسی احترام اور خلوص کامظاہرہ بچوں سے بھی فرماتے تھے۔
اعلی اخلاق اور تعلیمی سرگرمیوں نے انہیں کبھی سماجی اور اجتماعی مسائل سے دور نہیں کیا بلکہ قومی اور ملکی مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس سلسلہ میں اپنا موقف انتہائی واضح اور دو توک انداز میں بیان فرماتے تھے۔ شیخ باقر النمر مذہبی و دینی کاموں کے ساتھ سیاسی اور اجتماعی مسائل کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ان کی اسی سوچ نے ملک کے مشرقی علاقوں اور خاص طور پر قطیف و عوامیہ میں سیاسی اور اجتماعی شعور کو بیدار کیا۔ مساجد کا احیاء کیا اور انہیں نور و ہدایت اور شعور کا مرکز قرار دیا۔ مساجد کو آباد کرنے کے علاوہ نماز فجر اور نماز جمعہ کی جماعت کو زندہ کیا
(ظلم قابل نفرت ہے، تم شیعہ ہو کبھی کسی اہل سنت بھائی پر ظلم نہیں کرو، اگر مظلوم شیعہ ہوتے ہوئے کسی سنی پر ظلم کرو گے تو اللہ تم سے محبت نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر کوئی مظلوم سنی شیعہ پر ظلم کرے گا تو اللہ اس سے بھی محبت نہیں فرمائے گا، دنیا بھر کے مظلوموں کر ظالموں کے خلاف اکٹھا ہونا چاہیے؛ آل خلیفہ ظالم ہیں، اہل سنت کا ان سے کوئی تعلق نہیں، وہ لوگ اہل سنت نہیں ہیں بلکہ ظالم و جابر ہیں )
سیاسی میدان میں آیت باقر النمر کا بنیادی ترین نعرہ اور اصولی موقف وہی تھا جسے سید الشہدا امام حسین علیہ السلام نے اپنایا کہ ھیھیات منا الذلہ، وہ کلمہ حق کہنے سے کبھی نہیں گھبراتے تھے، کلمہ حق کہنےکے بعد انہیں پروا نہیں ہوتے تھی کہ موت ان پر آپڑے یا وہ موت پر جاپڑیں۔
آیت اللہ باقر النمر نے مشرقی علاقوں کی پس ماندگی کے خلاف آواز اٹھائی، وہ علاقے جنہیں مذہب جعفریہ کا پیروکار ہونے کی وجہ سے جان بوجھ کر پسماندہ اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا تھا اور یہاں سے نکلنے والے تیل پر عرب شہزادے دنیا بھر میں عیاشیاں کررہے تھے۔ آیت اللہ باقر النمر نے نماز جمعہ اور پر امن ریلیوں کی صورت میں آواز اٹھائی کہ مشرقی علاقوں کی عوام کو دیگر شہریوں کی طرح حقوق دیئے جائیں۔ شیخ نمر کی آواز نے صرف علاقے کے شیعہ مسلمانوں ہی نہیں بلکہ اہل سنت کو بھی بیدار کیا اور انہوں نے بھی شیخ نمر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حکومت سے شہری حقوق کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔
شیخ باقر النمر نے جب دیکھا کہ حکومت ان کے کسی مطالبے کو تسلیم کرنے اور مشرقی علاقے کے لوگوں کو شہری حقوق دینے کے لیے تیار نہیں تو انہوں نے علاقے میں پرامن احتجاج کی دعوت دی

شیخ النمر عالم اسلام اور خاص طو رپر عرب دنیا میں شاہی اور ظلم و ستم پر مبنی حکومتوں کے خلاف آواز اٹھانا اورسوئی ہوئی اقوام کو بیدار کرنا اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔ سوئے ہوئے ضمیروں اور خواب غفلت میں مبتلا اقوامکو بیدار کرتی ہوئی آوار عرب حکمرانوں کو ایک لمحے نہیں بھاتی تھی اسی لیے 2008 میں ان کی تحریر، تقاریر اور خطبہ جمعہ پر پابندی عائد کردی گئی اور انہی وقتا فوقتا گرفتار کرلیا جاتا لیکن عوامی دباؤ پر رہا کردیا جاتا تھا۔
ظالم اور جابر حکومتوں کا شیوہ رہا ہے کہ جب کوئی آواز لالچ یا دھمکیوں سے نہ دبائی جاسکے تو اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا جائے چنانچہ سعودی حکمرانوں نے آیت اللہ باقر النمر پر لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسانے کے جرم میں موت کی سزا سنادی اور طویل عرصہ قید میں رکھنے کے بعد انہیں شہید کردیا
سعودی حکمران یہ بھول گئے کہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے :۔۔۔۔
چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو بدن کی موت سے کردار مرنہیں سکتا