سعودی حکمرانوں کا مستقبل

Posted on January 2, 2016



حضرت علی کرم اللہ وجہ نے صدیوں پہلے کہا تھا کہ حکومت کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتی ہے لیکن ظلم کے ساتھ حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔
بنی نوع انسان پر حکومت کرنے والے حکمرانوں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو حضرت علی کرم اللہ وجہ کی اس بات کی سچائی کھل کر سامنے آتی ہے تاریخ دان جب بھی کسی حکومت کے زوال کے اسباب کا جائزہ لیتے ہیں تو ان میں یقینی طور پر ظلم کا عامل موجود ہوتا ہے بہت سے ایسے حکمران بھی گزرے ہیں جو کسی خاص دین کے پابند نہیں تھے لیکن اس لئے کہ انہوں نے عوام پر ظلم کو روا نہ رکھا بلکہ عوام کے ساتھ انصاف کے ساتھ پیش آئے جس کی وجہ سے ان کی حکومت نا صرف قائم رہی بلکہ انہوں نے کامیابی سے حکومت کی اس حوالے سے انوشیروان عادل کی مثال دی جا سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی ص کا طرز حکمرانی اس بات کا شاہد ہے کہ آپ ص نے اپنی رعایا حتی دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف غیر معمولی حد تک انصاف کیا جس کی بدولت اسلام جزیرہ العرب کا سب سے بڑا مذہب بن گیا یہی نہیں بلکہ اسلام کی کرنیں پوری دنیا تک جا پہنچیں لیکن جب رسول اللہ ص کی قائم کردہ اسلامی حکومت کی باگ دوڑ آپ کے بعض نام نہاد پیروکاروں کے ہاتھوں آئی تو نا صرف رسول اللہ ص کے طرز حکمرانی کو فراموش کر دیا گیا بلکہ ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کی گئی ایسے نام نہاد جانشینوں کے مظالم کے تذکرہ کا یہ مختصر آرٹیکل متحمل نہیں ہو سکتا یہاں صرف اسی جزیرہ العرب میں دور جہالت کی یاد تازہ کرنے والے حکمرانوں کا تذکرہ مقصود ہے آج اسی سرزمین پر ایک ایسی حکومت قائم ہے جس کا اسلام سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ہے یہ وہی سرزمین ہے جس پر رسول اللہ ص نے کھڑے ہو کر نا صرف دنیا بھر کے ظالموں کو چیلنج کیا تھا بلکہ اپنے الہی اقدامات کے ذریعے ظلم و ستم کا شکار انسانیت کو ظلم کے چنگل سے نجات بھی عطا کی تھی لیکن یہ کسی کو کہاں معلوم تھا کہ ایک وہ وقت بھی آئے گا کہ اسی سرزمین پر رسول رحمت کا نام لے کر بدوؤں کا ایک گروہ پوری دنیا میں دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن جائے گا بقول علامہ اقبال۔
کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی ص
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بو لہبی
سعودی حکمران امریکہ اور اسرائل جیسے اپنے ہمنواؤں کے ساتھ مل کر ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں کیا اس بات میں اب بھی کسی کو شک ہے کہ دنیا بھر میں جاری ہشت گردی کے تانے بانے سعودی حکمرانوں سے ہی ملتے ہیں اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ فلسطین کے مظلوم مسلمان اسرائیلیوں کے ظلم پر مسلمان حکمرانوں کی راہ دیکھتے ہیں کہ شاید مدد کے لئے آئیں لیکن یہی نام نہاد مسلمان حکمران علی الاعلان اسرائیل کی مدد اور پشت پناہی کرتے ہیں دوسری طرف سعودی حکمرانوں کے ظلم کا سیاہ باب یمن میں بھی رقم ہو رہا ہے جہاں صرف ایک سعودی گماشتے کی حکومت کو بچانے کے سعودی حکمرانوں نے یمن کی عوام کو خاک و خون میں نہلا دیا اور اب صرف سعودی حکمرانوں کے مظالم سے پردہ ہٹانے پر سعودی عرب کے معروف عالم دین باقر النمر سمیت ۴۶افراد کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا ہے ان سب پر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا ہر انسان یہ بات جانتا ہے کہ داعش ہو،القاعدہ ہو،بوکو حرام ہ یا النصرہ فرنٹ سب کی فکری بنیادیں انہی سعودی حکمرانوں سے ملتی ہیں اب سعودی حکمرانوں کے مظالم اس نہج پر گئے ہیں کہ جہاں حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے لیکن ظلم سے نہیں
اور آج تک کی تاریخ نے اس بات کو ہمیشہ سچ ثابت کیا ہے یہ بات سعودی حکمرانوں کے متعلق بھی جلد سچ ثابت ہونے والی ہے۔