New Taxes

Posted on December 4, 2015



میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب ملک عزیز کا وزیر خزانہ خود یہ اعتراف کرے کہ پاکستان کا پیسہ ملک سے باہر بھیجا جا رہا ہے. اور وہی اسحاق ڈار اس قوم پر نئے ٹیکس لگا کر کہتا ہے کہ ان ٹیکسز کا عام یعنی غریب آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تو مجھے کوئی بتلائے کہ کیا اسے یہ نہیں پتہ کہ پاکستان کا ایک عام آدمی اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ ایک ٹوتھ پیسٹ یا شیمپو بھی نہیں خرید سکتا. جبکہ اسی وزیر خزانہ کو کرنا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اسی عام یا غریب آدمی میں اتنی طاقت پیدا کرے کہ وہ ان سستی اشیاء کو با آسانی خرید سکے لیکن افسوس نہ تو اتنی عقل اس عوام میں تھی کہ اتنا سوچ سکے اور نہ اتنی شرم ان حکمرانوں میں تھی کہ کم از کم اپنی توپوں کا رخ اس طبقے کی طرف نہ رکھے جو پہلے ہی بھوک پیاس اور غربت سے روز مر رہا ہے، لیکن کیا کہنے کہ صرف سڑکیں اور میٹرو پہ اس ملک کا تعلیمی اور صحت کا بجٹ لگا کر بھی وزیراعظم صاحب کہتے ہیں کہ ہمیں افسوس نہیں کہ ہم نے تعلیم اور صحت کا بجٹ میٹرو بسوں پر لگایا. لیکن یہں بس نہیں دوسری طرف جب اسی ملک پاکستان کے اس عام اور غریب آدمی کو ملتا ہوں تو وہ بجائے ان حکمرانوں کو ننگا کرے مجھ سے لڑتا ہے کہ میں ان جاھل اور بے حس حکمرانوں کو برا بھلا بھی نہ کہوں. اسی عام اور غریب آدمی سے جب میں پوچھتا ہوں کہ عام انتخابات ميں تمہارا انتخاب کون ہو گا تو وہ مجھے اسی شخص کا نام لے کر چونکا دیتا ہے جو شخص ایک غریب سے سب کچھ خریدنے کی طاقت چھین رہا ہے اس کے بچوں کی تعلیم اور اسکے خاندان کی صحت کا بجٹ سڑکوں اور میٹرو جیسے بے بنیاد اور کمیشن اکٹھا کرنے والے منصوبوں پر اجاڑ رہا ہے تو پھر مجھے اپنے خدا کی کہی بات ماننی پڑتی ہے کہ جیسی رعایا یعنی عوام ویسے حکمران.

طالب دعا – سعد ریاض.