فرانس حملے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست

Posted on November 20, 2015



فرانس حملے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست

یہود و نصوری کی سازشیں سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں۔۔۔ ہم کچھ اور سمجھتے ہیں اور ان کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔۔۔ سوچنے کی بات ہے کہ پیرس جہاں اسلحے کی خریدو فروخت پر مکمل پابندی ہے۔۔۔ نہ ہماری طرح اسلحےکی مارکیٹیں ہیں اور نہ ہی ان کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔۔جہاں سے دہشت گرد رات کے اندھیرے میں داخل ہوں گے اور سیکورٹی منہ تکتی رہ جائے گی۔۔۔ وہاں اتنے دہشت گرد اور اتنی بڑی مقدار میں کسیے اتنا اسلحہ جمع ہوا ۔۔۔
حملہ توہو گیا پر اس کے بعد جو حالات اور اقدامات کیے جا رہے ہین ان سے لگتا ہے کہ یہ حملہ بھی نائن الیون کیطرح بہت بڑی سازش ہوئی مسلمانوں کے خلاف۔۔۔۔۔۔۔جس طرح مسلمانوں کے خلاف نفرف پھیلائی جا رہی ہے۔۔۔ اور انھیں دہشت گرد ثابت کیا جا رہا ہے۔۔۔ اس سے ان کی منافقت کھل کے سامنے آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔ کہ وہ اب کوئی بڑی گیم کیھلنے جا رہے ہیں جس کی سمجھ ہمیں آنے والے وقت میں آئے گی۔۔۔ ابھی فلحال ہمیں یہ نہیں سمھ آ رہا کہ ہم اپنی فیس بک کی ڈی پی فرانس کے غم میں بدلیں یا نہیں۔۔۔۔
مصدقہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ فرانس حملوں کے بعد وہاں مساجد کے خلاف کریک ڈاّون شروع ہے۔۔۔چن چن کے مساجد میں تالے لگائے جا رہے ہیں ۔۔۔ اور امام مسجدوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔۔۔۔
مساجد بند کرنا انتہائی غیر مناسب اور غلط اقدام ہے۔انھیں حوصلے سے کام لینا چاہیے۔۔ کیا ڈرون حملوں کے بعد پاکستان میں چرچ بند کر دیے جاتے ہیں۔۔ پادریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے؟ کشمیر میں بے گناہوں کے خون کے بعد کیا مندروں کو بند کر دیا جاتا ہے۔۔۔ ؟ ان گوروں کو میری نصیحت ہے کہ اگر برداشت سکیھنی ہے تو ہم سے سیکھو۔۔۔۔
مسلمان سارے دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ دہشت گردوں نے مسلمانوں کا روپ دھار لیا ہے اور مسلمان خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔۔۔ دہشت گردی میں سب سے زیادہ نقصان بھی مسلمانوں کا ہوا ہے۔۔۔ تو پھر کیوں کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔