اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور اسحاق ڈار

Posted on December 12, 2015



اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور اسحاق ڈار
شیراز محمود خاکوانی

کبھی کبھی لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں کا امیج بہتر بنانے والاکوئی ادارہ ہے۔ یہ کسی بھی سیاستدان پر ہاتھ ڈالتے ہیں اور ساری قوم سمجھتی ہے کہ یہ شخص بہت برا ہے۔ لیکن پھر کچھ عرصہ گزر جاتا ہے اور وہ سیاستدان ایسا پاک صاف ہو کے نکلتا ہے کہ فرشتے بھی رشک کریں۔ یہی حال ڈاکٹر عاصم کا ہے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ جس اسٹیبلشمنٹ کو ہم اتنا عقلمند سمجھتے ہیں اور ہر سازش کا منبہ سمجھتے ہیں وہ اس قدر احمقانہ حرکتیں بھی کر سکتی ہے ۔ پہلے دن جب ڈاکٹر عاصم کو پکڑاگیا اور اس نے توتے کی طرح بولنا شروع کیا تو سارا پاکستان اس انتظار میں تھا کہ جن لوگوں کے نام لئے جا رہے ہیں وہ آج پکڑے جاتے ہیں کہ کل۔ لیکن تین مہینے گزر گئے اور کسی کو پکڑنا تو دور کی بات کسی کا نام تک نہیں لیا گیا۔ اب جب عدالت پوچھے گی کہ سہولت کار کو تو آپ پکڑ کے لے آئے ہو لیکن جو اصل ملزم ہیں ان سے تو آپ نے تفتیش تک نہیں کی تو کیا جواب دیں گے؟ پہلے تو یہ امید تھی کہ شائد زرداری یا فریال تالپور پر ہاتھ ڈلے گا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا یہ امیدبھی دم توڑتی گئی کہ جو چھوٹے چھوٹے کارندے ہیں ان میں سے ہی شائد کوئی پکڑا جائے۔ اگر ان کارندوں پر وقت پہ ہاتھ ڈال دیا گیا ہوتا تو نہ صرف نئے انکشافات ہوتے، بڑے مجرموں کے خلاف کیس مضبوط ہوتا بلکہ ڈر کی وجہ کئی لوگ غلط کاموں سے بھی باز رہتے۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم ایک ہیرو بنتا جا رہا ہے، رینجرز اور فوج ولن بنتے جا رہے ہیں، قائم علیشاہ جیسا شخص سبز ’چائے’ پی کے ٹارزن بن گیا ہے اور جو کرپشن کچھ کم ہوئی تھی وہ پھر پورے زور سے شروع ہو گئی ہے۔ ویل ڈن ۔ اب کچھ مشورے۔ آپ کا بنیادی کام کسی سیاستدان کو بدنام کرنا نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے لئے ان کے کرتوت ہی کافی ہیں۔ آپ کو جن کے کرپٹ یا دہشت گرد ہونے کا یقین ہے ان کے مطلق پوری انفرمیشن لیں، کسی اچھے وکیل اور جیگ برانچ سے ائرٹائٹ کیس بنوائیں اور پھر مجرموں پر ہاتھ ڈالتے وقت کسی دبائو یا کسی سیاست کی پروا نہ کریں۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ جہاں ایک سیاستدان پر ہاتھ ڈالیں وہیں کم از کم دس بیوروکریٹس پر ہاتھ ڈالیں۔ کوئی سیاستدان بغیر کسی بیوروکریٹ کی مدد کے کرپشن نہیں کر سکتا۔ اور اگر سیاستدان کرپشن کا دس روپیہ کھاتا ہے تو باقی نوے روپے بیوروکریٹس کھاتے ہیں۔ اگربیوروکریٹس کے دل میں سزا کا خوف بیٹھ جائے تو بڑی کرپشن دو ہفتے میں صفر ہو جائے۔

دوسرا موضوع ہے عدلیہ۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ پاکستان کے اس حالت تک پہنچنے کا ذمہ دار کون ہے۔ سیاستدان اس تنقید کا سب سے آسان شکار ہیں، کچھ لوگ فوج کو اسکا ذمہ دار سمجھتے ہیں، کچھ امریکہ کو اور کچھ یہودوہنود کو۔ ذاتی طور پر میں اس بات پر قائل ہوں کہ جو ادارہ اسکا سب سے زیادہ ذمہ دار ہے وہ عدلیہ ہے۔ پاکستان میں کچھ ہو جائے، قتل، دہشت گردی،چوری، ڈاکا، کرپشن، اسکا فیصلہ کس نے کرنا ہے؟ عدلیہ نے۔ کب کرنا ہے؟ اس جنم میں تو نہیں۔ مسلم لیگ (ن) اس ملک کی واحد جماعت ہے جس کے پاس انصاف خود ہی چل کر آجاتا ہے۔ آج بھی اگر کرپشن کا کوئی کیس اٹھایا جاتا ہے تو وہ سارے پاکستان میں کہیں سے بھی ہو سکتا ہے لیکن پنجاب سے نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پنجاب میں فرشتے حکومت کرتے ہیں۔ حالانکہ نندی پور، ایل این جی، رانا مشہود، ماڈل ٹائون جیسے کتنے ہی کیس ہیں جن پر نوٹس لیا جا سکتا تھا۔ لیکن مجال ہے اس طرف نظر اٹھتی ہو۔ ڈاکٹر عاصم کا کیس تو ابھی چلنا ہے اور اس کے مجرم ہونے کا تو سو فیصد یقین سے کوئی نہیں کہ سکتا لیکن رانا مشہود کی وڈیو تو ساری دنیا نے دیکھ لی ہے اور جس کے سر میں ذرا سی بھی عقل ہے وہ اس وڈیو کے اصل ہونے پہ یقین کرے گا کیونکہ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج ہے اور ایسی ایڈیٹنگ ہالی ووڈ والے بھی نہیں کر سکتے۔ تصویر کو بدلنا اور بات ہے اور وڈیو کو بدلنا اور بات۔ جب اتنے واضح ثبوت کے بعد بھی عدلیہ سزا نہیں دیتی تو معاشرے کی نفسیات پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور لاقانونیت بڑھتی ہے۔ اب ہمیں ایک اور چیف جسٹس ملے ہیں جو ماشاء اللّہ بہت عالم فاضل ہیں۔ ان کا کام ہے کہ سارے پاکستان کے مسئلے بتاتے رہیں لیکن ان کے حل کے لئے کچھ نہ کریں۔ اس معاملے میں جسٹس جواد خواجہ یدِطولی رکھتے تھے۔ ٹنوں کی باتیں کیا کرتے تھے اور چھٹانکوں کے فیصلے۔ یہ سارے جج قانون کے ہر سقم کو جانتے ہیں تو حکومت کو مجبور کیوں نہیں کرتے کہ قانون کے یہ نقائص دور کئے جائیں؟ عدلیہ کا یہی رویہ دیکھ کے فوج نے پارلیمنٹ کی گردن پر انگوٹھا رکھ کے بائیسویں ترمیم کروائی کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اگر عدلیہ کے آسرے پر بیٹھے رہے تو ملک ہاتھ سے جائے گا۔ پاکستان میں ہزاروں دہشتگردی کی وارداتیں ہوئیںْ آج تک کتنے دہشتگردوں کو سزائیں ہوئیں؟ جن لوگوں نے فوجیوں کے گلے کاٹے اور ان کی وڈیو فلمیں بنائیں ان لوگوں کو بھی آج تک عدالتیں سزا نہیں دے سکیں۔ یہ سارا کام تو ان لوگوں کو اتنی بھاری تنخواہیں دئیے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس پاکستان کی تنخواہ دس لاکھ روپے ماہانہ کے آس پاس ہے جبکہ گاڑیاں وغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔ ریٹائر ہونے کے بعد تقریبا اتنی ہی رقم بطور پنشن ملتی ہے۔ افتخار چوھدری کے بعد سے عدلیہ نے سیاست میں برابر کا حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ایک مافیا کا سا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا۔ چن چن کے ایسے جج لگائے گئے جو افتخار چوھدری کی ذھنیت سے مطابقت رکھتے تھے۔ وکلاء کو کھلی چھٹی دی گئی چاہے جتنی مرضی وکلاء گردی کریں۔ اپنے پسندیدہ وکلاء کو بے تحاشا نوازا گیا اور انھی کے چیمبرز سے ججز بھرتی کئے گئے۔ توہین عدالت کے قانون کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ میں بلا خوف تردید کہتا ہوں کہ اتنے توہین عدالت کے نوٹس کسی اور ملک میں نہیں دئیے گئے ہوں گے جتنے پاکستان میں افتخار چوھدری کے بعد سے دیئے گئے ہیں۔ اگر فوج بندوق کے زور پر لوگوں کی زبان زیادہ عرصہ بند نہیں رکھ سکی تو یقین رکھیں کہ آپ بھی توہین عدالت کے زور پر زیادہ عرصہ لوگوں کی زبان بند نہیں رکھ سکیں گے۔

آخری موضوع ہے اسحاق ڈار۔ جھوٹے دھوکے باز تو دنیا میں اور بھی ہوں گے لیکن اس شخص کا اپنا ہی مقام ہے۔ جب ٹی وی پر بیٹھ کر معیشت کے بارے میں بتاتے ہیں تو لگتا ہے ہماری معیشت امریکہ کی معیشت سے اوپر ہے ۔ نمبروں کا ایسا جال بنتے ہیں کہ اچھے اچھے پھنس جائیں۔ پروگرام ختم ہوتے تک بندہ مطمئن ہو جاتا ہے کہ ملک کی معیشت مضبوط ہو چکی ہے اور بس کسی وقت آسمان سے ڈالر گرنے لگیں گے۔ پھر اگلے دن بندہ اخبار پڑھتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ نوازشریف حکومت اکتوبر۲۰۱۳ سے ستمبر۲۰۱۵ تک ۷ ارب۶۲ کروڑ ڈالر قرضہ لے چکی ہے۔ ۴ ارب ڈالر کی امداد اس کے علاوہ ہے۔ پیٹرول جس پر ملک کا سب سے زیادہ زرِمبادلہ لگتا ہے وہ اس وقت ٹکے سیر بک رہا ہے۔ سٹیل مل تقریباََ بند ہونے والی ہے۔ پی آئی اے کو اونے پونے بیچنے کی تیاری مکمل ہے۔ پاکستان کے بیرونی قرضے ۶۸ ارب ڈالر ہونے والے ہیں۔ کوئی تو بتائے کہ اچھی معیشت کہاں ہے؟ نہ کسان خوش ہے نہ تاجر نہ صنعتکار تو ترقی کون کر رہا ہے؟ اسٹیبلشمنٹ کو چاہیئے کہ معیشت پر خود نظر رکھے اور جتنی جلدی ہو سکے اس منشی سے جان چھڑوائیں کیونکہ یہ تو ملک بیچ کر دبئی جا بیٹھے گا اور بھگتیں گے ہم لوگ۔