شام کے آنسو۔۔۔

Posted on December 11, 2015



شام کے آنسو۔۔۔
“عرب بہار ” کے نام سے شروع ہونے والی تحریک نے دنیا کا نقشہ تبدیل کردیا،آج سےچھ،سات سال قبل کوئی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ دنیا کے عموما اور عرب ممالک کے خصوصایہ حالات ہوجائیں گے۔
تیونس سے شروع ہونے والی عرب بہار کے نتائج دیکھ کر بہت سے لوگ اس تحریک کو” عرب خزاں” اور بیرونی سازش سے تعبیر کرتے ہیں،لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ تیس چالیس سال سے قابض حکمرانوں نے عوام کو مجبور کردیا تھا کہ وہ سڑکوں پر نکل آئیں۔عوامی طاقت سے تیونس کے صدر کو معزول ہوناپڑا،مصر میں حسنی مبارک ایوان صدر سے جیل کے سلاخوں کے پیچھے جا پہنچے،اور لیبیا کے معمر قذافی نامعلوم مقام پر مدفون ہوگئے،شخصیات بدل گئی،مسائل کم نہ ہوئے،وجہ یہ ہے کہ ہر تحریک کے نتائج بعد میں سامنے آتے ہیں،40 سال سے چلنے والے نظام کے فنا ہونے کے بعد نئے نظام کے استقرار میں وقت لگتا ہے،رسول اللہ ۖ کی بعثت کے تیرا سال بعد مسلمانوں کو مدینہ میں استقرار ملا،لیکن ضمیر مطمئن تھے کیونکہ ظلم کو سامنے اپنا سر نہیں جھکایا تھا۔
تیونس،لیبا اور مصر میں تو معاملات میں کسی حدتک توقف آگیا ہے لیکن شام میں 5 سال جاری جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آرہی،ہر چڑھتے سورج کے ساتھ جنگ میں نیا موڑ آتا ہے،حالات مزید پیچیدہ ہوتے ہیں،نئی تحاریک اور تنظیمیں جنم لیتی ہے،اور سب سے حیران بات یہ کہ اب عالمی طاقتیں شام میں اپنے پنجے گاڑھتی نظر آرہی ہے۔ساری دنیا کے مسلمان پریشان ہیں کہ خدایا ماجرا کیا ہے ،کون برحق ہے اور کون باطل کے لیے کوشاں ہے،قیاس آرائیوں اور تبصروں کے شور میں ان کروڑوں شامی شہریوں کی آواز دب کر رہ جاتی ہے جو کیمپوں میں موسم،حالات اور قوانین کے سایئہ شفقت میں اقوام متحدہ کاغذی معاہدوں اور عالم اسلام کی بے حسی کا نظارہ کررہے ہیں،ان شامی معصوم شہریوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے جو اب تک جنگ زدہ علاقوں میں محصور ہے،اس خوف کے ساتھ کہ کبھی بھی ہزاروں فٹ بلندی سے گرنے والا بم ان کی زندگی کو خاک اور خون میں بدل دیں گا،اور بصر وبصیرت سے محروم دنیا اس بات پر جشن منائی گی کہ “دہشتگرد” مار دیے گئے!!!
میدانی صورتحال یہ ہے کہ روس اور ایران شام کے سفاح قاتل بشارالاسد کی ناجائز حکومت کو بچانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں،دوسری طرف امریکہ اور سعودی عرب پیسہ اور تربیت کے ذریعہ باغی افواج کی مدد کررہے ہیں،جہاں تک داعش کاتعلق ہے تو وہ ان سارے ممالک کے دشمن ہونا کا دعوی کرتے ہیں لیکن ان کے اسلحہ کا رخ مسلمان کی ہی طرف ہوتا ہے۔حال ہی میں فرانس،برطانیہ اور جرمنی بھی اس جنگ کے حصہ دار بننے کا شرف حاصل کرچکے ہیں۔موجودہ صورتحال کو دیکھ کر معلوم کچھ یوں ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات حاصل کرنے کے غرض سے مسلمانوں کے جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئےشیعہ اور سنی ممالک کے درمیان ایک بڑی جنگ کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں جوکہ عالمی جنگ کی صورت بھی اختیار کرسکتی ہے۔سنی ممالک کی سربراہی سعودیہ عرب اور امریکا جبکہ شیعہ ممالک کی سربراہی ایران اور روس کریں گے،جس طرح اب تک اس جنگ میں روس اور امریکا کا نقصان نہ ہونے کے برابر ہے، جنگ کے دوران بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے بجائے حمایتی مسلمان ممالک (ایران اور سعودیہ عرب) کو نشانہ بنائیں گے،اور نتیجہ یہ ہوگا کہ مزید مسلمان ممالک تباہ ہونگے،مزید مسلمان شہری قتل یابے گھر اور مجموعی طور پر دنیا میں اسلام مزید کمزور ہوگا،فی الحال عالمی طاقتوں کی یہ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان ممالک کو اس آگ میں دھکیلا جائے ،اسی غرض سے پاکستان پر یمن کی جنگ میں شرکت کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا اور اسی غرض سے روس ترکی سے چھیڑخانی مصروف ہے۔
اس خوفناک صورتحال کی ذمہ دار جہاں خونخوار عامی طاقتیں وہی وہ نادان اور جذباتی خیالات کے حامل شیعہ اور سنی تنظیمیں بھی ہے جو ایک دوسرے کے خون کو حلال کیے ہوئے ہیں اور نادانی میں عالمی طاقتوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں،حالات اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ ہم عاشورا کے جلوس چہلم کی رسموں اور یوم فاروق کی ریلیوں میں وقت ضائع کرے،اور ایک دوسرے سے دست وگریباں ہو،بلکہ حالات کا تقاضا ہے کہ اتحاد واتفاق کا ماحول ہو۔

osama altaf