اصل قصوروار کون؟ حکمران، ہماری مڈل کلاس یا دستبرداری کا ت

Posted on December 27, 2015



حضرت شاہ ولی اللہ دھلوی کہتے ہیں جس معاشرے میں دولت کی تقسیم غیر منصفانہ ہو وہ معاشرہ دو دھاری تلوار کی طرح ہوتا ہے جو دونوں طرف کاٹتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے کی صورت بالکل ایسی ہی ہے۔ ایک طرف تو دولت کے انبار لگے ہیں، پیسے کا ضیاع، نمودونمائش اور عیاشیاں ہیں۔ طاقت کے نشے میں چور ایک اشرافیہ ہے جو بلٹ پروف گاڑیوں میں ایک تکبرانہ انداز میں دلوں کی کرچیاں کرتے گزر جاتی ہے۔
اور دوسری طرف ایک وہ طبقہ ہے جہاں بھوک ہے، افلاس ہے۔ تضحیک اور محرومیاں ہیں۔ اور جہاں دو وقت کی روٹی کے لئے کمر توڑ دینے والی محنت ہے۔
شاہ ولی اللہ دھلوی کہتے ہیں جب ایسا ہو جائے تو انسان، انسان نہیں رہتا بلکہ اس کی حیثیت ایک باربرداری کے اونٹ کی سی ہو جاتی ہے۔
جی ہاں آخر انسان، انسان کیونکر رہے؟
جہاں بھوک اور فاقوں کے پہرے ہوں، بچوں کی سسکیوں کی نذر ہوتی معصوم سی حسرتیں، انصاف کی تلاش میں دربدر ٹھوکریں کھاتی کسی بیوہ کی ڈوبتی ہوئی امیدیں، اور جہاں اس بربریت پسند معاشرے کے دھتکارے ہوئے وحشت زدہ چہرے ہوں۔ وہاں پھر انسانیت نہیں بے حسی اور حیوانیت ہی پروان چڑھا کرتی ہے۔
کیا کوئی تصور کرسکتا ہیں ایک بیمار بچے کے باپ کی بے بسی کا کہ جس کی جیب میں علاج کے پیسے نہ ہوں، یا تصور کرے کوئی ایک ماں کے دکھتے کلیجے کا جو اپنے پھول سے بچے کو تیار کرکے سکول بھیجنے کی بجائے، روٹی کا ڈبہ دے کر کسی خرادئیے یا مکینک کے پاس بھیجتی ہو۔
اور یہی سب نہیں، ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ عدم وسائل کی وجہ سے کردار کی مکمل تشکیل نہ ہونے کے باعث ہم انہیں جاہل، ان پڑھ اور نہ جانے کن، کن القابات سے نوازتے ہیں۔ اور اپنے تمام احساسات میں لپٹا جب ایک مزدور روزی روٹی کے لئے نکلتا ہے تو ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ اخلاق کا کوئی اعلی نمونہ ہوگا۔ وہ جھوٹ نہ بولے، ملاوٹ نہ کرے، دھوکہ نہ دے……پہلے سیاستدان اور پھر ان کے پروپیگنڈہ میں آکر ہم اپنے تمام تر گناہوں اور نااہلیوں کا ملبہ ان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل میں بیماریوں کی جڑ نظام کی خرابی ہے اور یہ خرابی ان بے چاروں کی پیدا کی ہوئی نہیں ہے۔ یہ تو محض باربرداری کا ایک اونٹ بن کر رہ گئے ہیں جن کے ذہن میں صرف ایک چیز ہے، اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی۔
تو کون ہے قصور وار پھر اس ہولناک معاشرتی تفریق کا؟ کیا روایتی طور پر ان حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر یہ اطمینان کرلیں کہ حق ادا ہوگیا؟ یا پھر اس سے بھی پہلے شاید یہ دیکھنا چاہیے کہ اصل مجرم ہے کون؟

کسی بھی معاشرے میں مڈل کلاس کو ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا رہا ہے، ایک طرف جہاں معیشت میں مثبت نتائج پیدا کرتی ہے دوسری طرف قدرے بہتر مواقع میسر ہونے کی وجہ سے مختلف درپیش مسائل کے حل کا بہتر ادراک رکھتی ہے، اور یوں طبقاتی تقسیم کو کم کرنے میں فعال کردار ادا کر سکتی ہے۔ جس معاشرے کی مڈل کلاس جتنی زیادہ سرگرم ہو گی وہ معاشرہ اتنا ہی زیادہ باشعور ہوگا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ آپ اسے خودغرضی سمجھ لیں یا خود پسندی لیکن ہماری مڈل کلاس کا ایک بڑا حصہ آج بھی خود کو سماجی نوعیت کی سرگرمیوں سے الگ رکھنا پسند کرتا ہے۔ سیاست تو اکثریت کے نزدیک کوئی نہایت پلید چیز ہے جس سے دور رہنا فرض العین بلکہ باعث اجر عظیم سمجھا جاتا ہے۔
ویسے دین سے رغبت کا معاملہ کوئی برا نہیں، نماز ،روزہ سے لے کر صدقہ و خیرات، تمام ارکان کی پابندی ہے مگر افسوس صد افسوس دین صرف اسی کو سمجھ بیٹھے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بشر ہو کر بھی، بشریت کے تقاضوں سے آشنا نہیں، جبھی تو عوام کو درندہ صفت حکمرانوں کے حوالے کئے بیٹھے ہیں۔

اور دوسری طرف کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں شاید سیاسی لیڈر کو ایک روحانی پیشوا کے درجہ پر رکھنے کا درس ملا ہوا ہے۔ جمہوریت کی بقا، حسن جمہوریت، ملک کے وسیع مفاد میں، مفاہمت کی پالیسی پر یقین ہونا…. وغیرہ وغیرہ یہ وہ جملے ہیں جو مرشد کی طرف سے بطور ورد کے ملے ہیں۔ جمہوریت کا تو جیسے جن چمٹ گیا ہو، جبھی تو جمہوریت، جمہوریت چبتے رہتے ہیں۔ لیکن جمہوریت نام ہے صرف الیکشن کا، الیکشن کے بعد سربراہ کو حق حاصل ہے (بمعہ اہل و عیال اور دوست احباب) کہ وہ آئیں اور اس ملک کی قسمت کا جو فیصلہ کرنا چاہیں کریں، ملک کو آئی ایم ایف کے ہاتھ گروی رکھ دیں، ادارے تباہ کر دیں، انفراسٹرکچر کے نام پر ٹینڈر اپنوں میں بانٹیں یا تعلیم اور صحت کا بجٹ سڑکوں اور پلوں پر لگا دیں، سب اجازت ہے۔ اور ہاں سوال کرنا گستاخی کا مرتکب ہونے کے مترادف ہے، کیوں ؟ کیونکہ آئیں بالادست ہے، جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
پتہ نہیں دولت سے مرغوبیت ہے یا عرصہ دراز سے غلامی میں رہنے کا اثر؟ لیکن جب ایک غریب قوم کا ہمدرد چنتے ہیں تو وہ جو خود اپنے شاہانہ انداز میں قیصر و کسری کے بادشاہوں سے کسی طور کم نہ ہو۔ بیس کروڑ مسلمانوں کے امیر کے طور پر ایسے حکمرانوں کا انتخاب کرتے ہیں جو خود چیچک کی طرح سکینڈلز زدہ اور جن کا اپنا پورا وجود حرام میں ڈوبا ہو۔ اللہ کی پناہ، آج ہم پر ایسے حکمران قابض ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے حکم کے خلاف پوری قوم کو سود پر لگا دیا ہے۔
لیکن میں ان حکمرانوں کو قصوروار نہیں ٹھہراوں گا۔ اللہ کا قانون ہے کہ وہ حد سے گزرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا، اور یہ شاید حد سے گزر چکے ہیں۔ یہ ملک اور قوم کے دشمن ہیں۔ اور دشمنوں کو نہ تو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے نہ ہی رحم کی اپیل کی جاتی ہے۔
میرے نزدیک اصل قصوروار ہم خود ہیں۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ایک خاص پروپیگنڈہ کے ذریعے، الیکشن اور حکومت کے تمام تر نظام کو خالصتاً ایک دنیاوی نفع و نقصان اور ہار، جیت کے ایک کھیل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سیاستدانوں کے ساتھ، ساتھ بہت سے نام نہاد دانشور بھی اس کھیل کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ اور جس کا شکار آج اکثر ہمارے لکھے پڑھے اور مدبر لوگ بھی نظر آتے ہیں۔ حالانکہ کہ معاملہ صرف دنیاوی نہیں ہے، آپ کا ووٹ، آپکی گواہی ہے۔ اور یاد رکھیں جھوٹی گواہی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اسی طرح ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے۔
ہمیں یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم آج آخر فرد شناسی جیسی خوبی سے محروم کیوں ہیں، میرے نزدیک اس کا اصل تعلق ہم میں خود شناسی کا سرے سے موجود ہی نہ ہونا ہے۔ ہم نے اللہ کو بھلانے کی کوشش کی اللہ نے ہمیں اپنے آپ سے بھلا دیا۔ ہمیں آج اپنی منزل کا ہی پتہ نہیں، ملک اور قوم کی بات کی جاۓ تو اسے ہی منزل اور مقصد سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہماری اصل منزل اسلام اور اصل مقصد آخرت ہے۔ جس دن ہمیں یہ بات سمجھ میں آگئی اس دن ہمیں اسی نظام میں سے اچھے حکمران بھی ملنا شروع ہو جائیں گے اور ہم ایک بہتر قوم بن کر ابھریں گے۔ و اللہ سبحانہ تعالی اعلم