“پاک فوج سے شہدا کے سوال “

Posted on December 17, 2015 Articles



میرا کالم zamtv پر شہدا آرمی پپلک سکول پر ۔

“پاک فوج سے شہدا کے سوال ”

آج 16 دسمبر ہے اور شہدا آرمی پپلک سکول کی قربانیوں کو ایک سال مکمل ہو گیا ۔ جب ساری دنیا پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے پر اسکی نیت پر شک کر رہی تھی اور ہم سب کو ہر طرح کا یقین دلانے کی کوشش کرتے تھے مگر ہر کوہی ہم پر یقین نیں کرتا تھا اور ہمیں شک کی نظر سے دیکھتا تھا ۔ پھر معصوم پھولوں نے اپنا لہو دے کر پوری دنیا کو یقین دلایا کہ ہم سچ میں دہشت گردی کے خلاف ہیں ۔ جب معصوم پھولوں کو خون میں نہلایا گیا ماوں کو رولایا گیا تب قوم اور دنیا کو یقین آیا کہ ہم پرامن لوگ ہیں ۔پوری قوم سمجھتی تھی کہ طالبان حق پر ہیں مگر بچوں کی قربانی نے ساری قوم کو یکجا کر دیا ۔ پوری قوم آرمی کے ساتھ گھڑی ہوگی ۔ وہ آرمی جس کے جوان شہید ہو رہے تھے مگر قوم ان کو شہید مانے کے لیے تیار نہ تھی ۔ان بچوں کے خون نے ان کو بھی شہید کا درجہ دیا۔
آج آرمی کے ہر جوان کی شہادت ان معصوم بچوں کی شہادت کی مرہوم منت ہے ۔
دوستوں جب ساری قوم نے آرمی کو آختیار دیا کہ وہ دشمنوں اور دہشت گردوں کا خاتمہ کرے ۔
پھر پورے پاکستان میں ضرب عزب شروع ہوگیا ۔ پوری قوم کو یہ یقین ہوگیا کہ اب پاکستان سے ہمشہ کے لیے دہشت گردی کا ناسور ختم ہوجاے گا، جہالت کا خاتمہ ہوجاے گا، ہر دشمن ، چور اور پاکستان کو کھانے والا اب جیل میں ہوگا ۔ اب یہ پاکستان آزاد ہوگا ۔ ہر پاکستانی کو اس میں پاکستان کی بقاہ نظر اور امید پیدا ہوگی کہ آرمی اب ان دہشت گردوں اور ان کو پالنے والوں ، ان کے ہمدردوں اور ان کے آقاؤں جہنم واصل کرے گی ۔ آرمی چیف جناب راحیل شریف نے اعلان کیا کہ اب کوہی بچ نہ سکے گا ۔ ہمیں جینے کی امید ہوگی کہ اب ہمارا پاکستان امن کا گوارہ بنے گا۔ آپریشن شروع ہوا روز یہ پتہ چلتا کہ آج اتنے مارے گے آج اتنے بھاگ گے ۔ پھر کرتے کرتے بات دہشت گردوں کے ہمدردوں تک آپونچھی ۔
قوم ISI اور آرمی سے بار بار ایک سوال کرتی تھی کہ ان دہشت گردوں کو اسلحہ کون دیتا ہے ،ان کو تربیت کون دیتا ہے ،ان کے زہین کون بناتا ہے ،ان کو پیسے کون دیتا ہے، یہ جن ہیں یا فرشتے ،یہ آتے کہاں سے ہیں ۔
یہ سوال قوم کر کر کے تھک گی مگر آرمی نے کوہی جواب نہ دیا لوگ مرتے رہے یہاں تک کہ 70000 سے زیادہ لوگوں نے قربانی دے دی پرامن پاکستان کے لیے ۔پھر بچوں کی شہادت نے ان سوالوں کے جواب دیے اور دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا ۔ کراچی کو پرامن بنایا گیا ۔
آج بچوں کی روحیں سوال کرتیں ہیں کہ آپ نے ضرب عزب تو کیا دہشت گرد مارے مگر وہ آستین کے سانپ جنھوں نے ان کو پالا ان کو مدد دی وہ تو آج اسطرح پھر رہے ہیں ان کو کوہی کورنے والا نیں ۔وہ جیسے پہلے پاکستان کو لوٹ رہے تھے آج بھی لوٹ رہے ہیں ۔ وہ جیسے پہلے پاکستان کو بیچ رہے تھے آج بھی بیچ رہے ہیں ۔وہ سارے ہمدرد اج بھی حکومتوں کے مزاے لیے رہیے ہیں اور ہماری شہادتوں کا مزاق اڑا رہے ہیں ۔
آج آرمی انھیں سے پوچھ رہی ہے کہ جناب ہم آپ کو پکڑ سکتے ہیں کیا؟
آپ ہمیں اختیار دہیں کہ ہم آپ کو جیل میں ڈال دہیں ۔
شہید بچوں روحیں سوال کررہی ہیں کہ اب بھی آپ بھیگ مانگے گے اختیار کی ۔
اپ کو پھر انتظار ہے کسی کے خون کا ۔ پھر ملک خون میں ڈوبے گا تو آپ کی خیرت جاگے گی کیا؟
کیا ہماری قربانیاں کافی نیں اپ کو اختیار دینے کے لیے اور وہ جو اخیتار قوم نے اپ کو دیا تھا اسکا کیا؟
آج زرداری نواز مک مکا نے آرمی کو اتنا بے بس کر دیا ہے کہ اسے اب اختیار کی بھیگ مانگی پڑھ رہی ہے ۔
ایک سال پہلے صرف ایک شخص تھا طاہرالقادری جو یہ کہتا تھا کہ حکومت سب ڈرامہ کررہی ہے ضرب عزب پر جب آرمی کا ہاتھ ان کے اپنے گریبان تک جاے گا تو سب ایک ہوکر آپ کو بے بس کر دیں گے اس وقت سب اسکا مزاق آڑا رہے تھے ۔
آج ایمان سے دیکھو وہی ہو رہا ہے ۔
آے آرمی چیف راحیل شریف صاحب قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ شہد بچوں کی روحیں آپ کو پکار رہیں ہیں ۔ ماڈل ٹاون والے آپ کے نیں تھے وہ قادری صاحب کے تھے مگر آرمی پپلک سکول والے تو آپ کے بچے تھے خدارا ان کی شہادتوں کی لاج رکھ لو انکی روحوں سکون بخش دو۔
اب کسی سے اجازت نہ لو بلکہ ان کو بھاگنے کی اجازت نہ دو ۔
اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ اپ نے افتخار چھودری اور اشفاق پرویز کیانی بنانا ہے یا ۔۔۔۔۔اپنے شہید گھرانے کی لاج رکھنی ہے ۔
فیصلہ آپ کا ۔۔۔۔۔۔۔!
از محمد خلیفہ